رسائی کے لنکس

دہشت گردوں کی مالی اعانت پر 64 مشتبہ افراد گرفتار

  • عشرت سلیم

مبصرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی میں استعمال ہونے والے پیسے کا پتا چلانا انتہائی مشکل کام ہے مگر مستقل کوششوں کے ذریعے اس میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

پاکستان کے مختلف صوبوں میں محکمہ انسداد دہشت گردی نے قومی لائحہ عمل کے تحت 64 افراد کو مبینہ طور پر دہشت گردوں کو مالی اعانت فراہم کرنے پر گرفتار کر لیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق پنجاب میں 41 ایسے کیس رپورٹ کیے گئے جن میں 57 افراد ملوث تھے۔

حکام کے مطابق پنجاب میں اب تک 51 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

اس کے علاوہ سندھ میں پانچ افراد کو دہشت گردوں کو مالی اعانت فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا جبکہ خیبر پختونخوا میں محکمہ انسداد دہشت گردی نے چار کیسوں میں آٹھ افراد کو گرفتار کیا۔

اس کے علاوہ گلگت بلتستان کے ضلع دیمامر میں دہشت گردوں کو پناہ اور خوراک فراہم کرنے کے الزام میں 28 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

پاکستان نے دسمبر 2014 میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد انسداد دہشت گردی کا قومی لائحہ عمل تشکیل دیا تھا جس میں ایک نکتہ دہشت گردوں کی مالی اعانت کو روکنا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی میں استعمال ہونے والے پیسے کا پتا چلانا انتہائی مشکل کام ہے مگر مستقل کوششوں کے ذریعے اس میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ امریکہ نے بھی پاکستان کو اس سلسلے میں مدد کی پیش کش کی ہے۔

پاکستانی عہدیدار یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس شعبے میں اب تک خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کی جا سکی۔

ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل امجد شعیب نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دہشت گردی کی مالی اعانت کے علاوہ کئی اور طریقوں سے بھی سہولت کاری کی جاتی ہے جس کا پتا چلانا اہم ہے۔

’’جب دہشت گرد کسی جگہ سے آ کر یہاں ٹھہرتے ہیں تو ان کو ٹھہرانے والے لوگ موجود ہیں جو ان کو ہتھیار یا خودکش جیکٹ وغیرہ مہیا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہدف کا معائنہ وغیرہ کرتے ہیں۔ بڑے شہروں میں عموماً باہر سے آکر لوگ دہشت گردی کرتے ہیں۔ ان کے سیل اور سہولت کار پہلے سے موجود ہوتے ہیں شہروں میں۔ تو اس کا تجزیہ کرنا پڑے کا کہ لوگوں نے کس کس شکل میں سہولت کاری کی ہے۔‘‘

بدھ کو باچا خان یونیورسٹی میں ہونے والے حملے کے بعد پاکستانی حکام نے کہا تھا حملہ آوروں کے سہولت کار قریبی علاقوں میں مقیم تھے جنہوں نے افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کو ناصرف پناہ دی بلکہ ان کو اسلحہ فراہم کیا اور یونیورسٹی کے حدود اربع سے بھی آگاہ کیا۔

پاکستان کی حکومت یہ کہہ چکی ہے کہ وہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے گی۔

نومبرمیں پاکستان کی قومی اسمبلی نے ملک میں دہشت گردوں کی مالی اعانت روکنے اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010ء کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اس میں ترامیم منظور کی تھیں۔

گزشتہ سال جون میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی اعانت روکنے کے لیے بینکوں اور مالیاتی اداروں کے لیے ضوابط بھی جاری کیے۔

XS
SM
MD
LG