رسائی کے لنکس

پی ایس ایل کا کامیاب انعقاد پاکستان کی کرکٹ کے لیے حوصلہ افزا


اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم پہلے مرحلے میں متاثر کن کارکردگی نہیں دکھا سکی تھی۔ لیکن فائنل تک رسائی اور پھر فتح کو وفاقی دارالحکومت میں شائقین کرکٹ نے خوب سراہا۔

پاکستان سپر لیگ کا پہلا ایڈیشن اپنی تمام تر رونق اور گہما گہمی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا لیکن تقریباً 20 روز تک جاری رہنے والے اس ایونٹ نے پاکستان میں شائقین کرکٹ کو مسحور کیے رکھا۔

منگل کو دبئی میں کھیلے گئے فیصلہ کن مقابلے میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو چھ وکٹوں سے شکست دے کر پہلی پی ایس ایل فاتح ٹیم کا اعزاز حاصل کیا۔

گراؤنڈ میں کامیابی کے جشن کو پاکستان میں ٹی وی اسکرین پر دیکھنے والے شائقین نے بھی اپنے اپنے انداز میں منایا اور یہی عمومی رائے سامنے آئی کہ اس سے جہاں پاکستان کی کرکٹ کو بہت فائدہ ہو گا وہیں نوجوان کھلاڑیوں کے لیے اس دل پسند کھیل کی راہیں ہموار ہوں گی۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم پورے ٹورنامنٹ میں سرفہرست رہی تھی جب کہ اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم پہلے مرحلے میں متاثر کن کارکردگی نہیں دکھا سکی تھی۔ لیکن فائنل تک رسائی اور پھر فتح کو وفاقی دارالحکومت میں شائقین کرکٹ نے خوب سراہا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک سینیئر عہدیدار شکیل شیخ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں پی ایس ایل کو ملک میں کرکٹ کے فروغ کے لیے ایک حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیا۔

ٹورنامنٹ میں پانچ ٹیمیں حصہ لے رہی تھیں جن میں پاکستان کے علاوہ کرکٹ کھیلنے والے دیگر ملکوں کے کھلاڑی بھی شامل تھے۔

سلامتی کی صورتحال کے باعث یہ مقابلے متحدہ عرب امارات میں منعقد کروائے گئے لیکن منتظمین نے عزم ظاہر کیا ہے کہ پی ایس ایل کے آئندہ ایڈیشنز پاکستان میں ہی کروائے جائیں گے۔

مارچ 2009ء میں لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد سے بین الاقوامی ٹیمیں پاکستان آکر کھیلنے سے گریزاں رہی ہیں اور اسی بنا پر اسے اپنے ٹورنامنٹ اور سیریز کی میزبانی متبادل مقام کے طور پر متحدہ عرب امارات میں کرنا پڑی ہیں۔

گزشتہ سال ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا درجہ رکھنے والی زمبابوے کی ٹیم وہ واحد بین الاقوامی ٹیم تھی جس نے ایک مختصر سیریز کے لیے لاہور کا دورہ کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG