رسائی کے لنکس

”38سالوں میں 256 ارب روپے سے زائد کے قرضے معاف کیے گئے“

  • محمداشتیاق

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

سپریم کورٹ میں منگل کو ایک مقدمے کی سماعت کے دوران سٹیٹ بینک نے گذشتہ 38سالوں کے دوران بینکوں سے معاف کرائے گئے قرضوں کی ایک طویل فہرست عدالت میں پیش کی ہے جس کے تحت6,69,819 افراد نے 256 ارب روپے سے زائد کے قرضے معاف کرائے ہیں۔

مقدمے کی کارروائی کے بعد سٹیٹ بینک کے وکیل اور سابق وزیرقانون اقبال حیدر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ 1971ء سے دسمبر 2009 ء کے عرصے کے دوران پانچ لاکھ روپے سے زائد رقم کے قرضے معاف کرانے والوں کی تعداد 23 ہزار سے زائد ہے اور اُن کے ذمہ واجب الادا رقم 213 ارب روپے تھی جب کہ چھ لاکھ 46 ہزار سے زائد افراد نے پانچ لاکھ سے کم مالیت کے 42 ارب 87 کروڑ روپے کے قرضے معاف کرائے ہیں۔


اقبال حیدر کا کہنا ہے کہ متنازع قومی مصالحتی آرڈیننس کے خلاف سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے چیف جسٹس کے نام ایک خط میں مطالبہ کیا تھا کہ ماضی میں معاف کیے گئے قرضوں پر بھی عدالت نظر ثانی کرے کہ کس قانون کے تحت قومی دولت کو معاف کیا گیا اور اُس خط کے تناظر میں عدالت عظمیٰ نے 22 دسمبر کو ایک تفصیلی فیصلے میں حکم دیا تھا کہ ملک کے تمام بینک معاف کیے گئے قرضوں کے کوائف سٹیٹ بینک کے ذریعے عدالت میں پیش کریں ۔


عدالت عظمیٰ میں قرضے معاف کرانے والوں کی فہرست تقریبا ً 10 جلدوں پر مشتمل ہے اوربہت سے افراد نے اپنی کمپنیوں کے ناموں پر قرضے حاصل کیے تھے اور اقبال حیدر کے بقول وہ ان فہرستوں میں سیاست دانوں کے ناموں کی شمولیت سے انکار نہیں کرسکتے۔ سٹیٹ بینک کے وکیل کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ قرضے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں معاف کیے گئے۔


منگل کو عدالتی کارروائی میں نجی بینکوں نے بھی ایک درخواست دائرکی کہ مقدمے کی سماعت میں اُن کو بھی فریق بنایا جائے جس کے بعد مالیاتی ادارے بھی اپنا موقف عدالت میں پیش کر سکیں گے کہ کن حالات اور کس بنیاد پریہ قرضے معاف کیے گئے۔ وکلاء کے مطابق عدالت مقدمے کی آئندہ سماعت کے لیے تاریخ کا اعلان بعد میں کرے گی۔

خیال رہے کہ این آراو کے خلاف عدالت عظمیٰ کے فیصلے بعد ملک کی دیگر سیاسی جماعتیں بھی یہ مطالبہ کرتی آئی ہیں کہ سیاسی بنیادوں پر معاف کیے جانے والے قرضوں کے کوائف منظر عام پر لائے جائیں تاہم ان فہرستوں کے سامنے آنے کے بعد نہ تو حکومت اور نہ دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے آمنے آیا ہے۔

XS
SM
MD
LG