رسائی کے لنکس

سپریم کورٹ: وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس خارج


وزیراعظم راجہ پرویز اشرف

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف

فاروق نائیک نے بتایا کہ سوئس حکام کو حکومت پاکستان کی طرف سے بھیجا گیا خط نو نومبر کو انھیں موصول ہو گیا جس کی رسید اور دیگر دستاویزات سپریم کورٹ میں پیش کی گئیں۔

پاکستان کی عدالت عظمٰی نے صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئٹزرلینڈ میں بدعنوانی کے ایک مقدمے کی بحالی کے لیے پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کی طرف سے خط ارسال کرنے کی تصدیق ہونے کے بعد بدھ کو وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس خارج کردیا۔

وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے بدھ کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے روبرو پیش ہو کر سوئس حکام کو حکومت کی طرف سے پہنچائے جانے والے خط رسید اور دیگر دستاویزات عدالت میں پیش کیں۔

فاروق نائیک نے بتایا کہ حکومت عدلیہ سے کسی طرح کی محاذ آرائی نہیں چاہتی۔۔۔

’’آج میں سمجھتا ہوں کہ انصاف کی اور جمہوریت کی فتح ہے، آج یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ حکومت پاکستان کوئی تصادم نہیں چاہتی ہے، چاہے کوئی بھی ادارہ ہو۔ سپریم کورٹ نے جو بھی حکم جاری کیا ہم نے اس کی تعمیل کی ہے اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس ملک میں جمہوریت پٹڑی سے نا اترے۔‘‘

فاروق نائیک نے کہا کہ صدر زرداری کے خلاف سوئس عدالتوں میں کوئی بھی مقدمہ زیر التوا نہیں اور ان کے بقول بینک کھاتے سے متعلق صرف تفتیش ہوئی تھی۔

معروف قانون دان ایس ایم ظفر کہتے ہیں کہ یہ مقدمہ ملک کی اعلٰی عدلیہ اور حکومت کے درمیان تین سال سے تناؤ کی وجہ بنا ہوا تھا جو آخر کار اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا ہے۔

’’یہ (فیصلہ) کتنا درست ہوا ہے اور کتنی دیر سے آیا ہے یہ تجزیہ طلب بات ہے۔ اس سے بلاشبہ راجہ پرویز اشرف کو تو یہ فائدہ پہنچا کہ ان کے خلاف جو نوٹس تھا وہ خارج ہو گیا اور سپریم کورٹ کی بھی کسی حد سرخر روحی ہوئی۔ لیکن قوم کو کتنا وقت ضائع ہوا اور کتنی ہوئی یہ دو معاملات تاریخ میں سوالیہ نشان کے طور پر رہے ہیں گے۔‘‘

سپریم کورٹ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں متعارف کرائے گئے ایک متنازع قانون ’این آر او‘ کو دسمبر 2009ء میں کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کے تحت ختم کیے گئے بدعنوانی اور دیگر ایسے جرائم سے متعلق تقریبا آٹھ ہزار مقدمات کی بحالی کا حکم دیا تھا۔

ان میں صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئٹزلینڈ میں ختم کیا جانے والا ایک مقدمہ بھی شامل تھا۔

لیکن پیپلزپارٹی کی مخلوط حکومت عدالتی احکامات یہ کہہ کر ماننے سے انکار کرتی رہی کہ صدر مملکت کو فوجداری مقدمات سے استثنٰی حاصل ہے۔ اس انکار پر سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے جرم میں سپریم کورٹ نے نااہل قرار دے کر گھر بھیجنے کے بعد اُن کے پیش رو راجہ پرویز اشرف کے خلاف بھی ایسی ہی کارروائی کرنے کا نوٹس جاری کر رکھا تھا۔
XS
SM
MD
LG