رسائی کے لنکس

آصف زرداری کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کھولنے کی منظوری


آصف زرداری (فائل فوٹو)

آصف زرداری (فائل فوٹو)

عہدہ صدارت سے 2013ء میں سبکدوش ہونے کے بعد آصف زرداری کے خلاف پانچ ریفرنسز کھولے گئے تھے جن میں سے تین میں وہ بری ہو چکے ہیں۔

پاکستان کی ایک احتساب عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس دوبارہ کھولنے کی درخواست منظور کرتے ہوئے انھیں عدالت میں پیش ہونے کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔

قومی احتساب بیورو کی طرف سے حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے خلاف مبینہ غیر قانونی اثاثے بنانے کا ریفرنس دوبارہ کھولنے کی درخواست کی گئی تھی۔

جمعہ کو راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت نے اس معاملے پر سماعت کرتے ہوئے ریفرنس دوبارہ کھولنے کی منظوری دی اور سابق صدر کو 27 اپریل کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

یہ ریفرنس 2001ء میں دائر کیا گیا تھا جس میں جناب زرداری کے علاوہ ان کی اہلیہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔ لیکن دسمبر 2007ء میں محترمہ بھٹو کی ایک قاتلانہ حملے میں موت کے بعد ان کا نام اس ریفرنس سے خارج کر دیا گیا۔

پیپلزپارٹی 2008ء کے انتخابات میں کامیابی کے بعد برسراقتدار آئی تھی جس کے بعد آصف علی زرداری ملک کے منصب صدارت پر فائز ہوئے۔

صدر بننے کے بعد ان کے خلاف دائر مقدمات پر کارروائی روک دی گئی تھی کیونکہ انھیں صدارتی استثنیٰ حاصل تھا۔

لیکن پانچ سال بعد 2013ء میں عہدہ صدارت سے سبکدوش ہونے کے بعد دوبارہ پانچ ریفرنسز کھولے گئے جن میں سے تین میں وہ بری ہو چکے ہیں۔

سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے قومی مصالحتی آرڈیننس "این آر او" کے تحت آصف زرداری اور بینظیر بھٹو سمیت لگ بھگ آٹھ ہزار افراد کے خلاف مقدمات ختم کر دیے تھے لیکن بعد ازاں سپریم کورٹ کی طرف سے اس آرڈیننس کو کالعدم قرار دیے جانے سے یہ مقدمات دوبارہ کھل گئے تھے۔

پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کے قائد کے خلاف مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے اور ایک دہائی سے زائد عرصے تک ہونے والی کارروائیوں میں استغاثہ کچھ بھی ثابت نہیں کر سکا۔

XS
SM
MD
LG