رسائی کے لنکس

چیئرمین نیب کی تعیناتی غیر قانونی، سپریم کورٹ


چیئرمین نیب کی تعیناتی غیر قانونی، سپریم کورٹ

چیئرمین نیب کی تعیناتی غیر قانونی، سپریم کورٹ

اکتوبر 2010 میں جسٹس ریٹائرڈ دیدار کی بطور چیئرمین نیب تقرری کےبعد مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنماء اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار اور ایک دوسرے شخص شاہد اورکزئی نے اُن کی تعیناتی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کر رکھی تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ دیدارشاہ پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر سندھ اسمبلی کے دو مرتبہ رکن رہ چکے ہیں اور احتساب کے اس قومی ادارے کے سربراہ کا غیرجانبدار ہونا ضروری ہے۔

\ سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے انسداد بدعنوانی کے ادارے کے سربراہ کی تقرری کو غیر قانونی قرار دیئے جانے کے بعد قومی احتساب بیورو ’نیب ‘کے چئیرمین جسٹس ریٹائرڈ دیدار حسین شاہ نے اپنا عہدہ فوری طور پر چھوڑ دیا ہے۔

اکتوبر 2010 میں جسٹس ریٹائرڈ دیدار کی بطور چیئرمین نیب تقرری کےبعد مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنماء اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار اور ایک دوسرے شخص شاہد اورکزئی نے اُن کی تعیناتی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کر رکھی تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ دیدارشاہ پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر سندھ اسمبلی کے دو مرتبہ رکن رہ چکے ہیں اور احتساب کے اس قومی ادارے کے سربراہ کا غیرجانبدار ہونا ضروری ہے۔

ان درخواستوں پر جمعرات کو مختصر فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بنچ نے چیئرمین نیب کی تقرری کو کالعدم قرار دے دیا ۔

قانون کے مطابق قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کی تقرری سے قبل قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سے مشاورت ضروری ہے لیکن چوہدری نثار علی خان نے اپنی درخواست میں موقف اپنایا کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اس سلسلے میں اُن سے مشور ہ نہیں کیاتھا ۔

پیپلز پارٹی کے صوبائی قائدین نے سندھ سے تعلق رکھنے والے جسٹس ریٹائرڈ دیدار کی تقرری کو غیر آئینی قرار دیئے جانے کے عدالتی فیصلے پر جمعہ کو سندھ میں ہڑتال کی کال دی ہے۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے ایک فیصلے میں حکومت کوپابند کر رکھا ہے کہ عارضی معاہدوں کے تحت اہم اداروں میں سربراہان کی تعیناتی نہیں کی جاسکتی۔ اس سے قبل عدالت عظمیٰ کے حکم پر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے منافع بخش سرکاری ادارے آئل اینڈ گیس دویلپمنٹ اتھارٹی ’او جی ڈی سی ایل‘ کے سابق سربراہ عدنان خواجہ کو اُن کے عہدے سے ہٹا دیا تھا ۔ سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے حکومت سے کہا کہ تھا کہ عدنان خواجہ نیب سے سزا یافتہ ہیں اس لیے اُن کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے۔

اعلیٰ سرکاری اداروں کے سربراہان کی تعیناتی عدالت عظمی اور حکومت کی درمیان وجہ تنازع بنی ہوئی ہے اور اس وقت تمام نظریں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے سربراہ وسیم احمد پر لگی ہوئی ہیں کیوں کہ نہ صر ف اُن کی تعیناتی پر قانونی سوالات اُٹھائے گئے ہیں بلکہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے مطابق حج انتظامات میں بدعنوانی کے ایک مقدمے کی غیر جانبدار تحقیقات کی راہ میں وسیم احمد رکاوٹ ہیں۔

سپریم کورٹ نے حکومت سے کہہ رکھا ہے کہ وسیم احمد کو اُن کے عہدے سے ہٹایا جائے لیکن تاحال ایسا نہیں کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG