رسائی کے لنکس

عدالت نے ڈاکٹر خان پر عائد پابندیوں میں قدرے نرمی کردی

  • افضل رحمن

ڈاکٹر عبدالقدیر خان(فائل فوٹو)

ڈاکٹر عبدالقدیر خان(فائل فوٹو)

پاکستان کے جوہری پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیرخان نے لاہور ہائی کورٹ میں دائر اپنی درخواست میں استدعا کی تھی کہ پروٹوکول کے نام پر پابندیوں کی آڑ میں انھیں گھر پر نظر بند کیا ہوا ہے لہذا عدالت ان پابندیوں کو نرم کرنے کا حکم جاری کرے۔

بند کمرے میں ہونے والی اس درخواست کی سماعت کا پیر کے روز عدالت نے فیصلہ سنا دیا۔

سرکاری وکیل احمر بلال صوفی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس ضمن میں پچھلے سال کے عدالتی فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ نے بنیادی طور پر برقرار رکھا ہے جس میں ڈاکٹر خان پر قدغنیں لگائی گئی تھیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ پیر کے فیصلے میں عدالتی نے ڈاکٹر خان کو کچھ رعائتیں دینے کا بھی حکم جاری کیا ہے ۔

احمر بلال نے بتایا کہ ڈاکٹر خان جوہری پروگرام اور ہتھیاروں سے متعلق ذرائع ابلاغ سے کوئی بات نہیں کریں گے اور اپنی نقل وحرکت کے بارے میں متعلقہ سکیورٹی اداروں کو پیشگی مطلع کرنے کے پابند ہوں گے تاکہ ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق ڈاکٹر قدیر اسلام آباد سے باہر سفر کی صورت میں آدھ دن پہلے سکیورٹی اہلکاروں کو آگاہ کریں گے جب کہ اس سے قبل کم ازکم ایک دن قبل مطلع کرناضروری تھا۔

دریں اثناء ڈاکٹر قدیر خان کے وکیل علی ظفر سید نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کے مئوکل پہلے ہی تحریری طور پر حلفیہ بیان دے چکے ہیں کہ جوہری مسئلے پر نہ انھوں نے کوئی انٹرویو دیا ہے اور نہ وہ کوئی انٹرویو دیں گے۔

واضح رہے کہ 2004ء میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی طرف سے ایٹمی راز ایران،شمالی کوریا اور لیبیا کو دینے کا اعتراف کیے جانے کے بعد انھیں گھر پر نظر بند کردیا گیا تھا۔ اس اعترافی بیان کے بارے میں بعد ازاں ڈاکٹر خان نے مئوقف اختیار کیا تھا کہ یہ ان سے زبردستی دلوایا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG