رسائی کے لنکس

’سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم سویلین و فوجی قیادت کے حکم پر کی ‘


رقوم کی تقسم کا مقصد 1990ء کے عام انتخابات میں مقتول بینظیر بھٹو کی جماعت ’پیپلز پارٹی‘ کو واضح اکثریت سے محروم کرنے کے لیے مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں پر مشتمل ’اسلامی جمہوری اتحاد‘ کی تشکیل تھی۔

ملک کی سیاست میں پاکستانی فوج کے انٹیلی جنس ادارے ’آئی ایس آئی‘ کی مبینہ مداخلت سے متعلق مقدمے کے ایک اہم کردار یونس حبیب نے جمعرات کو سپریم کورٹ میں پیش ہو کر اپنا بیان قلمبند کرایا۔

اُنھوں نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنیچ کے سامنے یہ اعتراف کیا کہ 1990ء کے انتخابات میں انھوں نے اس وقت کے ملک کے صدر غلام اسحاق خان اور آرمی چیف اسلم بیگ کے کہنے پر سیاستدانوں میں تقریباً 35 کروڑ روپے تقسیم کیے۔

مہران بینک کے سابق صدر یونس حبیب نے اس معاملے پر اپنے کردار پر غیر مشروط معافی مانگی اور کہا کہ رقم وصول کرنے والوں میں نواز شریف سیمت کئی قد آور سیاسی شخصیات اور سرکاری افسران بھی شامل تھے۔

یونس حبیب نے بتایا کہ انھیں سابق آرمی چیف اسلم بیگ نے 35 سے 40 کروڑ روپے کا انتظام کرنے کو کہا تھا اور اُن کے پاس ماسوائے اس حکم کی تعمیل کے کوئی اور چارہ نہیں تھا۔ اپنے بیان میں سابق بینکار نے کہا کہ سابق فوجی سربراہ جنرل اسلم بیگ نے انہیں سابق صدر غلام اسحاق خان سے بھی ملوایا تھا۔

اس غیر معمولی مقدمے کی سماعت کے موقع پر فوج کے سابق سربراہ اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل اسد درانی بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے جو اپنے بیان حلفی میں پہلے ہی سیاستدانوں میں رقوم تقسیم کرنے کا اعتراف کر چکے ہیں۔

اصغر خان

اصغر خان

رقوم کی تقسم کا مقصد 1990ء کے عام انتخابات میں مقتول بینظیر بھٹو کی جماعت ’پیپلز پارٹی‘ کو واضح اکثریت سے محروم کرنے کے لیے مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں پر مشتمل ’اسلامی جمہوری اتحاد‘ کی تشکیل تھی۔

سپریم کورٹ میں زیر سماعت یہ مقدمہ سینیئر سیاست دان اصغر خان نے 1996ء میں دائر کیا تھا لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر یہ آئینی درخواست التوا کا شکار رہی تاہم سیاسی حلقوں خصوصاً حکمران پیپلز پارٹی کے قائدین کے مطالبات کے بعد عدالت عظمٰی نے رواں سال 29 فروری سے اس کی دوبارہ سماعت شروع کر رکھی ہے۔

جمعرات کو عدالتی کارروائی کے بعد اصغر خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس مقدمے کے ممکنہ حتمی فیصلے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگلے 64 سال ہمارے پچھلے 64 جیسے نا ہوں یہ اس مقدمے کی اہمیت ہے اور اگر اس سے تصیحح ہو سکتی ہے، اگر اداروں کو واضح ہدایات مل سکتی ہیں، اگر افسران کو واضح ہدایت مل سکتی ہے اور آئندہ کے طور طریقے بدل سکتے ہیں تو یہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہو گی‘‘۔

پاکستان کی سیاست میں خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا کردار کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور نا ہی عدالت عظمیٰ میں اس مقدمے کے فیصلے کے کوئی خاطر خواہ نتائج متوقع ہیں لیکن ناقدین کا ماننا ہے کہ اس کی وجہ سے مستقبل میں ہونے والے انتخابات میں کسی بھی ریاستی ادارے کی مداخلت کی کوشش کی حوصلہ شکنی ضرور ہو گی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG