رسائی کے لنکس

آفریدی اور پی سی بی کا میچ ڈرا، مگر سبق اموز


آفریدی اور پی سی بی کا میچ ڈرا، مگر سبق اموز

آفریدی اور پی سی بی کا میچ ڈرا، مگر سبق اموز

کہنے کے لئے تو سابق کپتان شاہد خان آفریدی اور پاکستان کرکٹ بورڈ ( پی سی بی ) کے درمیان ہونے والا 'عدالتی مقابلہ' ہار جیت کے بغیر ختم ہو گیا لیکن مبصرین اور کرکٹ سے گہرا لگاوٴ رکھنے والے ماہرین کے مطابق اس' میچ' کے پاکستان کرکٹ پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر اب بھی کھلاڑیوں اور بورڈ نے سبق نہ سیکھا تو آنے والا وقت شاید انہیں کبھی معاف نہ کرسکے۔

پی سی بی میں تنازعات کوئی نئی بات نہیں ، خاص طور پر اعجاز بٹ نے تین سال قبل جب سے چیئرمین شپ کا عہدہ سنبھالا ہے تب سے پاکستان کرکٹ متعدد تنازعات کا شکار رہی ہے۔اندرونی معاملات کے علاوہ جن دو بڑے واقعات سے پاکستان کرکٹ سب سے زیادہ متاثر ہوئی ان میں سے ایک سری لنکن ٹیم پر دہشت گرد حملہ اور دوسرا انگلینڈ میں میچ فکسنگ اسکینڈل ہے ۔ سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد پاکستان میں عالمی کرکٹ ختم سی ہو گئی تو میچ فکسنگ اسکینڈل کے بعد پاکستان کرکٹ پر پابندی کی باتیں ہونے لگیں ۔
لیکن ان واقعات کے بعدمشکل حالات میں قومی کرکٹ ٹیم نے جس طرح دنیا پر اپنی حکمرانی قائم کی اس کی مثال بھی ملنا مشکل ہے ۔ سری لنکن ٹیم پر حملے کا جواب دو ہزار نو کا 'ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ ' جیت کر دیا گیا تو میچ فکسنگ کا غیر قانونی دھندہ کرنے والوں کا عالمی کپ دو ہزار گیارہ کے سیمی فائنل میں پہنچ کر منہ بند کردیا گیا۔ٹیم نے ثابت کر دیا کہ پاکستان میں کرکٹ کو کبھی ختم نہیں کیا جا سکتالیکن یہ سب بورڈ اور کھلاڑیوں کے اتحاد ہی سے ممکن ہو سکا اور ٹیم میں کسی کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
عالمی کپ کے سیمی فائنل تک رسائی کے بعد پاکستان کرکٹ میں انتہائی مثبت تبدیلیاں دیکھی گئیں جس میں سب سے بڑی تبدیلی یہ تھی کہ بھارت جیسے روایتی حریف سے شکست کے باوجود کراچی میں ٹیم کا انتہائی شاندار استقبال کیا گیا اور کرکٹ کے حلقوں میں اسے ملک میں کھیل کے لئے نئے دور کا آغاز قرار دیا ۔تاہم مبصرین کے مطابق بدقسمتی نے پاکستان کا ساتھ نہ چھوڑا اور میچ فکسنگ کی گرداب سے ٹیم کو نکالنے والے شاہد خان آفریدی نے اپنے روایتی جذباتی روئیے سے ٹیم کو پھر وہیں لاکھڑا کیا جہاں سے سفر شروع کیا تھا ۔
شاہد آفریدی نہ صرف جذباتی بلکہ انتہائی بے باک اور جارح مزاج طبیعت کے مالک ہیں ۔ ایک جانب تو بھارت سے سیمی فائنل میں شکست پر بھارتی قوم کو مبارک باد پیش کرتے نظر آتے ہیں جس سے نہ صرف انہیں پاکستان بلکہ بھارت میں بھی ہیرو قرار دیا جاتا ہے جبکہ دوسرے ہی روز بھارتیوں کیلئے ایسے ریمارکس دیتے ہیں کہ بعد میں وضاحتیں پیش کرنا پڑتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق کوئی بھی کھلاڑی ٹیم میں صرف کپتانی کیلئے ہی نہیں کھیلتا ،اگر شاہد آفریدی کو بورڈ کی جانب سے قیادت سے ہٹا بھی دیا گیا تھاتو بھی انہیں اس صدمے کو برداشت کرنا چاہیے تھا ، عالمی کپ میں حصہ لینے والی تمام ٹیموں میں وہ فاتح قائد مہندرا سنگھ دھونی کے بعد دوسرے کپتان تھے جنہیں سب سے زیادہ عزت دی گئی ۔ بہر حال حالیہ مقدمہ کا جواز اس وقت ختم ہو گیا تھا جب شاہد آفریدی نے پی سی بی کے نوٹس کا جواب دیتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ ان سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوئی ہے، جس کے بعد اگر وہ قانون کے مطابق انضباطی کمیٹی کے سامنے پیش ہو جاتے اور قانونی چارہ جوئی نہ کرتے تو شاید بات اتنی آگے نہ بڑھتی۔
دوسری جانب چیئرمین پی سی بی کی جانب سے بھی کھلاڑیوں کے معاملے میں دوہری پالیسی اختیار کی جاتی رہی ۔ حالیہ عالمی کپ میں ہی ایک جانب تو فاسٹ بالر شعیب اختر دوران ٹورنامنٹ ہی میڈیا کے ذریعے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہیں تو انہیں کوئی ضابطہ اخلاق کا نوٹس نہیں بھجوایا جاتا تاہم اگر شاہد آفریدی میڈیا کے سامنے ایسا اعلان کرتے ہیں تو انہیں نوٹس بھیج دیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ فوری طور پر شاہد کو دنیا میں کہیں بھی کرکٹ کھیلنے کا اجازت نامہ منسوخ کر دینا انتہائی قدم تھا جس پر آفریدی کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کے علاوہ کوئی راستہ نہ بچا تھا ۔
اب اس بات کا قومی امکان ہے کہ شاہد آفریدی کو کہیں بھی کرکٹ کھیلنے کا اجازت نامہ مل جائے گا ،مگرشاہد آفریدی کی جانب سے اس تمام تر صورتحال میں انکشافات کیے گئے ہیں ان کے جوابات اب کون دے گا ؟ یہ کون بتائے گا کہ ٹیم میں گروہ بندی کون کر رہا ہے ؟شاہد آفریدی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پی سی بی میں موجود لابی کا تعلق میچ فکسنگ مافیا سے ہے یا نہیں یہ باتیں عدالتی فیصلے کے بعد سامنے آ جائیں گی ، اب اس مافیا کے بارے میں کون بتائے گا ؟کیا پی سی بی باضابطہ طور پر بتائے گا کہ شاہد آفریدی کو قیادت سے کیوں ہٹایا گیا تھا ؟ وقار یونس اور شاہد آفریدی کے درمیان کیا اختلافات تھے ؟کیا شاہد آفریدی بتائیں گے کہ پی سی بی کھلاڑیوں کے ساتھ کیا کیا زیادتیاں کرتا ہے ؟ کیا اس واقعہ کے دوران سلیکشن کمیٹی کے معطل ہونے والے رکن محمد الیاس اگر عدالت میں جاتے ہیں تو پی سی بی ان سے بھی مذاکرات کرے گا ؟
یہ ایک حقیقت ہے کہ اس واقعہ کو بلا وجہ دونوں فریقین کی جانب سے طول دیا گیا اور اگر پیالی کے اس طوفان کو اٹھنے سے پہلے ہی دبا دیا جاتا تو پوری دنیا میں ایک مرتبہ پھر پاکستان کرکٹ کا تقدس مجروح نہ ہوتا ۔ اس تمام تر صورتحال میں اگر چہ شاہد آفریدی کو این او سی مل جائے گا مگردوبارہ اسی بورڈ کے تحت پاکستان کیلئے کھیلنا کافی مشکل ہو گا اور اگر ایسا نہیں ہوا تو پاکستان ایک عظیم کرکٹر سے محروم ہو جائے گا ۔
ماہرین کے مطابق جو ہونا تھا سو ہو گیامگر اب ضرورت اس بات کی ہے کہ کھلاڑی اور بورڈ دونوں کو سبق سیکھنا ہو گا تاکہ آئندہ ایسی صورتحال پیدا نہ ۔پی سی بی کو اب یہ پالیسی ترک کرنی ہو گی کہ ایک تنازعہ کو بھلانے کے لئے دوسرا تنازعہ کھڑا کر دیا جائے ۔

XS
SM
MD
LG