رسائی کے لنکس

انڈیا ٹی وی پر دکھائے گئے وڈیوز میں انڈر کور رپورٹر کے ساتھ مک مکا میں دکن چارجز کے باولرٹی پی سدھندرا ڈومیسٹک میچ کے دوران ایک نوبال کرانے کے عوض پہلے بیس ہزار روپے کا بھاو تاو کرتا ہے جبکہ کچھ دنوں بعد آئی پی ایل میچزمیں نوبال، باونسر یا وائیڈ بال کرانے کے بدلے 50 ہزار روپے کا مطالبہ کرتا ہے۔

انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کی انتظامیہ نے پانچ کھلاڑیوں کو سپاٹ فکسنگ اور سٹے بازی میں ملوث ہونے کے الزام میں معطل کر دیا ہے۔ بھارت کے کرکٹ بورڈ نے ڈومیسٹک کرکٹ کو شفاف رکھنے کے لیے واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ معطل کیےگئے کھلاڑیوں میں مہنیش مشرا پونے واریئر کی ٹیم میں شامل ہیں، جبکہ ٹی پی سدھندرا (دکن چارجز)، امیت یادو اور شلبھ شری واستو کنگز الیون پنجاب اور ابھینوبالی کے نام سامنے آئے ہیں۔

آئی پی ایل کی گورننگ باڈی کے اجلاس کے بعد پریمئرلیگ کے چیرمین اور کمشنر راجیو شکلا نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ انڈیا ٹی وی کے سٹنگ آپریشن کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد مبینہ طور پر ملوث کھلاڑیوں کو معطل کر دیا گیا ہے اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے اینٹی کرپشن یونٹ کے ایڈوائزر روی سوانی کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا ہے جو آئندہ پندرہ سے بیس دنوں کے اندر اندر اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔

بھارت کے کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے صدر این سرنی واسن نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک انکوائری رپورٹ سامنے نہیں آتی، معطل ہونے والے کھلاڑی بی سی سی آئی کے بینر تلے کسی طرز کی کرکٹ میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

انڈیا ٹی وی کے ایک سٹنگ آپریشن کی تفصیلات کے منظر عام پر آنے کے بعد بھارت کے اندر خاص طور پر اور دیگر کرکٹ کھیلنے والے ممالک میں بالعموم یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ اس خفیہ آپریشن کی وڈیو اور آڈیو کے ساتھ تفصیلات انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں اور بھارت کے ٹی وی چینلز اسے بار بار دکھا رہے ہیں۔ اس سٹنگ آپریشن میں چینل کا رپورٹرخود کو ایک سپورٹس مینیجمنٹ کمپنی کا ایجنٹ بتاتا ہے اور کھلاڑیوں تک رسائی کے بعد ان کے ساتھ سپاٹ فکسنگ کرتا ہے۔

انڈیا ٹی وی پر دکھائے گئے وڈیوز میں انڈر کور رپورٹر کے ساتھ مک مکا میں دکن چارجز کے باولرٹی پی سدھندرا ڈومیسٹک میچ کے دوران ایک نوبال کرانے کے عوض پہلے بیس ہزار روپے کا بھاو تاو کرتا ہے جبکہ کچھ دنوں بعد آئی پی ایل میچزمیں نوبال، باونسر یا وائیڈ بال کرانے کے بدلے 50 ہزار روپے کا مطالبہ کرتا ہے۔

ٹی پی سدھندرا کو رانجنے ٹرافی میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے پر گزشہ سیزن میں آئی پی ایل کھیلنے کا موقع دیا گیا تھا۔

اسی طرح، ایک آڈیو میں مبینہ طور پر ایک کھلاڑی شلبھ شری واستو ایک نوبال کرانے کے بدلے 10 لاکھ روپے مانگ رہا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق شلبھ انڈر-19 میں بھارت ک نمائندگی کر چکے ہیں اور ڈومیسٹک سیزن میں شاندار پرفامنس کی وجہ سے انہیں کنگز الیون پنجاب نے 30 لاکھ کی بولی دے کر ٹیم میں شامل کیا تھا۔

ایک اور کھلاڑی یادیو سے منسوب آڈیو ٹیپ میں وہ مبینہ طور پر بتا رہا ہے کہ آئی پی ایل کے پچھلے سیزن میں دہلی ڈیر ڈیولز اور گنگز الیون کے درمیان میچ فکس تھا۔ جن پانچ کھلاڑیوں کے نام سپاٹ فکسنگ میں آ رہے ہیں ان میں سے کسی نے بھی بھارت کی قومی ٹیم کی نمائندگی نہیں کی ہے۔

اس اسکینڈل میں نہ صرف سپاٹ فکسنگ میں کھلاڑیوں کے نام آئے ہیں بلکہ یہ بات بھی کہی جا رہی ہے کہ فرنچائزز خفیہ طریقے سے کھلاڑیوں کو رقوم فراہم کر رہی ہیں۔

بھارت کے سابق کرکٹر کرتی آزاد نے سی این این آئی بی این ٹی وی کے ساتھ بات کرتے ہوئے واقعے پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں امید نہیں کہ تحقیقات کے نتجے میں کوئی ٹھوس بات سامنے آ سکے۔ انہوں نے جنوبی افریقہ کے سابق کھلاڑی آنجہانی ہینسی کرونیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے پر بھی وقت کی دھول آ جائے گی اور کرکٹ کو بدعنوانی سے پاک نہیں کیا جا سکے گا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ نہ صرف سپاٹ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کے خلاف سخت کارروئی ہونی چاہیے بلکہ ایسی فرنچائزز کو بھی معطل کیا جانا چاہیے جو کھلاڑیوں کو خفیہ طریقے سے رقوم فراہم کرتی ہیں۔

اس سکینڈل نے آئی پی ایل کے مستقبل کے بارے میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ پریمیئر لیگ کے بانی اور سابق سربراہ للیت مودی کو سال 2010 میں معطل کر دیا گیا تھا اور وہ اس وقت بھی بھارت کے سرکاری کرکٹ بورڈ کی جانب سے عائد کرہ بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اب اس سکینڈل کے بعد لیگ میں بدعنوانی کا مدعا اٹھانے والوں کی بات میں بظاہر وزن آ گیا ہے۔

پاکستان کے تین کھلاڑی سابق کپتان سلمان بٹ ، فاسٹ باولر محمد آصف اور محمد عامر اور ان کے ایجنٹ مظہر مجید پر سال 2010 میں انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں سپاٹ فکسنگ کا الزام ثابت ہونے پر تینوں کو سزا سنائی جا چکی ہے۔ تینوں کھلاڑیوں کو نہ صرف آئی سی سی کی جانب سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے پر طویل پابندی کی سزا دی گئی بلکہ انگلینڈ کی حکومت نے اپنی سرزمین پر جرم کے ارتکاب میں تینوں کو قید کی سزا بھی دی۔ عامر اور آصف قید کاٹ کر رہا ہو چکے ہیں جبکہ سلمان بٹ ابھی بھی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔

آئی پی ایل میں سپاٹ فکسنگ کے اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد پاکستان کے بعض سابق کرکڑز مطالبہ کر رہے ہیں کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت برابر انصاف کیا جائے اور نہ صرف ملوث کھلاڑیوں کو سزا دی جائے بلکہ ان کے بقول بھارت جو میچ فکسنگ اور سٹے بازی میں ملوث لوگوں کے لیے سب سے باعث کشش ملک ہے، وہاں کے کرکٹ نظام پر بھی کڑی نظر رکھی جائے۔

XS
SM
MD
LG