رسائی کے لنکس

اسپاٹ فکسنگ تحقیقات ،اداروں کے درمیان کھنچاؤ آگیا


پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل نے جہاں پاکستان کرکٹ کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا ہے وہیں اسکینڈل کی تحقیقات کے حوالے سے ملک کے دو اہم اداروں کی درمیان کھنچاؤ بھی پیدا ہو گیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ اپنے طور پر تحقیقات کرنا چاہتاہے جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) نا صرف اسپاٹ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کو طلب کرکے پوچھ گچھ کر رہا ہے بلکہ ان کے نام بھی ای سی ایل میں ڈال دیئے گئے ہیں۔

اسپاٹ فکسنگ کیس میں ایف آئی اے نے پانچ کھلاڑیوں کو نوٹس جاری کیے تھے ، ان میں سے خالد لطیف، محمد عرفان ، شرجیل خان اور شاہ زیب حسن اپنے بیان ریکارڈ کراچکے ہیں، چاروں کھلاڑیوں نے الزامات تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ ناصر جمشید لندن میں ہونے کے باعث اب تک بیان ریکارڈ نہیں کراسکے،پی سی بی نے ان کا بیان وہیں ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان سپرلیگ کے چیئر مین نجم سیٹھی کا کہنا ہے ’ ہم نے ایف آئی اے سے موبائل فون ڈیٹا کی تصدیق کرنے کیلئے کہا تھا، تحقیقات کو نہیں۔ معاملے کی انکوائری کرکٹ بورڈ کو کرنے دیں، یہ ہمارا کام ہے، تحقیقات کے بعد سارا ڈیٹا ایف آئی اے کودے دیا جائے گا، اس کے بعد وہ چاہیں تو سزا دیں۔‘

وزیر داخلہ چوہدری نثار اسپاٹ فکسنگ معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم نظرآتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسپاٹ فکسنگ پاکستان کرکٹ بورڈ یا چند کھلاڑیوں کا نہیں پاکستان کی نیک نامی اور ساکھ کا مسئلہ ہے۔ اسپاٹ فکسنگ کرنے والوں کو جیل بھیجیں گے ، کرکٹ بورڈ اسپاٹ فکسنگ میں صرف پابندی لگا سکتا ہے، جیل نہیں بھیج سکتا۔ ایف آئی اے جیل بھیجے گا، کرکٹ کی عزت کے لیے ہمیں کوڑا کرکٹ باہر نکالنا ہو گا۔

نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ پی سی بی نے ایف آئی اے کو کرکٹرز کیخلاف تحقیقات شروع کرنے کیلئے نہیں کھلاڑیوں کے موبائل فونز کے ڈیٹا کی تصدیق کیلئے لکھا تھا۔ ایف آئی اے کو کرکٹرز کیخلاف انکوائری کیلئے پی سی بی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی سی بی اور آئی سی سی کے قانون کے تحت اسپاٹ فکسنگ یا میچ فکسنگ کیخلاف کارروائی بورڈ کرتا ہے، اگر کوئی اور ادارہ انکوائری کرتا ہے تو پی سی بی کیلئے آئی سی سی میں مسئلہ بن سکتا ہےاور اگر پی سی بی اور ایف آئی اے کی انکوائریز کا نتیجہ مختلف آیا تو پاکستان کیلئے ٹھیک نہیں ہوگا۔

نجم سیٹھی نے ایف آئی اے کے سربراہ سے درخواست کی ہے کہ فی الحال اپنی انکوائری روک دیں اور پی سی بی کو انکوائری مکمل کرنے دیں۔

تحقیقات کے حوالے سے ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ایجنسی نے کارروائی کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد کی درخواست پر شروع کی ہے۔

پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد کا کہنا ہے ایف آئی اے سے صرف موبائل ڈیٹا کی تصدیق کا کہا گیا تھا،کھلاڑیوں کے رویے پر کوئی شکایت نہیں کی گئی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے ٹریبونل تشکیل دیا ہوا ہےجس میں سابق چیئرمین پی سی بی جنرل (ر) توقیر ضیاء، سابق کرکٹر وسیم باری اور ایک ریٹائرڈ جج کو شامل کیا گیا ہے، ٹریبونل 24 تاریخ کو ابتدائی سماعت کرے گا۔

پی سی بی اور ایف آئی اے کو تحقیقات کیلئے مشترکہ میکنزم تشکیل دینے کی ضرورت ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ اہم معاملہ دو اداروں کے درمیان کھینچا تانی سے مزید الجھ جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG