رسائی کے لنکس

پاکستان ، جنوبی افریقہ سیریزقومی ٹیم میں مثبت تبدیلیوں کا سبب بن گئی


ساؤتھ افریقہ کا وکٹ کیپر مارک باؤچرپاکستانی بلے باز مصباح الحق کے ساتھ، ابوظہبی میں ٹیسٹ میچ کے دوران۔

ساؤتھ افریقہ کا وکٹ کیپر مارک باؤچرپاکستانی بلے باز مصباح الحق کے ساتھ، ابوظہبی میں ٹیسٹ میچ کے دوران۔

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ابوظہبی میں کھیلے جانے والے دو میچوں کی سیریز اگر چہ ہار جیت کے بغیر اختتام پذیر ہو گئی ہے تاہم کرکٹ پر گہری نظر رکھنے والے پاکستان کرکٹ کی موجودہ صورتحال میں قومی ٹیم کی کارکردگی سے مطمئن نظر آتے ہیں اور ٹیم نے جس طرح متحد ہو کر حریف کا مقابلہ کیا وہ ایک مثبت تبدیلی قرار دی جا رہی ہے ۔

اسپاٹ فکسنگ الزامات کے بعد سلمان بٹ ، محمد عامر اور محمد آصف کی ٹیم میں عدم شمولیت بلاشبہ پاکستانی کرکٹ میں کسی بھی بڑے سانحہ سے کم نہ تھی اور ایسا محسوس کیا جا رہا تھا کہ ٹیم پروٹیز کے غضب کا سامنا کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ناقدین کا خیال تھا کہ پاکستان کی بیٹنگ لائن ساٹھ سے ستر اوورز کی اننگز سے زیادہ کریز پر ٹھہر ہی نہیں سکتی تاہم بلے بازوں کی جانب سے ایسی میچ سیونگ اننگز کھیلی گئیں کہ سب کے منہ بند ہو گئے ۔

کپتان مصباح الحق نے اپنی صلاحیتوں کا کھل کر ایسا اظہار کیا کہ سب دنگ رہ گئے ۔ انہوں نے ایک جانب تو انفرادی کارکردگی سے شائقین کو محظوظ کیا تو دوسری طرف ٹیم کو بھی متحد کرنے میں کامیاب نظر آئے ۔ مصباح الحق نے دونوں میچوں کی چار اننگز میں مجموعی طور پر238 رنز بنائے جبکہ دو مرتبہ جنوبی افریقہ کے بالرز انہیں آؤٹ کرنے میں ناکام ہوئے ، اس طرح وہ ٹیم میں سب سے کامیاب بلے باز ثابت ہوئے۔

کرکٹ حلقوں میں اظہر علی کی شاندار کارکردگی اور نئے ابھرتے ہوئے اسٹار بالرتنویر احمد کی کارکردگی کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں تنویر کی آمد کو پاکستان کیلئے انتہائی خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ اظہر علی جو گزشتہ ٹیسٹ سیریز میں آسٹریلیا کے خلاف خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے تھے، اس بار پروٹیز بالرز کے سامنے ڈٹے رہے ۔ انہوں نے کپتان مصباح الحق کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بیٹنگ لائن میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کیا اور چاروں اننگز میں مجموعی طور پر 237 رنز بنائے جس میں تین نصف سنچریاں شامل ہیں جبکہ وہ آخری اننگز میں 28 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے ۔ اسد شفیق نے دوسرے ٹیسٹ میں صرف ایک 61 رنز کی شاندار اننگ کھیلی ۔

بیٹنگ لائن میں یونس خان کی صورت میں لگایا جانے والا انجکشن بھی کار آمد ثابت ہوا اور یہ پہلا ٹیسٹ بچانے میں خاصی اہمیت کا حامل رہا۔ تجربہ کار یونس خان سیریز میں پاکستان کی جانب سے واحد سنچری میکر ہیں۔ پہلے ٹیسٹ کی دوسری اننگ میں 134 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگ کھیلنے والے اسٹار بلے باز نے سیریز میں مجموعی طور پر 184رنز بنائے ۔ اس کے علاوہ محمد حفیظ اور توفیق عمر کی اوپننگ جوڑی نے بھی بہتر کھیل کا مظاہرہ کیا۔

بیٹنگ کے کھاتے میں اگر عبدالرحمن کے دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگ میں شاندار60 رنز کی بات نہ کی جائے تو زیادتی ہو گی ۔عبدالرحمن نے نہ صرف بالنگ بلکہ بیٹنگ کے ذریعے بھی ٹیم کو دوسرے ٹیسٹ میں فالو آن سے بچایا اور امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے وقتوں میں شاندار ٹیسٹ آل راؤنڈ کی کمی پوری ہو جائے گی ۔

دوسری جانب اگر بالنگ کی بات کی جائے تو پاکستانی مٹی اس حوالے سے ہمیشہ ہی بڑی زرخیز ثابت ہوئی ہے اور تنویر احمد اس کی تازہ مثال ہیں۔دوسرے میچ میں ٹیسٹ ڈبیو کرنے والے تنویراحمد نے امیدوں سے بڑھ کر کارکردگی پیش کی اور چھ پروٹیز کو پویلین کی راہ دکھا کر اپنا انتخاب درست قرار دیا ۔ محمد عامر اور محمد آصف کی عدم موجودگی میں تنویر احمد کی متاثر کن کارکردگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔

اسپنر عبدالرحمن نے دونوں میچوں میں مجموعی طور پر نو وکٹیں حاصل کیں ۔ تجربہ کار عمر گل پہلے میچ کی پہلی اننگ میں تین وکٹیں لینے کے بعد زیادہ کامیاب نظر نہ آئے اور باقی تینوں اننگز میں صرف ایک وکٹ پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔

اب تک جنوبی افریقہ اور پاکستان کی ٹیموں کے درمیان آٹھ سیریز کھیلی گئیں جن میں سے صرف ایک میں کامیابی پاکستان کے حصے میں آئی ،پانچ مرتبہ جنوبی افریقہ کو کامیابی ملی اور دو سیریز بغیر نتیجے پر پہنچے ختم ہو گئیں ۔ پاکستان نے جنوبی افریقہ سے واحد سیریز دو ہزار تین میں جیتی تھی۔ماہرین کے مطابق اگر چہ پاکستانی ٹیم سات سالہ انتظار کے بعد بھی پروٹیز کو شکست تو نہ دے سکی لیکن موجودہ کارکردگی سے بحران میں گھری پاکستان کرکٹ کا مستقبل انتہائی تابناک نظر آ رہا ہے ۔

XS
SM
MD
LG