رسائی کے لنکس

15 ہزار کا ٹکٹ بلیک مارکیٹ میں ایک لاکھ روپے میں


موہالی کرکٹ اسٹیڈیم

موہالی کرکٹ اسٹیڈیم

پاکستانی ٹیم کے منیجر انتخاب عالم کے لیے پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن اسٹیڈیم میں واپسی خاص طور پر ایک خوشگوار موقع ہے۔ لیگ سپن باؤلنگ کے ماہر یہ سابق پاکستانی کپتان اپنے کوچنگ کریئر کے آغاز میں بھارتی پنجاب کی ایک ٹیم کی کوچنگ کر چکے ہیں جس میں اُن سے تربیت لینے والوں میں بھارت کی موجودہ کرکٹ ٹیم کے سٹار بلے باز یوراج سنگھ اور آف سپنر ہربجن سنگھ بھی شامل تھے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان 30 مارچ کو موہالی میں عالمی کپ کے سیمی فائنل سے پہلے دونوں ملکوں میں کرکٹ کا بخارعروج پر ہے، جبکہ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق میچ دیکھنے کے لیے 15 ہزار روپے کا ٹکٹ بلیک مارکیٹ میں ایک لاکھ روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ ٹکٹوں کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے کیوں کہ ہر کوئی دونوں حریف ملکوں کے درمیان یہ میچ گراؤنڈ میں براہ راست دیکھ کر لطف اندوز ہونا چاہتا ہے۔ ٹکٹ خریدنے والوں کی اکثریت ایسے لوگوں کی بتائی گئی ہے جو بھارت میں مستقل طور پر نہیں رہتے بلکہ وہ چھٹیاں گزارنے کے لیے پنجاب آئے ہوئے ہیں۔

کرکٹ کا شوق رکھنے والے ایک عام آدمی سے لے کر بھارتی پنجاب کے منتخب اراکین پارلیمنٹ تک سبھی سیمی فائنل میچ کے ٹکٹوں کی عدم دستیبابی کی شکایت کر رہے ہیں۔

15 ہزار کا ٹکٹ بلیک مارکیٹ میں ایک لاکھ روپے میں

15 ہزار کا ٹکٹ بلیک مارکیٹ میں ایک لاکھ روپے میں

نئی دہلی، ہماچل پردیش، ہریانہ اور اُتر پردیش سے آنے والے افراد بھی بلیک مارکیٹ میں میچ کے ٹکٹ خریدنے والوں میں شامل ہیں جہاں اڑھائی سو روپے والا ٹکٹ پانچ ہزار اور پانچ سو روپے والا 10 ہزار روپے میں فروخت ہورہا ہے جب کہ اطلاعات کے مطابق پانچ ہزار والا ٹکٹ 35 ہزار روپے میں مل رہا ہے۔

پاک بھارت سیمی فائنل موہالی کے پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن (پی سی اے) اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا جہاں 30 ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔

پی سی اے کے ایک ترجمان جی ایس والیا نے کہا ہے کہ اُن کی تنظیم کو 14 ہزار ٹکٹ دیے گئے تھے جو سب فروخت ہو چکے ہیں اور باقی کے ٹکٹ بیچنے کا اختیار انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے پاس ہے۔

اُن کے بقول اِتنا بڑا میچ کھیلا جا رہا ہے اور اگراس کے ٹکٹ بلیک مارکیٹ میں فروخت ہو رہے ہیں تو اِسے روکنا پی سی اے کے بس کی بات نہیں۔ ”جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو ہم نے ٹکٹ اُن لوگوں کو فروخت کیے جنھوں نے قطاروں میں کھڑے ہوکریہ ٹکٹ خریدے۔ اگر وہ اِنھیں بلیک مارکیٹ میں بیچ رہے ہیں تواس کا پتہ لگانا ہماری ذمہ داری نہیں۔“

اس کے علاوہ چندی گڑھ کے تمام ہوٹل اور گیسٹ ہاوس بھی فُل ہو چکے ہیں جب کہ ممبئی سے چندی گڑھ کے لیے ہوائی جہاز کے ٹکٹ کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کررہی ہیں اور ایئر انڈیا پر یکطرفہ ٹکٹ کی قیمت 21 ہزار روپے بتائی جا رہی ہے۔

واہگہ کے راستے پاکستانی شائقین کا ایک گروپ بھی میچ دیکھنے کے لیے بھارتی پنجاب پہنچ گیا ہے اورتوقع ہے کہ ہزاروں مزید پاکستانی شہری میچ سے قبل چندی گڑھ پہنچیں گے جہاں سے موہالی 10 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان سیمی فائنل سے پہلے ہی بھارت نے عالمی کپ کے میچوں کے لیے پانچ ہزار پاکستانیوں کو ویزے جاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بھارتی پنجاب میں حکام نے واہگہ بارڈر سے پاکستانی شہریوں کو موہالی لانے کے لیے خصوصی بس سروس کا بھی انتظام کیا ہے۔

15 ہزار کا ٹکٹ بلیک مارکیٹ میں ایک لاکھ روپے میں

15 ہزار کا ٹکٹ بلیک مارکیٹ میں ایک لاکھ روپے میں

پاکستان اور بھارت کے درمیان سیمی فائنل میچ کے بارے میں جوش وخروش میں اضافے کی ایک وجہ بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کی طرف سے پاکستانی ہم منصب یوسف رضا گیلانی اور صدر آصف علی زرداری کو میچ دیکھنے کی دعوت دینا بھی ہے۔

من موہن سنگھ کی دعوت پر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی موہالی جانے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد برصغیر میں عالمی کپ کا یہ میچ خصوصی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

موہالی میں کھیلا جانے والا عالمی کپ کرکٹ کا سیمی فائنل نومبر2008ء میں ممبئی حملوں کے بعد پاکستانی ٹیم کا بھارتی سرزمین پر پہلا میچ ہوگا۔

مزید برآں اتوار کو بھارت اور پاکستان کی کرکٹ ٹیموں نے پی سی اے اسٹیڈیم میں پہلی مرتبہ نیٹ پریکٹس کی اور اس موقع پر سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔

پاکستانی ٹیم کے منیجر انتخاب عالم کے لیے پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن اسٹیڈیم میں واپسی خاص طور پر ایک خوشگوار موقع ہے۔ لیگ سپن باؤلنگ کے ماہر یہ سابق پاکستانی کپتان اپنے کوچنگ کریئر کے آغاز میں بھارتی پنجاب کی ایک ٹیم کی کوچنگ کر چکے ہیں جس میں بھارت کی موجودہ کرکٹ ٹیم کے سٹار بلے باز یوراج سنگھ اور آف سپنر ہربجن سنگھ بھی تربیت لینے والوں میں شامل تھے۔

بھارتی اخبار’ سنڈے پائنیر‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انتخاب عالم نے کہا کہ اُنھیں اس اسٹیڈیم سے خصوصی لگاؤ ہے اور اس سے اچھی یادیں وابستہ ہیں۔” میں نے یہاں دو سال گزارے اور اس دوران میں نے زندگی بھر قائم رہنے والے دوستی کے رشتے بنائے اس لیے یہاں واپس آنا میرے لیے انتہائی پُر مسرت موقع ہے۔“

XS
SM
MD
LG