رسائی کے لنکس

مبینہ میچ فکسر مظہر مجید کے انکشافات پر ماہرین کا تجزیہ


مظہر مجید

مظہر مجید

اسکاٹ لینڈ یارڈ کو ملنے والے میچ فکسنگ اسکینڈل کےمبینہ مرکزی کردار مظہر مجید کی گفتگو پر مبنی چالیس گھنٹے کی ریکارڈنگ میں مزید چونکا دینے والے انکشافات سامنے آ چکے ہیں ۔جس میں مظہر مجید نے انکشاف کیا ہے کہ رواں سال کے پہلے مہینے میں سڈنی ٹیسٹ اور ایشیاء کپ میں پاکستان اور سری لنکا کا میچ فکسڈ تھا ۔ سڈنی ٹیسٹ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس میچ کا رخ دوسری اننگز میں پلٹا گیا ہے ۔

وائس آف امریکا نے مظہر مجید کے بیانات پر مبصرین اور کرکٹ پر گہری نظر رکھنے والوں سے رابطہ کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کیا مظہر مجید کے بیانات واقعی درست ہیں یا نہیں۔ مبصرین نے انکشافات کاجس طرح جائزہ لیا وہ کچھ اس طرح ہے۔

سڈنی ٹیسٹ کا جائزہ

مبصرین کا کہنا ہے: لارڈز میں جن کھلاڑیوں پرمیچ فکسنگ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں ان میں سے سلمان بٹ ، محمد عامر ، محمد آصف اور کامران اکمل کے نام سامنے آئے ہیں ۔تین جنوری دو ہزار دس سے شروع ہونے والے سڈنی ٹیسٹ میں اگر ان کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تومظہر مجید کی بات درست ثابت ہوتی ہے کہ اس میچ میں پاکستان فتح کے بہت قریب ہو گیا تھا ۔

اس میچ میں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور پوری ٹیم 127 رنز پر آؤٹ ہو گئی ۔ محمد آصف نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی اننگز میں چھ وکٹیں حاصل کیں۔ جواب میں پاکستان نے شاندار333 رنز بنائے جس میں سلمان بٹ کی 71 رنز کی اننگز نمایاں تھی جبکہ کامران اکمل نے چودہ رنز بنائے ۔اس طرح پاکستان کو آسٹریلیا کی پہلی اننگز پر 206 رنز کی برتری حاصل ہو گئی ۔

دوسری اننگز میں آسٹریلیا نے 381 رنز بنائے۔یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ آسٹریلیا کی آٹھ وکٹیں 257 رنز پر گر گئی تھیں تاہم نویں وکٹ کی شراکت میں 123 رنز بنے ۔ اس میچ میں کامران اکمل نے تین کیچز اور ایک رن آؤٹ بھی مس کیا ۔اس اننگز میں آصف نے دومزید وکٹیں حاصل کیں اور میچ میں ان کی آٹھ وکٹیں ہو گئیں ۔

پاکستان کو میچ جیتنے کے لئے 177 رنز کا ہدف ملا ۔عمران فرحت اور سلمان بٹ نے 34 رنز کا آغاز فراہم کیا ، عمران فرحت 22 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے ۔ جس کے بعدپچاس کے مجموعی اسکور پر فیصل اقبال بھی آؤٹ ہو گئے ۔ اس موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ پاکستان آسانی سے اس میچ میں فتح یاب ہو جائے گا ۔

مظہر مجید کا یہ بیان کہ یہاں سے میچ کا رخ پلٹا گیا بالکل درست ثابت ہوتا ہے ۔کیونکہ سلمان بٹ اس کے فوراً بعد اکیاون کے اسکور پر 21 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے ۔ اس کے بعد محمد یوسف 19، مصباح الحق بغیر کوئی رن بنائے ، کامران اکمل گیارہ ، محمد سمیع دو، عمر گل49، دانش کنیریا بغیر کوئی رنز بنائے اور عمر گل چھ رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے جبکہ آصف بغیر کوئی رنز بنائے ناٹ آؤٹ رہے ۔

لہذا سڈنی ٹیسٹ میں جس طرح مظہر مجید نے انکشافات کیے وہ بالکل درست ثابت ہوتے ہیں اور جہاں جہاں میچ کا پانسا پلٹا گیا وہ صاف نظر آتا ہے ۔اس حوالے سے معروف آسٹریلوی روزنامے نے سڈنی ٹیسٹ کے فکسڈ ہونے یا نہ ہونے پر سروے کرایا جس میں 91 فیصد قارئین کی رائے تھی کہ میچ فکسڈ تھا۔

ایشیاء کپ کا جائزہ

ایشیاء کپ میں سری لنکا اور پاکستان کے درمیان کھیلے گئے ایک روزہ میچ کے حوالے سے مظہر مجید کا کہنا ہے کہ اس میچ میں طے تھا کہ بالرز کتنے رنز دے گا اور بلے باز کتنااسکور کرے گا ۔ سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ پچاس اوورز میں 242 رنز بنائے ۔ بولنگ میں محمد آصف نے نو اوورز میں 55 رنز دے کرایک وکٹ حاصل کی جبکہ محمد عامرنے دس اوورز کیے 57 رنزدیئے اور دو وکٹیں حاصل کیں ، جو کسی صورت قابل تعریف بولنگ نہیں کہی جا سکتی ۔

جواب میں سلمان بٹ صفر پر آؤٹ ہو گئے ، عمر امین نے سات ، شاہ زیب نے گیارہ ، کامران اکمل نے چودہ ، محمد عامر نے پانچ اور آصف بغیر کوئی رن بنائے پولین لوٹ گئے ۔ اس میچ میں اکیلے کپتان شاہد خان آفریدی سری لنکن بولنگ کا مقابلہ کرتے نظر آئے اور انہوں نے ایک سو نو رنز بنائے تاہم پھر بھی ناکامی ٹیم کا مقدر ٹھہری ۔ لارڈرز میں میچ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کی اس میچ میں بھی پرفارمنس انتہائی مایوس کن ہے جسے دیکھتے ہوئے مظہر مجید کا بیان سچ ثابت ہو رہا ہے ۔

دورہ انگلینڈ کے آخری دو ٹیسٹ میچز

مظہر نے مزید انکشاف کیا تھا کہ دورہ انگلینڈ کے آخری دو ٹیسٹوں کے نتائج فکسڈ نہیں تھے کیونکہ بوکیز سلمان بٹ کو ہی کپتان دیکھنا چاہتے تھے ۔ ان کے اس بیان سے قبل اگر دیکھا جائے توشاہد خان آفریدی نے انگلینڈ کے پہلے میچ میں ہی شکست کے بعد استعفیٰ دے دیا حالانکہ دورے سے پہلے وہ کافی پر امید نظر آ رہے تھے اور ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے پاس ناتجربہ کار ٹیم ہے لیکن اس کے باوجود وہ بھر پور کوشش کریں گے تاہم قوم کو زیادہ امیدیں وابستہ نہیں کرنی چاہیے ۔

آخرکیا وجہ تھی کہ پہلے ٹیسٹ میں شکست کے بعد وہ ٹیسٹ کرکٹ سے الگ ہو گئے ۔ مبصرین کے مطابق اسکینڈل کے بعد شاہد آفریدی کا یہ بیان کہ انہوں نے بعض کھلاڑیوں کو اپنی سرگرمیاں محدود رکھنے کی ہدایت کی تھی لیکن وہ نہیں مانے، اس کا مطلب ہے کہ آفریدی کو معلوم تھا کہ ٹیم کے اندر کیا ہو رہا ہے ۔ ہو سکتا ہے آفریدی کو بھی آفر کی گئی ہو ۔ہوسکتا ہے کہ آفریدی کو یہ بھی معلوم ہو کہ بطور کپتان ان کا مستقبل کچھ خاص نہیں ۔ریٹائرمنٹ کے بعد وہ پاکستان آ گئے اور زیادہ تر میڈیا میں بھی ان رہے ، کبھی کسی بیان کے ذریعے اور کبھی سیلاب زدگان کی مدد کرتے ہوئے ۔ مبصرین کہتے ہیں کہ یہ سب تو اندازے ہیں اور اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا ۔ ان تمام باتوں کا علم تو تفتیش کے بعد ہی ہو گا لیکن انکے مطابق موجودہ صورتحال میں مظہر مجید کے بیان میں کافی وزن نظر آ رہا ہے ۔

XS
SM
MD
LG