رسائی کے لنکس

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کل انتہائی اہم معرکہ


پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کل انتہائی اہم معرکہ

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کل انتہائی اہم معرکہ

شائقین کرکٹ کے انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے کو ہیں اورعالمی جنگ کے گروپ اے کے انتہائی اہم معرکے میں کل ایشیاء کی دو بڑی طاقتیں پریماداسا اسٹیڈیم کولمبو میں آ منے سامنے ہوں گی۔ یہ معرکہ کل گرین شرٹس اورمیزبان سری لنکا کے درمیان ہو گا۔ اگرچہ ماضی میں گرین شرٹس نے سری لنکا کے خلاف انتہائی متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور خاص طور پر عالمی مقابلوں میں لنکن کے خلاف کبھی سرنہیں جھکایا تاہم دونوں ٹیموں کے عزائم اورماضی میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اسٹارز کی دونوں ٹیموں میں موجودگی نے کرکٹ پنڈتوں کونتیجہ کے حوالے سے چپ سادھنے پر مجبور کر رکھا ہے ۔

سب سے پہلے اگر پریما داس اسٹیڈیم کولمبو میں ہونے والے دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلوں کی بات کی جائے تو یہ اسٹیڈیم دونوں ٹیموں کیلئے یکساں مفید رہا ۔ یہاں گیارہ مقابلوں میں دونوں ٹیموں نے پانچ پانچ فتوحات اپنے نام کر رکھی ہیں جبکہ ایک میچ کا نتیجہ نہیں نکل سکا۔

دونوں ٹیموں کا موازنہ کیاجائے تو کرکٹ کی تاریخ میں پاکستان کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے۔ مجموعی طور پردونوں حریف 120 مرتبہ ایک دوسرے کے خلاف میدان میں اترے جن میں سے گرین شرٹس 70 مرتبہ سرخروہو چکی ہے اور سری لنکا نے 46 بار فتوحات سمیٹیں جبکہ ایک مقابلہ برابر رہا اور تین بغیر نتیجے کے اختتام پذیر ہوئے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اس سے قبل ہونے والے عالمی کپ میں دونوں ٹیمیں چھ مرتبہ آمنے سامنے آئیں تاہم ہر بار پاکستان کو ہی جشن منانے کا موقع ملا ۔ دونوں ٹیموں کے درمیان ماضی میں دونوں حریف سپہ سالاروں یعنی شاہد خان آفریدی اور سنگاکارا اپنی ٹیم کیلئے انتہائی کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے یونس خان، عبدالرزاق اور شعیب اخترجبکہ سری لنکاکے جے وردھنے، دلشان اور مرلی دھرن ماضی میں ایک دوسرے کے خلاف سخت مزاحمت کرتے نظر آئے ۔

ماضی کے مقابلوں میں پاکستانی کپتان شاہد خان آفریدی کے بلے نے سری لنکن بالرز کے سب سے زیادہ چھکے چھڑائے۔ انہوں نے 51 میچوں میں 978 رنز بنا رکھے ہیں جن میں دو سنچریاں اور پانچ نصف سنچریاں شامل ہیں ۔ ان کے بعد یونس خان نے 34 میچوں میں حصہ لیا اور ان کے بلے نے 6 نصف سنچریوں کی مدد سے 967 رنزاگلے۔ عبدالرزا ق لنکن کے خلاف تیسرے کامیاب ترین بیٹسمین ہیں جنہوں نے 42 مقابلوں میں دو نصف سنچریوں کی مدد سے 697 رنز بنا ئے۔

دوسری جانب سری لنکا کے مہیلا جے وردھنے پاکستانی بالرز کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوئے ہیں اور انہوں نے 51 میچوں میں دو سنچریوں اور 6 نصف سنچریوں کی مدد سے 1403 رنزاسکور کیے۔ کپتان سنگا کارا کا نمبر دوسرا ہے جنہوں نے 34 میچوں میں دو سنچریوں اور تین نصف سنچریوں سے مزین 972 رنز بنا ئے ہیں۔ دلشان بھی متعدد بار پاکستانی بالرز کے سامنے ڈٹ چکے ہیں ۔ انہوں نے21 میچوں میں ایک سنچری اور ایک نصف سنچری کے ساتھ 603 رنز بنائے ہیں۔

بالنگ کے شعبے میں پاکستان کے عبدالرزاق کو لنکن بلے باز کھیلنے میں مشکلات سے درپیش ہوتے رہے جنہوں نے سری لنکن کو 1410 رنز کے عوض 48 وکٹوں کا سودا کیا اور ایک مرتبہ پانچ یا اس سے زائد وکٹیں بھی حاصل کر چکے ہیں۔ اس کے بعد شاہد خان آفریدی کا نام آتا ہے جنہوں نے 51 میچوں میں 1737 رنز دے کر 40 وکٹیں اپنے نام کر رکھی ہیں۔ شعیب اختر تیسرے کامیاب بالر ہیں جنہوں نے 19 میچوں میں 694 وکٹوں کے عوض 27 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی ۔

دوسری طرف سری لنکا کے جادوگر اسپینر مرلی دھرن ہمیشہ ہی پاکستانی بلے بازوں کیلئے درد سر بنے رہے۔ وہ 64 مرتبہ گرین شرٹس کے خلاف میدان میں اترے اور 95 بار پاکستانی کھلاڑیوں کی وکٹوں کی اکھاڑ پچھار کی اور 23 رنز دے کر پانچ کھلاڑیوں کو واپسی کے پروانے تھمانے کا کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔ دلہارافرینڈوموجودہ سری لنکن ٹیم کے دوسرے کامیاب گیند باز ہیں جنہوں نے 13 میچوں میں 22 پاکستانی کھلاڑیوں کو میدان چھوڑنے پر مجبور کیا اور 25 رنز کے عوض 3 وکٹیں ان کی پاکستان کے خلاف یاد گار بالنگ ہے۔

XS
SM
MD
LG