رسائی کے لنکس

54 بیورو کریٹس کی ترقی کا فیصلہ کالعدم

  • ن ہ

سپریم کورٹ آف پاکستان

سپریم کورٹ آف پاکستان

سپریم کورٹ نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے اُس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے جس کے تحت ستمبر2009 ء میں 54 وفاقی افسران کو گریڈ 22 میں سیکرٹری کے عہدوں پرترقی دی گئی تھی۔

عدالت عظمیٰ نے اِس مقدمے کی سماعت 15 فروری کو مکمل کرنے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جس کا اعلان بدھ کی صبح کرتے ہوئے عدالت نے کہا ہے کہ سرکاری افسران کو ترقی دیتے وقت آئین میں موجود قوانین اور افسران کی کارکردگی سے متعلق ضروری ٹھوس دستاویزات کو مدِنظر نہیں رکھا گیا لہذان افراد کی ترقیوں سے متعلق حکم نامے کوکالعدم قراردیا جاتاہے۔

خیال رہے کے ترکی میں پاکستان کے سفیر طارق عزیزالدین نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ایک خط کے ذریعے وفاقی افسران کی ترقیوں میں اِن بے ضابطگیوں سے آگاہ کرتے ہوئے اِس اقدام کے خلاف ازخود نوٹس لینے کی استدعا کی تھی۔

اس کے علاوہ لگ بھگ 60وفاقی افسران نے بھی اجتماعی طور پر ایک آئینی درخواست بعد میں عدالت عظمیٰ میں دائر کی تھی جس میں یہ موقف اپنایا گیا کہ حکومت نے 173 افسران کی سنیارٹی کو نظر انداز کرتے ہوئے 54 افسران کوگریڈ 22 میں ترقی د ی ہے۔

جن افسران کی ترقیاں کالعدم قرار دی گئی ہیں ان میں وزیر اعظم کی پرنسپل سیکرٹری نرگس سیٹھی، سیکرٹری پیٹرولیم کامران لاشاری، خیبر پختون خواہ اور پنجاب کے چیف سیکرٹریوں کے علاوہ آئی جی پنجاب طارق ڈوگر، سیکرٹری داخلہ قمرالزمان چودھری اورچیئرمین سی ڈی اے شامل ہیں۔

وزیراعظم گیلانی

وزیراعظم گیلانی

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق کالعدم قرار دیے جانے والے حکم نامے کے تحت ترقی پانے والوں میں وزیر اعظم گیلانی کے بہنوئی معین السلام بھی شامل ہیں جنہیں گریڈ 22 میں ترقی دے کر وفاقی سیکرٹری کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG