رسائی کے لنکس

سری لنکا، کینیا کا مقابلہ کل ہوگا، کینیا کے لئے انتہائی اہم میچ


سری لنکا، کینیا کا مقابلہ کل ہوگا، کینیا کے لئے انتہائی اہم میچ

سری لنکا، کینیا کا مقابلہ کل ہوگا، کینیا کے لئے انتہائی اہم میچ

پاکستان سے شکست کے بعد گروپ "اے" کے میچ میں میزبان سری لنکا منگل کواپنا غصہ کینیا پر نکالنے کیلئے بے قرار ہے ۔ وہ کینیڈاکے خلاف 210 رنز کی فتح کے بعد کینیا کے خلاف بھی ایسی ہی تاریخ رقم کرنے کیلئے بے چین ہے ۔ دوسری جانب نیوزی لینڈ اور پاکستان سے ہارنے کے بعد کینیا کیلئے یہ میچ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ کینیا کو 2003 کے ورلڈ کپ میں نیروبی میں ہونے والے سری لنکاکے خلاف مقابلے کی یاد تازہ کرنی ہو گی جب اس نے لنکن ٹیم کو شکست سے دو چار کیا تھا اور پانچ مقابلوں میں یہی کینیا کی واحد فتح تھی، چار بار سری لنکا ہی فتح یاب ہوئی ہے ۔

پریماداسا اسٹیڈیم میں پہلی مرتبہ دونوں ٹیمیں آمنے سامنے آئیں گی۔ ماضی میں ایک دوسرے کے خلاف کھیلنے والی سری لنکا اور کینیا کی ٹیموں میں بہت سے کھلاڑی نئے ہیں تاہم بعض ایسے نام بھی موجود ہیں جو حریف ٹیموں کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوئے ہیں جن میں سری لنکا کے کپتان سنگاکارا، جے وردھنے اورمرلی دھرن جبکہ کینیا کے اسٹیوٹکولو اور تھامس اوڈیو شامل ہیں ۔

بیٹنگ کے شعبے میں سری لنکا کے کپتان سنگا کارا کی کارکردگی کینیا کے خلاف سب سے نمایاں ہے اور وہ سری لنکن ٹیم میں واحد بلے باز ہیں جنہوں نے کینیا کے خلاف سنچری اسکور کر رکھی ہے۔ انہوں نے کینیا کے خلاف صرف دو میچ کھیلے اور مجموعی طور پر 108 رنز بنا رکھے ہیں، کینیا کے خلاف ان کا سب سے زیادہ اسکور 103 رنز ہے ۔ ان کے علاوہ جے وردھنے کا ریکارڈ کینیا کے خلاف دیگر بلے بازوں کے مقابلے میں بہتر ہے جنہوں نے دو میچوں میں پچاس رنز بنا رکھے ہیں۔

اسٹینو ٹکولو کینیا کے واحد بلے باز ہیں جو سری لنکن گیند بازوں کے لئے خطرے کا نشان بنے رہے۔ انہوں نے سری لنکا کے خلاف پانچ میچوں میں سے چار میں بیٹنگ کی اور ایک نصف سنچری کی مدد سے 140 رنز بنائے ہیں۔ وہ 96 رنز کی شاندار اننگز بھی سری لنکا کے خلاف کھیل چکے ہیں۔ ان کے علاوہ تھامس اوڈیو کا سری لنکا کے خلاف ریکارڈ کچھ بہتر ہے جنہوں نے چار میچوں میں اب تک کل52 رنز بنائے ہیں ۔

بالنگ میں سری لنکا کے مرلی دھرن نے جہاں دنیا بھر کے بلے بازوں کی ناک میں دم کر رکھا ہے وہیں کینیا کے بلے بازوں کو بھی پریشان کرنے میں انہوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ وہ کینیا کے خلاف سب سے بہترین گیند باز ثابات ہوئے ہیں ۔ انہوں نے پانچ میچوں میں 113 رنز کے عوض کینیا کے تیرہ بلے بازوں کو واپسی کے پروانے تھمائے ۔ 18 رنز کے عوض چار وکٹیں ان کی بہترین کارکردگی ہے۔ ان کے علاوہ موجودہ ٹیم میں فرنینڈو نے کینیا کے خلاف صرف ایک مقابلے میں حصہ لیا اور 33 رنزدے کر کوئی وکٹ حاصل نہیں کی۔

کینیا کی بالنگ لائن میں کولنزااوبایاسری لنکا کے خلاف سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے کھلاڑی ہیں جنہوں نے 62 رنز کے عوض سات لنکن کھلاڑی پویلین بھیجے ۔ 24 رنز کے عوض پانچ کھلاڑی آؤٹ کرنا ان کا سری لنکا کے خلاف یاد گار کارنامہ ہے ۔ ان کے علاوہ تھامس اوڈیو نے چار میچوں میں 162 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔ اسٹینو ٹکولو کا بیٹنگ کے بعد بالنگ میں بھی سری لنکا کے خلاف ریکارڈ بہتر ہے اور انہوں نے پانچ میچوں میں 71 رنز کے عوض 2وکٹیں حاصل ر کھی ہیں ۔

ماہرین کے مطابق اس وقت کینیا مختلف مسائل میں گھرا نظر آتاہے اور سری لنکا کے خلاف کوئی بڑا اپ سیٹ ہوتا نظر نہیں آتا۔ نیوزی لینڈ اور پاکستان سے شکست کے بعد کینیا کرکٹ کے سربراہ ثمر انعامدار بھی میدان میں اتر آئے ہیں اور انہوں نے گزشتہ روز میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کینیا کے کھلاڑیوں اور ویسٹ انڈین کوچ ایلڈن میں اختلافات ہیں جن کے باعث کھلاڑیوں کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے تاہم کپتان جمی کمانڈے نے اس کی تردید کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیم فتح کیلئے متحد ہے ۔

جمی کمانڈے کا کہنا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ سری لنکا ایک مشکل حریف ہے اور اسے ہوم گراؤنڈ پر شاندار اسپن بالنگ کے باعث شکست سے دوچار کرنا آسان بات نہیں لیکن اگر ہم گیارہ کے گیارہ کھلاڑی متحد ہو کر کارکردگی کا مظاہرہ کریں تو فتح ناممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ اور پاکستان کے خلاف جہاں بیٹنگ ناکام ہوئی وہیں بالرز نے بھی اچھی کارکردگی نہیں دکھائی اور صرف پاکستان کے خلاف 37 وائٹ گیندیں پھینکنا کسی طور پر بھی مناسب نہیں ۔

دوسری جانب سری لنکا کے کپتان سنگاکارا نے اپنی ٹیم پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان سے شکست کو بھول کر آنے والے میچوں پر توجہ دیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے شکست بڑی بات نہیں اور انہیں آگے ایونٹ میں بہت سے مقابلوں کیلئے میدان میں اترنا ہے ۔ پاکستان سے شکست میں بہت کچھ سیکھا ہے اور امید ہے کہ کینیا کے مقابلے میں غلطیاں نہیں دھرائی جائیں گی ۔

XS
SM
MD
LG