رسائی کے لنکس

میچ پر نہیں فرائض پر توجہ دیں، بنگلہ دیش کا سکیورٹی اہلکاروں کو انتباہ


میچ پر نہیں فرائض پر توجہ دیں، بنگلہ دیش کا سکیورٹی اہلکاروں کو انتباہ

میچ پر نہیں فرائض پر توجہ دیں، بنگلہ دیش کا سکیورٹی اہلکاروں کو انتباہ

دسویں عالمی کرکٹ کپ کی بھارت، بنگلادیش اور سری لنکا مشترکہ طور پر میزبانی کررہے ہیں۔ برصغیر میں ان میچوں کے دوران حفاظتی اقدامات پر خاص توجہ دی جارہی ہے جس کی وجہ مارچ 2009 ء میں پاکستان کا دورہ کرنے والی سری لنکن کرکٹ ٹیم پر لاہور ٹیسٹ میچ کے دوران ہونے والا دہشت گردانہ حملہ ہے جس میں آٹھ افراد ہلاک جبکہ مہمان ٹیم کے کچھ کھلاڑی زخمی ہو گئے تھے۔

بنگلادیش میں پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ عالمی کرکٹ کپ کے میچوں کے دوران کھیل دیکھنے اور” کاہلی“ کا مظاہرہ کرنے کی بجائے اپنے فرائض پر توجہ دیں۔

ہفتہ کو ڈھاکہ میں بنگلادیش اور بھارت کے درمیان عالمی کپ کے افتتاحی میچ کے دوران’ ریپڈ ایکشن بٹالین‘ نامی ایلیٹ فورس کے اہلکار صحافیوں کے لیے مخصوص نشستوں پر آرام کرتے اور کھیل کا مزہ لیتے دیکھے گئے تھے جس کے بعد وزارت داخلہ نے یہ انتباہ جاری کیا ہے۔

وزارت داخلہ کے حکم نامے کے مطابق ”عالمی کپ کے دوران سٹیڈیم میں تعینات سکیورٹی اہلکار وں کو چوکنا اوراپنے مخصوص مقامات پر موجود رہنا چاہیے نہ کہ وہ ادھر اُدھر گھومتے پھریں اور گیلری میں دوسرے لو گوں کی کرسیوں پر قبضہ کریں۔“

یہ احکامات بنگلادیش اور آئرلینڈ کے درمیان جمعہ کو ڈھاکہ میں کھیلے جانے والے گروپ بی کے ایک میچ سے قبل جاری کیے گئے ہیں۔

دسویں عالمی کرکٹ کپ کی بھارت، بنگلادیش اور سری لنکا مشترکہ طور پر میزبانی کررہے ہیں۔ برصغیر میں ان میچوں کے دوران حفاظتی اقدامات پر خاص توجہ دی جارہی ہے جس کی وجہ مارچ 2009 ء میں پاکستان کا دورہ کرنے والی سری لنکن کرکٹ ٹیم پر لاہور ٹیسٹ میچ کے دوران ہونے والا دہشت گردانہ حملہ ہے جس میں آٹھ افراد ہلاک جبکہ مہمان ٹیم کے کچھ کھلاڑی زخمی ہو گئے تھے۔

اس واقعہ کے بعد سے پاکستان میں کوئی بین الاقوامی میچ نہیں کھیلاگیا ہے جبکہ سلامتی کے خدشات کے پیش نظر عالمی کپ کی میزبانی بھی اُس سے واپس لے لی گئی تھی۔ تاہم اس ٹورنامنٹ سے ہونے والی آمدنی میں سے پاکستان کو اُس کا حصہ دیا جائے گا۔

19 فروری کوبھارت اور بنگلادیش کے درمیان ڈھاکہ میں افتتاحی میچ میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے حکام نے سٹیڈیم میں نشستوں کی ایک بڑی تعداد پر سکیورٹی افسران اور اُن کے رشتہ داروں کو بیٹھے دیکھا۔

وزارت داخلہ کے حکم نامے کی تفصیلات برطانوی خبر رساں ادارے رائٹر کو بتاتے ہوئے ایک عہدے دار نے کہا کہ ” نشستوں پر براجمان کچھ اہلکاروں کو حفاظتی فرائض انجام دینے کے لیے تعینات کیاگیا تھا جبکہ دیگر اپنے ساتھیوں کی مد دسے خصوصی اجازت نامے حاصل کرکے سٹیڈیم کے اندر داخل ہوئے تھے۔ “

اس عہدے دار نے توقع ظاہر کی ہے کہ وزارت داخلہ کے انتباہ کے بعد ایسے سکیورٹی افسران تماشائی بننے کی بجائے میچوں کے دوران اپنے فرائض پر توجہ دیں گے۔

پولیس کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ”اگر ان احکامات کی خلاف ورزی کی گئی یا پھر کوئی اہلکار عالمی کپ کے باقی کے میچوں میں دوبارہ ایسی حرکات کرتے دیکھاگیاتو اُن کے عہدے میں تنزلی یا پھر نوکری سے معطل کردیا جائے گا۔“

ڈھاکہ میں عالمی کپ کے پانچ مزید میچ کھیلے جائیں گے جن میں 25 مارچ کا کوارٹر فائنل بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG