رسائی کے لنکس

تقرریاں اور تبادلے نگراں حکومت کا کام نہیں: سپریم کورٹ


عدالت عظٰمی نے وفاقی حکومت سے 4 جون کو اس بارے میں جواب طلب کیا ہے اور کہا ہے کہ متاثرہ افسران بھی اس سلسلے میں عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے بدھ کو نگراں حکومت کی جانب سے کئی سرکاری اور نیم سرکاری محکموں میں اعلیٰ افسران کی تقرریوں اور تبادلوں کے احکامات کو معطل کر دیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اداروں میں تقرریاں یا تبادلے نگراں حکومت کے دائرہ اختیار میں نہیں بلکہ اس کا کام صرف روزمرہ کے معاملات چلانا اور انتخابات کرانا ہیں۔

عدالت عظٰمی نے وفاقی حکومت سے 4 جون کو اس بارے میں جواب طلب کیا ہے اور کہا ہے کہ متاثرہ افسران بھی اس سلسلے میں عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔

سماعت کے بعد وائس آف امریکہ سے گفتگو میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نگراں حکومت کے اس اقدام سے ان کی نیت پر شکوک کا اظہار کیا جا رہا تھا۔

’’نگراں حکومت کا کردار تو محدود ہوتا ہے…. جو آسامیاں دو ماہ سے خالی تھیں، اس میں کیا ہرج تھا کہ وہ کچھ دن اور خالی رہتیں۔ ہم اس لیے (عدالت) آئے ہیں کہ یہ سب بند ہو اور نگراں حکومت آئندہ اپنے دائرہ اختیار سے نا باہر جائے۔‘‘

نگراں وزیر قانون احمر بلال صوفی پہلے ہی وزیراعظم کے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کر چکے تھے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ نئی آنے والی حکومت کو بھی سرکاری محکموں میں تقرریوں اور تبادلے میں ’میرٹ‘ اور قوائد و ضوابط کا احترام کرنا ہو گا۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کی حکومت سپریم کورٹ کو اس بارے میں شکایت کا موقع نہیں دے گی۔

’’سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کا یہ حق ہے کہ وہ حکومت کے غلط اقدامات پر اس کی سرزنش کرے اور سپریم کورٹ ماضی میں اس سلسلے میں اسی لیے فعال تھی کہ پارلیمنٹ اپنی ذمہ داریاں (نہیں نبھا رہی) تھی۔‘‘

میاں نواز شریف کی جماعت مسلم لیگ (ن) سابق قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت رہی ہے۔

اُدھر نگراں وزیر اعظم میر ہزار خان کھوسو نے ملک میں بڑھتے ہوئے توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے 1000 سی سی سے بڑی نجی گاڑیوں کو سی این جی کی فراہمی پر پابندی عائد کر دی ہے۔

پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے سی این جی اسٹیشن کے مالک کو ایک لاکھ روپے تک جرمانہ اور سی این جی اسٹیشن کو 6 ماہ کے لیے بند کیا جا سکتا ہے۔

گزشتہ ہفتے ہی حکومت نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کا اعلان کیا تھا۔

تحریک انصاف کے سینیئر نائب صدر حامد خان ان اعلانات کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’ایسے فیصلے تو منتخب حکومت پر چھوڑنے چاہیں جن کے دورس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ (آنے والی) حکومت چاہتی ہو کہ تمام غیر مقبول اقدامات یہ کر لیں اور پھر ہم کہیں کہ یہ ہم نے تو نہیں کیے۔‘‘

تاہم خواجہ آصف گیس اور بجلی سے متعلق فیصلوں کو روزمرہ کے معاملات قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں۔

’’سی این جی والی گیس اگر پاور جنریشن میں استعمال کر لی جائے تو لوڈ شڈنگ کسی حد تک کم ہو سکتی ہے۔ تو ایسے معاملات ہیں جو فوری توجہ مانگتے ہیں۔‘‘

پاکستان کو اس وقت توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے نمٹنے کے لیے حکومت کو کچھ سخت اقدامات کرنے ہوں گے جن میں توانائی پر ان کے بقول غیر منصفانہ سبسڈی یا رعایت کا خاتمہ اور توانائی کے ضیاع کو روکنا بھی شامل ہیں۔
XS
SM
MD
LG