رسائی کے لنکس

سلمیٰ وحید نے وحید مراد سے اپنے شادی کے فیصلے کے بارے میں کہا کہ ''میرا خیال ہے کہ یہ میری زندگی کا ایک بہترین فیصلہ تھا، انھوں نے اپنے آپ کو ایک اچھا شوہر، ایک اچھا بیٹا، ایک اچھا باپ اور ایک اچھا دوست ثابت کیا ''۔

پاکستانی فلم انڈسٹری کے نامور اداکار وحید مراد برصغیر کے مقبول ترین اور بااثر اداکاروں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں۔

فلموں میں ان کے عروج کے دور کو ہاکستانی فلم کی تاریخ کا ایک سنہرا دور کہا جاتا ہے، جب وحید مراد کروڑوں لوگوں کے دلوں پر راج کیا کرتے تھے۔

پاکستانی سینما اسکرین کے لیجنڈ وحید مراد کو ہم سے بچھڑے ہوئے 32 برس بیت گئے ہیں، لیکن ان کے مداحوں کی طرف سے وحید مراد کی سالگرہ منانے کی روایت آج بھی قائم ہے، جو ہر سال آج 2 اکتوبر کو اپنے محبوب اداکار کی سالگرہ مناتے ہیں۔

وحید مراد 1960ء کی دہائی میں فلم انڈسٹری میں ایک طوفان کی طرح آئے اور پوری طرح سے فلمی صنعت پر چھا گئے۔ انھوں نے فلموں میں اپنی جاندار اداکاری، مکالمے کی ادائیگی اور دلکش اظہار سے کامیابیوں کی انتہا کو چھوا، جبکہ ان کی مسحور کن شخصیت اور بالوں کے اسٹائل نے انھیں نوجوان نسل کا مقبول ہیرو بنا دیا اور یہ ان کی ذات کا سحر تھا کہ وہ مداحوں میں چاکلیٹی ہیرو پکارے جانے لگے۔

وحید مراد 1938ء کو سیالکوٹ میں ایک متمول خاندان میں آنکھ کھولی۔ وہ برصغیر پاک و ہند کے معروف فلم تقسیم کار نثار مراد اور شیریں مراد کی واحد اکلوتی اولاد تھے۔

انھوں نے کراچی کے ایک صنعتکار ابرایہم میکر کی بیٹی سلمیٰ سے 1964ء میں پسند کی شادی کی تھی۔ ان کی ایک بیٹی عالیہ اور بیٹا عادل مراد ہیں، جبکہ ایک بیٹی کا بچپن میں انتقال ہو گیا تھا۔

انھوں نے ایس ایم آرٹس کالج سے گریجویشن کرنے کے بعد کراچی یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کی ڈگری لی اور اپنے والد کے فلمی بینر کے تلے' پہلی فلم انسان بدلتا ہے' سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔

فلم 'اولاد' سے انھوں نے فلموں میں اداکاری کا سفر شروع کیا، بطور ہیرو ان کی پہلی فلم 1964ء میں 'ہیرا اور پتھر' ریلیز ہوئی۔ اس فلم کے ہدایتکار پرویز ملک تھے، جس پر انھوں نے بہترین اداکاری کے لیے نگار ایوارڈ وصول کیا۔

1966ء میں وحید مراد نے فلم 'ارمان' میں ہیرو کا کردار ادا کیا یہ فلم باکس آفس پر 75 ہفتے تک لگی رہی اور باکس آفس کے تمام سابقہ تمام ریکارڈز کو توڑ ڈالے، فلم ارمان ایک رومانوی اور نغماتی فلم تھی جو ایک تعلیم یافتہ ہیرو اور ایک یتیم غریب لڑکی کی محبت کی کہانی تھی اس فلم کے گانے ' کو کو کورینا، اکیلے نا جانا' ایسے یادگار گانے ہیں جو کہ آج بھی مقبول ہیں۔

انھوں نے فلم آرٹس کے نام سے ایک فلمی ادارہ بھی بنایا اور اس بینر کے تلے نامور ہدایت کار پرویز ملک، سہیل رعنا، احمد رشدی، مسرور انور اور زیبا کے ساتھ 1964ء سے 1968ء تک ارمان، احسان، دوراہا، جہاں تم وہاں ہم جیسی سپرہٹ فلمیں بنائی گئیں۔

1960ء سے 1983 ء تک اپنے 23 سالہ فلمی کیرئیر میں انھوں نے بطور اداکار 124 فلموں میں کام کیا، جن میں سے ان کی دو فلمیں ہیرو 1985ء اور زلزلہ 1987 ء ان کی وفات کے بعد ریلیز ہوئیں تھیں۔

انھوں نے بطور پروڈیوسر اور اداکار 32 ایواڈرز حاصل کیے اور ان کی وفات کے بعد 2010ء میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں 'ستارہ امتیاز' سے نوازا گیا۔

خرم علی شفیق کو مفکر پاکستان علامہ اقبال کی تعلیمات کے محقق کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے وہ ایک اسکالر ہونے کے ساتھ ساتھ ماہر تعلیم اور پاکستانی ٹیلی ویژن کے کئی ڈراموں کے اسکرین رائٹر بھی ہیں۔

علامہ اقبال پر ان کی ادبی تحقیق اور مطالعہ کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں انھیں حکومت پاکستان کی طرف سے 'علامہ اقبال نیشنل پریذیڈینشیل ایوارڈ' سے بھی نوازا گیا ہے۔

خرم علی شفیق نے سپر اسٹار کی زندگی کی یاداشتوں کو 'وحید مراد: ہز لائف اینڈ اوور ٹائم ' نامی کتاب میں تحریر کیا ہے۔ انھوں نے 30 برس سے زائد عرصے تک وحید مراد کی زندگی اور ان کے کام پر تحقیق کرنے کے بعدان کی سوانح تخلیق کی ہے اور سپر اسٹار وحید مراد کی زندگی کے کئی اسرار سے پردہ اٹھایا ہے۔

وی او اے سے ایک خصوصی بات چیت میں انھوں نے بتایا کہ وحید مراد نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ اگر ایک دن میں اچانک غائب ہو جاؤں یا دنیا میں نا رہوں، تو مجھے اس گانے کے ساتھ یاد رکھا جائے ''

' بھولی ہوئی ہوں داستاں گزرا ہوا خیال ہوں، جس کو نا تم سمجھ سکے میں ایسا ایک خیال ہوں '۔

انھوں نےکہا کہ وحید مراد صرف ایک اداکار نہیں تھے، وہ مصنف اور فلمساز بھی تھے۔ بحیثیت فلمساز اُنہوں نے گیارہ فلمیں بنائیں جن میں سے نو فلمیں زیادہ اہم ہیں۔ بحیثیت مصنف انہوں نے تین فلمیں لکھیں جن میں "ارمان" بھی شامل ہے جسے ہم بلامبالغہ پاکستان کی اہم ترین فلم کہہ سکتے ہیں کیونکہ اس فلم نے ہمارے معاشرے پر جو اثرات مرتب کیے وہ کسی اور فلم نے نہیں کیے۔ میں نے اپنی کتاب میں وحیدمراد کی ان تمام حیثیتوں کا احاطہ کیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ میری کتاب چار ابواب پر مشتمل ہے پہلا باب وحیدمراد کی نجی زندگی کی کہانی بیان کرتا ہے۔دوسرے باب میں اُن کی فلمسازی کی داستان ہے۔ تیسرے باب میں انہیں بحیثیت مصنف پیش کیا ہے۔ اور چوتھے باب میں بحیثیت اداکار یعنی "چاکلیٹ کریم ہیرو"۔

ان کے بچپن کے دوست جاوید علی خان نے وحید مراد کے فلموں میں جانے کے فیصلے کی بنیادی خیال کی وضاحت میں کہا کہ ہم دونوں قوم کی خدمت کا جذبہ لے کر پلے بڑھے تھے، جس طریقے سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور قائد ملت لیاقت علی خان نے ہمیں کرنے کو کہا تھا اور وحید کا خیال تھا کہ وہ فلموں کے ذریعے ایسا کر سکتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ میں نے اسکول کے زمانے سے وحید مراد کی فلموں کا بہت زیادہ اثر لیا تھا اور 23 نومبر 1983ء میں جب ان کا انتقال ہوا تو ہم پر ان کی اچانک موت کا گہرا صدمہ تھا اور یہ ایک ایسا صدمہ تھا جس پر ساری قوم سوگ کی حالت میں تھی۔ ان کے مداح ان کی یاد میں سال بھر روتے رہے تھے اور یہ معمولی بات نہیں تھی، اور یہاں سے میرے اندر وحید مراد پر کتاب لکھنے کی خواہش پیدا ہوئی۔

ظاہر ہے کہ میں کبھی ان سے زندگی میں نہیں ملا۔ مگر سوانح لکھتے ہوئے میں نے اُن کی شخصیت میں ایک عجیب سی کشش محسوس کی ہے کیونکہ وہ ایک ایسی شخصیت معلوم ہوتے ہیں جس سے آپ کسی چھوٹی اور فضول بات کی توقع نہیں کر سکتے۔

آخری دور میں جب اُن کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوا تو پورا چہرہ خون میں ڈوب گیا۔ ایک راہگیر مدد کے لیے آیا تو وحید مراد نے صرف اِتنی درخواست کی کہ وہ اُن کی گاڑی ایک طرف کروانے میں مدد کر دے تاکہ وہ اسپتال جا سکیں۔ لیکن اُس شخص نے دیکھا کہ اُن کی حالت ایسی نہیں کہ وہ خود اسپتال جا سکیں اس لیے وہی انہیں اسپتال تک چھوڑ کر آیا۔ میرے خیال میں اِس معمولی بات سے بھی وحید مراد کے مزاج کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ وہ اپنے وقار سے گر کر کوئی بات نہیں کر سکتے تھے اور میرے خیال میں یہ بہت بڑی بات ہے۔

اس کتاب میں وحید مراد کے ذاتی خطوط بھی سامنے آ رہے ہیں یہ خطوط انھوں نے سلمیٰ مراد کو اس وقت لکھے تھے، جب وہ 1968ء میں جاپان میں فلم خاموش نگاہیں کی عکس بندی میں مصروف تھے۔

سلمیٰ وحید نے وحید مراد سے اپنے شادی کے فیصلے کے بارے میں کہا کہ ''میرا خیال ہے کہ یہ میری زندگی کا ایک بہترین فیصلہ تھا، انھوں نے اپنے آپ کو ایک اچھا شوہر، ایک اچھا بیٹا، ایک اچھا باپ اور ایک اچھا دوست ثابت کیا ''۔

کتاب میں ان کے بچپن کے ایک دوست جاوید علی خان کےحوالے سے ایک دلچسپ واقعہ بھی شامل ہے جب وہ کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کر رہے تھے تو ایک روز وہ اور جاوید صاحب لانگ ڈرائیو کرتے ہوئے شہر سے باہر نکل آئے اور واپسی کا راستہ بھول گئے انھیں رات لال شہباز قلندر کے مزار پر گزارنی پڑی وہاں کے ایک مجاور نے کہا کہ اگر آپ کی کوئی خاص دعا ہے تو یہاں مانگ لیجیئے لہذا دونوں دوستوں نے مزار پرجا کر دعا کی جاوید صاحب نے دعا مانگی کہ ایم اے میں ان کی فرسٹ ڈویژن آ جائے اور جب انھوں نے وحید مراد سے پوچھا کہ انھوں نےکیا دعا مانگی ہے تو وحید مراد نے کہا کہ انھوں نے پاکستان کا سپر اسٹار بننے کی دعا مانگی ہے جبکہ بعد میں ان دونوں کی دعائیں قبول ہو گئیں۔

ایک فلم ساز کی حیثیت سے پرویز ملک نے اپنے دوست وحید مراد کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئےکہا کہ ''وہ فلم کےہر شعبے میں دلچسپی لیتے تھے اور ان کی رائے فلم کی کہانی، موسیقی سیٹ ڈیزائن وارڈ روب اور ہر چیز میں نظر آتی تھی ''۔

مشہور موسیقار سہیل رعنا نے ان کے بارے میں کہا کہ ''وہ ایک مکمل فلمی شخصیت، پروڈیوسر، اداکار ہدایتکار اور مصنف تھے۔ ''

ایک واقعہ جو میں نے کتاب میں بھی لکھا ہے، اُن کے بچپن کے دوست جاوید علی خاں کے حوالے سے ہے۔ نوجوانی کے زمانے میں کسی دل کے معاملے میں جاوید صاحب نے کوئی چوٹ کھائی اور وحید سے اپنا دُکھ بیان کیا۔ اگلے دن وحید کے گھر گئے تو دیکھا کہ وحید اپنی والدہ کے سامنے بیٹھے آنسو بہا رہے ہیں اور والدہ تسلی دے رہی ہیں۔ وحید اُٹھ کر باہر گئے تو جاوید نے اُن کی والدہ سے پوچھا کہ وحید کو کیا ہوا ہے۔ تب معلوم ہوا کہ وحید کو کچھ نہیں ہوا تھا، وہ جاوید کی کہانی اپنی والدہ کو سناتے سناتے رو پڑے تھے۔

جناب خرم کا کہنا تھا کہ انھوں نے کتاب میں وحید مراد کی تمام فلموں کی فہرست جس میں صرف اداکاروں کے نام ہی شامل نہیں ہیں بلکہ مصنف، نغمہ نگار وغیرہ کے نام بھی ہیں۔ نیز دوسری معلومات جو ایک اچھی فلمو گرافی میں ہونی چاہئیے۔ میں نے یہ کتاب اس مقصد سے لکھی ہے کہ وحید مراد کے بارے میں آیندہ کوئی بھی شخص کچھ لکھنا چاہے تو حوالے اور رہنمائی کے لیے یہ کام آ سکے.

وحید مراد کو ایک عہد ساز شخصیت کہا جائے تو غلط نا ہو گا ۔

وہ سلور اسکرین پر ہیرو تھے اور شاید یہ ہی وجہ تھی کہ انھیں ایک مصنف، ہدایتکار اور پروڈیوسر کی حیثیت سے کم یاد رکھا جاتا ہے۔ جبکہ انھوں نے ایک تخلیق کار ذہن کے ساتھ روایتی فلموں سے ہٹ کر معیاری فلمیں بنائیں اور پاکستانی معاشرے کی بھر پور عکاسی کی۔

وحید ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور حساس اداکار تھے ۔ ان کی پروڈکشن کے پیچھے ان کی گہری اور فلسفیانہ سوچ چھپی تھی، وہ انگریزی ادب کے ایک قاری سے زیادہ تھے اور ادبی کاموں کو اسکرین کے پردے کے ذریعے معاشرے تک پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے وہ قوم کے دل و دماغ کو کھولنے کے لیے انھیں بہتر سوچ دینا چاہتے تھے۔

ان کی فلم بندی کے نقطہ نظر کی طرف سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ انھوں نے سلور اسکرین کے پردے کے پیچھے سے براہ راست عام لوگوں کو مخاطب کیا اور انھیں انسان دوستی، احترام اور عظمت انسان کی تعلیمات کا درس دیا۔

بقول مصنف خرم علی شفیق جن لوگوں نے علامہ اقبال کے بعد ویسا ہی ادب تخلیق کیا جیسا اقبال چاہتے تھے ان میں ابن صفی اور وحید مراد سر فہرست ہیں اور جن اصولوں کی بنیاد پر میں یہ بات کہہ رہا ہوں اس کی وضاحت میں نے اس کتاب میں کر دی ہے۔

