رسائی کے لنکس

شہاب الدین اور موسیٰ گیلانی کی ضمانت کی درخواستیں خارج


مخدوم شہاب الدین (فائل فوٹو)

مخدوم شہاب الدین (فائل فوٹو)

عدالت نے دونوں کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے ان کو حراست میں لینے کا حکم دیا ہے۔

پاکستان کی ایک عدالت نے وفاقی وزیر برائے ٹیکسٹائل مخدوم شہاب الدین اور رکن قومی اسمبلی علی موسیٰ گیلانی کی ضمانت قبل از گرفتاری خارج کرتے ہوئے ان کو حراست میں لینے کا حکم دیا ہے۔

ایفیڈرین کیس میں انسداد منشیات کی ایک عدالت کی جانب سے وارنٹ جای ہونے کے بعد دونوں ملزمان نے لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر رکھی تھی لیکن پیر کو ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے ان کی ضمانتیں خارج کر دیں۔

دونوں ملزمان عدالت میں موجود نہیں تھے تاہم شہاب الدین کے وکیل نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ ان کے موکل اس فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ سے رجوع کریں گے۔

شہاب الدین سابق وزیراعظم گیلانی کی کابینہ میں وزیر صحت رہ چکے ہیں اور ان پر الزام ہے کہ انھوں نے بعض دوا ساز کمپنیوں کو مقررہ کوٹے سے زائد مقدار میں ’ایفیڈرین‘ درآمد کرنے کی اجازت دی۔

جب کہ علی موسیٰ گیلانی پر بھی الزام ہے کہ انھوں نے بطور وزیراعظم گیلانی کے بیٹے کے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے ایفیڈرین کا اضافی کوٹہ من پسند کمپنیوں کو دلوایا۔ مخدوم شہاب الدین اور علی موسیٰ گیلانی دونوں ہی ان الزامات کی نفی کر چکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG