رسائی کے لنکس

” عدلیہ کے فیصلے کے بغور جائزے کے بعد اس پرعمل درآمد کیا جائے گا“

  • محمداشتیاق

” عدلیہ کے فیصلے کے بغور جائزے کے بعد اس پرعمل درآمد کیا جائے گا“

” عدلیہ کے فیصلے کے بغور جائزے کے بعد اس پرعمل درآمد کیا جائے گا“

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں جاری کیے گئے اس متنازع قانون کو سپریم کورٹ نے ایک ماہ قبل کالعدم قراردیا تھا اور اس فیصلے کی 287 صفحات پر مشتمل تفصیلات منگل کی شب جاری کی گئیں

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بدھ کو اسلام آباد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی حکومت عدلیہ سمیت تمام اداروں کے احترام پر یقین رکھتی ہے اس لیے سپریم کورٹ کی طرف سے قومی مصالحتی آرڈیننس یعنی این آراو کو کالعدم قرار دیے جانے کے تفصیلی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے اُنھوں نے اپنے قانونی ماہرین سے صلاح و مشورے شروع کردیے ہیں اور بغور جائزے کے بعد اس پرعمل درآمد کیا جائے گا۔

عدالت عظمیٰ کے تفصیلی فیصلے میں صد ر آصف علی زرداری کے سوئٹزرلینڈ میں مبینہ بینک اکاؤنٹس سے متعلق مقدمات دوبارہ کھولنے کی ہدایت کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ ان تمام معاملات پر حکومت مشاورت کررہی ہے اور قانونی ماہرین کی حتمی آراء سے قبل نتائج اخذ کرنے سے گریز کیا جانا چاہیئے۔

واضح رہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں جاری کیے گئے اس متنازع قانون کو سپریم کورٹ نے ایک ماہ قبل کالعدم قراردیا تھا اور اس فیصلے کی 287 صفحات پر مشتمل تفصیلات منگل کی شب جاری کی گئیں۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ تفصیلی فیصلے کے اجراء کے بعد اب یہ بات کھل کر واضح ہو گئی ہے کہ چاہے وہ صدر آصف علی زرداری ہوں یا پھر حکومت میں موجود اُن کے قریبی ساتھی سب ہی کے لیے قانونی دقتیں پیدا ہو گئی ہیں۔ لیکن بقول سابق وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزاد ہ کے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر من وعن عمل درآمد سے حکومت ان قانونی پیچیدگیوں سے بچ سکتی ہے۔

خیال رہے کہ این آراو کے تحت آٹھ ہزار سے زائد افراد کے خلاف 1986ء سے 1999ء کے درمیان قائم کیے جانے والے بدعنوانی اورفوج داری کے مقدمات ختم کردیے گئے تھے اور جو سیاست دان اس سے مستفید ہوئے اُن میں صدر آصف علی زرداری کے علاوہ پیپلز پارٹی کے وزراء اور اراکین پارلیمان بھی شامل ہیں جب کہ پیپلزپارٹی کی اہم اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے خودساختہ جلاوطن لیڈر الطاف حسین اور اُن کی پارٹی کے کئی مرکزی رہنماؤں کے خلاف بھی اس متنازع صدارتی حکم نامے کے تحت مقدمات ختم کیے گئے تھے لیکن عدالت عظمیٰ کی طرف سے 16 دسمبر کو اس قانون کو کالعدم قرار د یے جانے کے بعد یہ تمام مقدمات بحال ہو گئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG