رسائی کے لنکس

سفری پابندی کے معاملے کو موخر کرنے کی درخواست مسترد


فائل فوٹو

امریکہ کی ایک وفاقی عدالت برائے اپیلز نے ٹرمپ انتظامیہ کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس میں عارضی سفری پابندی کے معاملے پر سماعت کو اس وقت تک موخر کرنے کا کہا گیا تھا جب تک صدر نیا حکم نامہ جاری نہیں کر دیتے۔

پیر کو سان فرانسسکو کی نائنتھ سرکٹ کورٹ آف اپیلز کے تین ججوں نے اس درخواست کو مسترد کرنے کے فیصلے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی۔

اسی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے حکم نامے کو معطل کرنے کے ایک ماتحت عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔

27 جنوری کو صدر ٹرمپ نے ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں ایران، عراق، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن کے شہریوں اور پناہ گزینوں کے امریکہ میں داخلے پر عارضی پابندی عائد کی گئی تھی۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان شان سپائسر سے پیر کو پوچھا گیا کہ اگر ٹرمپ امیگریشن سے متعلق نیا حکم نامہ جاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو انتظامیہ کورٹ آف اپیلز کے فیصلے کو چیلنج کرنے پر کیوں اصرار کر رہی ہے؟

اس کے جواب میں سپائسر کا کہنا تھا کہ "ایسے میں جب نئے حکم نامے میں عدالتی تحفظات کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے، اس اقدام کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ ملک کی سلامتی کی ضروریات سے متعلق قانون صدر کو اختیار دیتا ہے۔"

اپیلز کورٹ نے سفری پابندی کی آئینی حیثیت پر سوال اٹھایا تھا۔

بعض قانونی ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ تک جائے گا۔

XS
SM
MD
LG