رسائی کے لنکس

سلمان بٹ اور محمد آصف کی اپیلیں مسترد


سلمان بٹ، محمد آصف

سلمان بٹ، محمد آصف

سابق کپتان سلمان بٹ کا کہنا ہے کہ انھیں پہلے ہی ایسے فیصلے کی توقع تھی۔

ثالثی کی عالمی عدالت نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ اور فاسٹ باؤلر محمد آصف پر آئی سی سی کی طرف سے عائد پابندی ختم کرنے کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔

پاکستانی کرکٹرز سلمان بٹ اور محمد آصف کےساتھ محمد عامر پر اگست 2010ء میں انگلینڈ کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ میں اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں آئی سی سی نے فروری 2011ء میں ان تینوں کھلاڑیوں پر بالترتیب دس، سات اور پانچ سال تک کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کی تھی۔

سلمان بٹ اور محمد آصف نے اس پابندی کے خلاف ثالثی کی عالمی عدالت میں اپیل دائر کر رکھی تھی لیکن بدھ کو یہ درخواستیں مسترد کردی گئیں۔

لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان بٹ نے اپیل مسترد ہونے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انھیں ایسے فیصلے کی ہی توقع تھی۔

’’پہلے بھی یہی تھا کہ پانچ سال انتظار کرنا ہے لیکن یہ ایک امید تھی کہ شاید اپیل منظور ہوجائے لیکن یہ اُمید کبھی 50 فیصد سے زیادہ نہیں تھا کہ وہ اجازت دے دیں گے ۔‘‘

کرکٹ کی عالمی تنظیم کی طرف سے عائد دس سالہ پابندی میں پانچ سال کرکٹ کھیلنے پر مکمل پابندی ہو گی جب کہ باقی پانچ سال ان پر نظر رکھی جانا تھی۔

سلمان بٹ اور محمد آصف برطانیہ میں دھوکہ دہی اور غیر قانونی رقم کے لین دین کے مرتکب قرار پانے کے بعد قید کی سزا بھی کاٹ چکے ہیں۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر خود پر لگنے والے اسپاٹ فکسنگ کے الزامات کو ہمیشہ مسترد کرتے ہوئے یہ کہتے آئے ہیں کہ انھیں جان بوجھ کر اس میں ملوث کیا گیا۔

’’ یہ وقت بتائے گا۔ دو سال کا عرصہ کوئی اتنا نہیں ہوتا کہ جس میں سب کچھ ہو جائے، کچھ ہو بھی سکتا ہے اب اس بارے میں مزید کچھ کہنا کہ کوئی بے نقاب ہوگا یہ وقت ہی بتائے گا۔‘‘

سلمان بٹ کا کہنا تھا کہ وہ اب اپنی محنت جاری رکھیں گے اور انھیں امید ہے کہ پابندی ختم ہونے کے بعد وہ دوبارہ کرکٹ کھیلیں گے۔

’’ پاکستان (کرکٹ ٹیم کے موجودہ) کپتان 39 سال کے ہیں وائس کپتان 35 سال کا ہے اور اگر میں پانچ سال کی پابندی پوری کر بھی لوں تو میں 30 سال کا ہوتا ہوں، میرا نہیں خیال کہ کوئی وجہ ہے کہ کرکٹ نہ کھیلی جائے۔‘‘

اس الزام میں سزا پانے والے تیسرے پاکستانی کھلاڑی محمد عامر نے آئی سی سی کی پابندی کے خلاف اپیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ انھیں بھی برطانوی عدالت سے چھ ماہ قید کی سزا ہوئی تھی لیکن کم عمری اور اچھے رویے کی وجہ سے تین ماہ بعد ہی عامر کو رہا کردیا گیا۔

نوجوان باؤلر محمد عامر نے بہت کم وقت میں کرکٹ کی دنیا میں اپنی شناخت بنا لی تھی اور اپنی شاندار کارکردگی سے وہ کرکٹ کے حلقوں میں مقبولیت اختیار کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ اسی بنا پر اکثر سابق کرکٹرز ان پر لگنے والی پابندی میں نرمی کی خواہش کا اظہار کرتے آئے ہیں۔
XS
SM
MD
LG