رسائی کے لنکس

عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر آئندہ 24 گھنٹوں میں عمل درآمد کی یقین دہانی

  • ن ہ

عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر آئندہ 24 گھنٹوں میں عمل درآمد کی یقین دہانی

عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر آئندہ 24 گھنٹوں میں عمل درآمد کی یقین دہانی

قومی احتساب بیورورنے سپریم کورٹ کو منگل کے رو ز یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں اندرون ملک اور غیر ملکی عدالتوں میں بدعنوانی کے وہ تمام مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے جنہیں این آر او کی منسوخی کے بعد عدالت عظمیٰ نے بحال کرنے کا حکم جار ی کیا تھا۔

نیب کے چیئر مین نوید احسن نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں اس حوالے سے سماعت کرنے والے بنچ کو ایک تحریری بیان میں این آر او کے خلاف سپریم کورٹ کے گزشتہ دسمبر میں سنائے گئے فیصلے پر اب تک عمل درآمد نہ ہونے پر عدالت سے غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے بدھ تک کی مہلت طلب کی تاکہ وہ اس دوران سوئیٹزرلینڈ کے متعلقہ حکام سے رابطہ کر کے وہاں کی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات دوبارہ کھولنے کی درخواست بھی کریں گے۔

اس سے قبل منگل کو سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے نیب کے چیئرمین کوانتباہ کیا کہ اگر وہ اپنی قانونی ذمہ داری نبھانے میں ناکام ہو ئے تو اس کی پاداش میں عدالت ان کے خلاف ضروری کا رروائی کا حکم دے سکتی ہے۔ خیال رہے کہ سوئس عدالتوں میں زیر التو مقدمات کا تعلق صدر آصف علی زرداری سے ہے اور یہ مقدمات بھی این آر او کے تحت ہی پچھلی حکومت کی درخواست پر سوئیٹرزلینڈ کے حکام نے ختم کر دیے تھے۔

دریں اثناء منگل کو عدالت عظمٰی میں اُس وقت ایک دلچسپ صورت حال سامنے آئی جب کہ این آراو سے مستفید ہونے والے ایف آئی اے کے ایک ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل احمد ریاض شیخ کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات میں پہلے سے سنائی گئی سزاؤں کو سپریم کورٹ نے بحا ل کرکے اُن کی گرفتاری کا حکم جاری کردیا جس پر فوری عمل درآمدر بھی کیا گیا ۔

احمد ریاض شیخ بھی ان آٹھ ہزار افراد میں شامل ہیں جن کے خلاف این آر او کے تحت بدعنوانی کے مقدمات ختم کر دیے گئے تھے اور انھیں ان کوسرکاری ملازمت پر بھی بحال کر دیا گیا تھا۔ لیکن گزشتہ دسمبر میں سپریم کورٹ کی طرف سے این آر او کے متنازع قانون کو منسوخ کرنے کے فیصلے کے بعد بھی اب تک احمد ریاض شیخ نہ صرف اپنے سرکاری عہدے پر برقرار تھے بلکہ انھیں ترقی بھی دے دی گئی تھی۔

قانونی حلقوں نے اس صورت حال کی طرف جب عدالت عظمیٰ کی یہ کہہ کر توجہ دلائی کہ احمد ریاض کی ایف آئی کے اعلیٰ عہدے پر موجودگی این آر او کی خلاف فیصلے صریحاََخلا ف ورزی ہے تو چیف جسٹس افتخار چودھری نے اس معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے وفاقی حکومت سے اس بارے میں وضاحت طلب کر لی۔ لیکن تسلی بخش جواب نہ ملنے پر ایف آئی اے کے اس اعلیٰ عہدیدارکی پانچ سال قید اور دو کروڑ روپے جرمانے کی سزا کو بحال کردیا گیا ۔

عدلیہ اور حکومت کے درمیان یہ نئی محاذ آرائی ایک ایسے وقت شروع ہوئی ہے جب مجوزہ آئینی اصلاحات کے پیکیج پر اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن کی قیادت کے خصوصاََ مجوزہ عدالتی کمیشن پر تحفظات کے باعث مبصرین کے بقول ملک پہلے ہی ایک غیریقینی سیاسی صورت حال سے دوچار ہے۔

XS
SM
MD
LG