میں نے اپنی کتاب کا آغاز ہی اس بات سے کیا ہے کہ پاکستان اور انگلستان کی تاریخ میں ایک مماثلت ہے۔ انگلستان میں 1588ء میں ہسپانوی جنگی بیڑے نے حملہ کیا جسے انگریزوں نے ناکام بنا دیا۔ اس فتح نے انہیں بڑی خود اعتمادی بخشی جس کے نتیجے میں وہ تھیٹر وجود میں آیا جس کا سب سے بڑا ستارہ شیکسیئیر تھا۔ بالکل اسی طرح پاکستان میں 1965ء میں بھارت کے ساتھ جنگ کے بعد یہ احساس پیدا ہوا کہ ہم نے اپنی سرحدوں کا دفاع کامیابی کے ساتھ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک فلمی صنعت کا عروج شروع ہوا۔ کیا یہ محض اتفاق ہے؟ میں نے اپنی کتاب میں بڑی تفصیل کے ساتھ جواب دیا ہے۔

ان کے کیرئیر کے آخری حصے میں ان کے زوال کے حوالے سے خرم علی شفیق کا کہنا تھا اس بارے میں ایک طرف ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں عام تھیں کہ فلمی صنعت میں ان کو اب پہلے جیسی پذیرائی نہیں مل رہی ہے جس پر وہ مایوسی کا شکار ہیں لیکن دوسری طرف ان کی اہلیہ سلمیٰ مراد کا کہنا تھا کہ وحید صحت کے مسائل سے نبزدآزما تھے۔ جبکہ وحید مراد نے ایک انٹرویو میں ان باتوں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے کچھ صحت کے مسائل ہوئے تھے لیکن اب میں فلموں میں واپس آ رہا ہوں۔

لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ وحید مراد جو پاکستانی ثقافت کی نمائندگی کر سکتا تھا انھیں ان کی زندگی میں وہ مقام اور مرتبہ نہیں دیا گیا،جو اس کے شیایان شان ہوتا یا پھر شاید فلم انڈسٹری کے زوال کی وجہ سے وحید مراد کو بھی زوال آیا۔

وحید مراد نے فلم کی اسکرین پر رومانوی ہیرو کی بہترین تصویر پیش کی ہے ان پر عکسبند کیے جانے والے گانوں کو آج بھی مقبولیت حاصل ہے، کیا ہے جو پیار تو پڑے گا نبھانا، سوچا تھا پیار نا کریں گے، کچھ لوگ روٹھ کر بھی، مجھے تلاش تھی جس کی اور بھابھی میری بھابھی جیسے گانے آج بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں۔

وحید مراد اپنے گانوں میں ایک طرف کہتے ہیں کہ 'کیا پتا زندگی کا کیا بھروسہ ہے کسی کا ، تو دوسری طرف ان کا گانا 'دنیا کسی کے پیار میں جبت سے کم نہیں' ان کے چاہنے والوں کے دلوں کو جیت لیتا ہے لیکن کبھی ان کا لہجہ دوستوں کے رویے پر شکایتی بھی نظر آّیا جیسا کہ اس نغمے 'جو درد ملا اپنوں سے ملا، غیروں سے شکایت کون کرے' میں ان کے ٹوٹے ہوئے دل کی آواز کو سنا جا سکتا ہے یا پھر ان کی آخری فلم 'ہیرو ' کا گانا ' بن کے مصرعہ غزل کا چلی آو نا، ورنہ شاعر کا دل ٹوٹ جائے گا، تم جو روٹھی رہو گی اے جان وفا، تیرا دیوانہ دنیا سے روٹھ جائے گا '۔

دنیا میں ایسی شخصیات کم ہی پیدا ہوتی ہیں جو دنیا سے گزر جانے کے بعد بھی ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتی ہیں۔ وہ پاکستانی فلمی صنعت کے ایک ایسے سپر اسٹارز تھے،جنھیں ان کےمداحوں نے سیدھے محبوبیت کے درجے پر فائز کیا اور آج بھی ان کی یادوں کو اپنے دل و دماغ میں بسائے رکھا ہے۔

XS
SM
MD
LG