رسائی کے لنکس

ناقص ادویات اسکینڈل : سپریم کورٹ کا تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کا حکم


ناقص ادویات اسکینڈل : سپریم کورٹ کا تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کا حکم

ناقص ادویات اسکینڈل : سپریم کورٹ کا تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کا حکم

پنجاب کے ایک سرکاری اسپتال کی طرف سے فراہم کی گئی مفت مگر غیر معیاری ادویات استعمال کرنے سے امراض قلب میں مبتلا افراد کی ہلاکتوں میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے اور پچھلے پانچ ہفتوں میں حکام کے بقول کم از کم ایک 116 مریض موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔

صوبائی حکومت نے اپنے طور پر اس اسکینڈل کی تحقیقات شروع کر رکھی ہیں اور مبینہ جعلی ادویات تیار کرنے والی دوا ساز کمپنیوں کے خلاف بعض اقدامات بھی لے رکھے ہیں۔ لیکن بظاہر ان پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایک روز قبل سپریم کورٹ نے اس معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے صوبائی اور وفاقی حکام کو طلب کیا تھا۔

منگل کو جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ کے سامنے پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل اشتر اوصاف نے اس معاملے کے بارے میں صوبائی حکومت کی ابتدائی طبی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا کہ زیادہ تر ہلاکتیں دل کا دورہ پڑنے سے ہوئیں۔

عدالت کو صوبائی حکومت کی طرف سے بتایا گیا کہ پنجاب انسٹیویٹ آف کارڈیالوجی کو ادویات فراہم کرنے والی دوا ساز کمپنیوں کے تین مالکان وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف آئی اے‘ کی حراست میں ہیں جن سے تفتیش جاری ہے۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ تین دوا ساز کمپنیوں میں سے ایک کمپنی بغیر اجازت نامے ہی کے ادویات تیار کر رہی تھی۔

صوبائی حکومت کا موقف سننے کے بعد جسٹس تصدق حسین جیلانی نے یہ کہہ کر دو دوا ساز کمپنیوں کے مالکان کی فوری رہائی کا حکم دیا کہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے کسی کو حراست میں نہیں رکھا جا سکتا۔

عدالت عظمیٰ نے ’ایف آئی اے‘ کو حکم دیا کہ وہ اس پورے معاملے کی اپنے طور پر تحقیقات کر کے رپورٹ چھ فروری کو تین رکنی بینچ کے سامنے پیش کرے۔

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے فراہم کی جانے والی خراب ادویات مریضوں سے واپس لی جا چکی ہیں جب کہ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومتوں کو بھی ان مریضوں سے ادویات واپس لینے کے لیے کہا گیا ہے جو خاص طور پر پنجاب کے سرکاری اسپتال سے یہ ادویات لینے کے لیے آئے تھے۔

XS
SM
MD
LG