رسائی کے لنکس

نیدرلینڈز کو کل بھارت کی مضبوط بیٹنگ لائن کا چیلنج درپیش


نیدرلینڈز کو کل بھارت کی مضبوط بیٹنگ لائن کا چیلنج درپیش

نیدرلینڈز کو کل بھارت کی مضبوط بیٹنگ لائن کا چیلنج درپیش

نیدر لینڈز کو بدھ کے روز دہلی کے فیروز شاہ کوٹلا اسٹیڈیم میں مضبوط بھارتی بیٹنگ لائن کا چیلنج درپیش ہو گا۔ بھارت کی کوشش ہو گی کہ وہ اورنج شرٹس کے خلاف بڑی کامیابی حاصل کر کے اپنے اگلے حریف جنوبی افریقہ کو خبردار کر سکے جبکہ ہالینڈ میگا ایونٹ میں اپنی پہلی فتح کیلئے سرگرداں ہو گا۔ اپنے پول میں اب تک بھارت نے تین میچوں میں سے دو میں فتح حاصل کی جبکہ ایک ٹائی ہوا جبکہ ہالینڈ کو تینوں میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کی تاریخ میں صرف ایک بار دوہزار تین کے عالمی کپ میں بھارت اورہالینڈ کا آمنا سامنا ہوا تھاجس میں بھارت 68 رنز سے فتح سے ہمکنار ہوا ۔

تین ممالک میں جاری موجودہ مقابلے میں بھارتی ٹیم نے بنگلہ دیش سے ورلڈ کپ کے حصول کا سفر انتہائی کامیابی سے شروع کیا تھا اور بنگالی ٹائیگرز کے سامنے370 رنز کا انبار لگا دیاتھا۔ اس کے بعد اس کا ہدف انگلش بالرز تھے جب اس نے338 رنزبنا ڈالے جس کے جواب میں انگلینڈ نے بھی اتنے ہی رنز بنائے اور میچ ٹائی ہو گیا تھا۔ آخری میچ میں بھی آئر ش ٹیم کی جانب سے بھارت 207 رنز کا ہدف آسانی سے عبور کر کے اب تک اپنے گروپ میں ناقابل شکست ہے ۔

بھارت کو جہاں انتہائی تجربہ کار بیٹسمین سہواگ، سچن ٹنڈولکر، یووراج سنگھ اور مہندرا سنگھ دھونی کا ساتھ حاصل ہے وہیں گھمبیر، ویراٹ کوہلی اور یوسف پٹھان جیسے برق رفتار بلے باز بھی اپنی کارکردگی دکھانے کیلئے بے چین ہیں۔ سہواگ حالیہ ایونٹ کے تین مقابلوں میں اب تک 21 چوکوں اور پانچ چھکوں کی مدد سے 215 رنز بنا چکے ہیں جس میں ان کی شاندار 175 رنز کی اننگز بھی شامل ہے جبکہ تجربہ کار سچن ٹنڈولکر نے بھی ایک سنچری کی مدد سے 186 رنز بنا رکھے ہیں ۔

دوسری جانب اورنج شرٹس اب تک ایونٹ میں کھیلے گئے اپنے تینوں مقابلوں میں ناکام رہی ۔ریان ٹین ڈوئچے انگلینڈ کے خلاف 137 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر کل ہالینڈ کی جانب سے امیدوں کا محور ہیں۔ انگلینڈ کے خلاف ہالینڈ نے 292 رنز بنائے تھے تاہم ویسٹ انڈین بلے بازوں نے 330 رنز بنا کر اسے صرف 115 پر ڈھیر کر دیا اور 215 رنز کے بھاری مارجن سے شکست کا منہ دکھایا۔ اتنی بڑی شکست کے بعد جنوبی افریقہ کے خلاف اس کے حوصلے مزید پست ہو گئے جب وہ پروٹیز کے 351 رنز کے جواب میں صرف120 پر ڈھیر ہو گئی اور 231 رنز کی بڑی شکست کا کڑوا گھونٹ پینا پڑا ۔

اگر بالنگ کی بات کی جائے تو بھارتی پیسر ظہیر خان تین میچوں میں 8 اور مناف پٹیل سات وکٹوں کے ساتھ ٹاپ ٹین بالرز میں شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ہربھجن سنگھ کا ساتھ بھی انہیں حاصل ہے اور خاص طور پر آئر لینڈ کے خلاف یووراج سنگھ بھی پانچ وکٹیں حاصل کر کے پر اعتماد نظر آ رہے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب ہالینڈ کی جانب سے آل راؤنڈر ریان ٹین ڈوئچے کے علاوہ مدثر بخاری پر بھروساکیا جا سکتا ہے ۔

دوسری جانب کچھ ماہرین یہ خیال بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ حالیہ ایونٹ میں جس طرح انگلینڈ کی بالنگ لائن کے سامنے اورنج شرٹس کے بلے باز ڈٹے اور بعدازاں انگلینڈ اور بھارت کے میچ میں مقابلہ برابری پر ختم ہوا، اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت اور انگلینڈ کی بالنگ میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے اور انگلش بالرز کے سامنے اورنج شرٹس کا 292 رنز بنانا بھارت کی بالنگ لائن کیلئے بھی واضح پیغام ہے۔ لہذا اورنج شرٹس نے جس طرح انگلینڈ کیلئے مشکلات پیدا کیں اسی طرح بھارت کیلئے بھی یہ درد سر بن سکتا ہے ۔

اگر فیروز شاہ کوٹلا میدان کی بات کریں تو یہاں میزبان بھارت کو وسیع تجربہ حاصل ہے اور پندرہ مقابلوں میں وہ آٹھ میں فتوحات سمیٹ چکا ہے جبکہ ایک میچ کا نتیجہ نہیں نکل سکا ۔ اسی گراؤنڈ پر حالیہ ورلڈ کپ کے ایک میچ میں ویسٹ انڈیز نے ہالینڈ کو 330 رنز کا ہدف دیا تھا جو یہاں کا سب سے بڑا اسکور بھی ہے ۔

XS
SM
MD
LG