رسائی کے لنکس

بابر اعوان کی تنقید پر سپریم کورٹ کی برہمی

  • یاسر منصوری

بابر اعوان کی تنقید پر سپریم کورٹ کی برہمی

بابر اعوان کی تنقید پر سپریم کورٹ کی برہمی

سپریم کورٹ میں پیر کے روز ہونے والی کارروائی کے دوران میمو اسکینڈل پر یکم دسمبر کے عدالتی فیصلے پر پیپلز پارٹی کے سینیٹر بابر اعوان کی تنقید کو توہین عدالت قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق کو ہدایت کی کہ اگر بابر اعوان کے خیالات حکومت کے موقف کی نمائندگی کرے ہیں تو عدالت کو اس کا تحریری جواب دیا جائے۔

امریکی قیادت کو بھیجا گیا متنازع میمو یا خط اس وقت سیاسی حلقوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور مبصرین کے خیال میں اس کی وجہ سے پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت دباؤ کا شکار بھی نظر آ رہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ میمو اسکینڈل کی تحقیقات کے سلسلے میں سپریم کورٹ میں دائر 11 آئینی درخواستوں کی پیر کو ہونے والی سماعت کے موقع پر ذرائع ابلاغ نے اس بارے میں لمحہ با لمحہ خبروں کا سلسلہ جاری رکھا لیکن کمرہ عدالت میں اس معاملے پر کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم نو رکنی بنچ نے کہا کہ مقدمے کی باقاعدہ کارروائی شروع کرنے سے پہلے عدالت یہ تعین کرے گی کہ آیا آئینی درخواستیں قابل سماعت ہیں بھی یا نہیں۔

عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کی وجہ وفاق اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کا اپنے جوابی بیانات میں یہ اصرار ہے کہ میمو اسکینڈل کی بنیاد مفروضوں پر قائم ہے، اس لیے عدالت کو اس معاملے سے متعلق آئینی درخواستیں خارج کر دینی چاہیئں۔

پیر کو عدالتی کارروائی کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ قابل تعریف ہے۔

’’میرا خیال ہے آج عدالت نے بڑے اچھے طریقے سے بات کی ہے اور میں اس (بات) سے متفق ہوں، ہم بڑے خوش ہیں کہ اُنھوں نے کہا کہ ہم پہلے یہ دیکھیں کہ درخواستیں قابل سماعت بھی ہیں یا نہیں۔‘‘

میمو اسکینڈل کیس میں جوں جوں پیش رفت ہو رہی ہے خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کے استعفیٰ کے مطالبات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

پیپلز پارٹی کی اہم اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ سمیت کئی سیاسی رہنما حالیہ دنوں میں جنرل پاشا کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر چکے ہیں کیوں کہ اُن کے بقول یہ اقدام میمو معاملے کی شفاف تحقیقات یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔

عاصمہ جہانگیر نے بھی پیر کے روز آئی ایس آئی کے سربراہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’اس معاملے (میمو اسکینڈل) کے حساب سے تو مجھے نہیں پتا کہ اُن کو استعفیٰ دینا چاہیئے یا نہیں، ایک سیاسی و سماجی کارکن کے حساب سے میرا تو خیال ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کو اس دن ہی استعفیٰ دے دینا چاہیئے تھا جس دن اسامہ بن لادن ایبٹ آباد سے نکلے۔‘‘

سپریم کورٹ میں پیر کے روز ہونے والی کارروائی کے دوران میمو اسکینڈل پر یکم دسمبر کے عدالتی فیصلے پر پیپلز پارٹی کے سینیٹر بابر اعوان کی تنقید کو توہین عدالت قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق کو ہدایت کی کہ اگر بابر اعوان کے خیالات حکومت کے موقف کی نمائندگی کرے ہیں تو عدالت کو اس کا تحریری جواب دیا جائے۔

سپریم کورٹ میں میمو اسکینڈل سے متعلق آئندہ سماعت جمعرات کو ہو گی۔

XS
SM
MD
LG