رسائی کے لنکس

گزشتہ چھ مہینوں کے دوران 903جوڑوں نے کورٹ میں شادی کی درخواست دی۔ درخواست دینے والے جوڑوں کی عمریں 19 سے24 سال کے درمیان ہیں

پاکستان میں گھر والوں کی پسند کے مقابلے میں اپنی پسند سے کورٹ میں جاکر شادی کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اگرچہ، معاشرے میں اپنی پسند کی شادی کرنے والوں کی مخالفت میں کمی نہیں آئی، اور اکثر ایسے بھی واقعات ہوئے ہیں کہ شادی کرنے کے ’جرم‘ میں لڑکے اور لڑکی کو قتل تک کر دیا گیا۔ لیکن، اِس کے باوجود، کورٹ میرج کا رجحان بڑھا ہے۔

روزنامہ ’ایکسپریس ٹربیون‘ کی ایک خبر کے مطابق، فیصل آباد کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں نوجوان جوڑوں کی طرف سے اپنی شادی رجسٹر کرانے کے لئے ہر مہینے اوسطاً 150 درخواستیں موصول ہوتی ہیں۔

کورٹ کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ چھ مہینوں کے دوران 903 جوڑوں نے کورٹ میں شادی کی درخواست دی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ شادی کی درخواست دینے والے جوڑوں کی عمریں 19 سے24 سال کے درمیان ہیں۔

903جوڑوں میں سے 668 نے ڈسٹرکٹ کورٹ میں تحفظ فراہم کرنے کی درخواستیں بھی جمع کرائیں۔ تحفظ فراہم کرنے کی زیادہ تر درخواستیں خواتین کی جانب سے جمع کرائی گئیں۔

درخواستوں میں گھر والوں کی مرضی کے خلاف شادی کرنے کے نتیجے میں اہل خانہ اور سسرال والوں کی طرف سے تشدد کا نشانے بنانے اور غیر قانونی طور پر حبس بے جا میں رکھنے کی شکایات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

کورٹ میر ج کرنے والے لڑکوں کے خلاف لڑکی کے والدین عام طور پر لڑکی کے اغوا کا مقدمہ درج کرواتے ہیں۔ لیکن، زیادہ تر کیسز میں جب پولیس ’اغوا ہونے والی لڑکی‘ کو بازیاب کراتی ہے تو وہ عدالت میں بیان دیتی ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر شادی کی ہے اور اسے کسی نے اغوا نہیں کیا۔ ایسی صورتحال میں جوڑے یہ بیان بھی دیتے ہیں کہ وہ والدین کے ساتھ رہنا نہیں چاہتے۔

پسند کی شادی کرنے والے ایک جوڑے نصیر احمد اور امینہ احمد نے سیشن کورٹ کو بتایا کہ وہ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ والدین سے شادی کی اجازت لی جو انہوں نے نہیں دی اس لئے وہ کورٹ میں شادی کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ہم نے کئی مہینے پہلے گھر سے بھاگ کر کورٹ میرج کی تھی لیکن ہمار ے والدین اب بھی ہمیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ ہم نے پرسکون زندگی گزارنے کے لئے عدالت سے تحفظ مانگا ہے‘۔
XS
SM
MD
LG