رسائی کے لنکس

عالمی کپ : بھارت، سری لنکا کی کارکردگی اور اعدادوشمار کی جادوگری


عالمی کپ : بھارت، سری لنکا کی کارکردگی اور اعدادوشمار کی جادوگری

عالمی کپ : بھارت، سری لنکا کی کارکردگی اور اعدادوشمار کی جادوگری

شائقین کرکٹ کا طویل انتظار ختم ہونے کو ہے اور کل یعنی ہفتہ کویہ فیصلہ ہوجائے گا کہ عالمی کرکٹ پر آئندہ چار سالوں تک حکمرانی کےلئے تاج بھارت کےسر سجتا ہے یا سری لنکا کے ۔دونوں ٹیموں میں سخت مقابلہ ہونے کی توقع کی جارہی ہے۔ دونوں ٹیموں کی بیٹنگ لائن بہت مضبوط ہے لیکن باؤلنگ میں سری لنکن بالرز کو بھارتی گیند بازوں پر فوقیت حاصل ہے۔آیئے بیٹنگ اور بالنگ کے حوالے سے دونوں ٹیموں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔


بیٹنگ میں تقابلی جائزہ

بھارت نے عالمی کپ میں اب تک 2194 رنز بنائے ہیں۔یعنی ہر میچ میں اوسطاً274 رنز جبکہ سری لنکا کی جانب سے بنائے گئے مجموعی رنز کی تعداد 1933 ہے۔ یعنی ہر میچ میں اوسطاً 242 رنز۔بالفاظ دیگر یہاں بھی دونوں کو سخت مقابلہدرپیش ہے ۔ اب تک کے مقابلوں میں بھارت نے ایک اوور میں اوسطاً 5.80 رنز بنائے ہیں جبکہ سری لنکا کی اوسط5.70 ہے۔گویا یہاں بھی دونوں میں معمولی سا فرق ہے ۔ مجموعی اسکور بناتے ہوئے بھارت نے 58 وکٹ گنوائے جبکہ سری لنکا نے 40 وکٹ کھوئے ۔یہ پہلو سری لنکا کے حق میں جاتا ہے۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کے مقابلے میں سری لنکا کے اوپنر زیادہ کامیاب رہے ہیں۔سری لنکا کے اوپنر نے ایک میچ میں اوسطاً 97اعشاریہ 9 رنز بنائے جبکہ بھارتی اوپنرز کا اوسط 53اعشاریہ 9 رنز رہا۔ تاہم بھارتی اوپنر سری لنکا کے مقابلے میں زیادہ جارح ثابت ہوئے ہیں۔

بھارت کا اسٹرائیک ریٹ 102 اعشاریہ 6 ہے جبکہ سری لنکا کا اسٹرائیک ریٹ90اعشاریہ ایک ہے ۔ مڈل آرڈریعنی تین ، چار اور پانچویں نمبر کے بلے بازوں میں سری لنکا کے کھلاڑی بہتر رہے کیونکہ ان کی وکٹیں گرنے کی اوسط 56اعشاریہ 2 ہے جبکہ بھارتی مڈل آرڈرز کی وکٹیں گرنے کی اوسط 41اعشاریہ 6رہی ۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ٹیموں کے مڈل آرڈر بلے بازوں کے رنز بنانے کی اوسط 86اعشاریہ 5 ہے ۔ بھارتی مڈل آرڈرز نے سری لنکا کے مقابلے میں زیادہ رنز بنائے جن کی مجموعی تعداد 874 ہے ۔ انہوں نے یہ اسکور 1010 گیندوں پر کیا جبکہ سری لنکن مڈل آرڈر نے 845 گیندوں پر 731 رنز بنا ئے ہیں ۔

لوئر مڈل آرڈر یعنی 6,7 اور 8 ویں نمبر پر آنے والے بلے باز بھارت کے بہتر رہے جنہوں نے 390 گیندوں پر 304 رنز بنائے جبکہ سری لنکن نے 205 گیندوں پر172 رنز بنائے ۔

پاور پلے کی بات کی جائے تو اگر چہ اس مرحلے میں بھارتی بلے بازوں نے زیادہ رنز کیے تاہم اس دوان سری لنکا کے مقابلے میں ان کی زیادہ وکٹیں بھی زیادہ گریں ۔ بھارت نے پاورپلے میں 6 اعشاریہ 4 کی اوسط سے رنز اسکور کیے جبکہ سری لنکا کی اوسط 6 اعشاریہ ایک ہے ۔ بھارت نے پاور پلے میں 43اعشاریہ5 کی اوسط سے وکٹ گنوائی جبکہ سری لنکا کے کھلاڑی 61 اعشاریہ 2 کے اوسط پر آؤٹ ہوئے۔

بھارتی بلے باز اگر چہ بہت تیزی رنز بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن اس دوران کی وکٹیں بھی تیزی سے گرتی ہیں لہذا کل کے میچ میں بھارت کو تیز رنز بنانے کے ساتھ ساتھ وکٹوں کا بھی خیال رکھنا ہو گا ۔

دوسری جانب سری لنکن اوپنرز اور مڈل آرڈر بہت مضبوط نظر آ رہا ہے اور جاندار کارکردگی کے باعث سری لنکا خطرناک ترین بیٹنگ رکھنے والی ٹیم کی صورت اختیار کر چکی ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ لوئر آرڈر کو بھی اپنی ذمہ داری محسوس کرنی ہو گی تاکہ مشکل وقت میں وہ ٹیم کو سہارا دے سکے ۔

بالنگ کا تقابلی جائزہ

سری لنکن پیسرز نے عالمی کپ میں 113 اوورز کرائے ہیں جو بھارتی فاسٹ بالرز کے 157 کے مقابلے میں کم ہیں جن میں سری لنکا نے 23 جبکہ بھارت نے 33 وکٹیں حاصل کیں ۔ دونوں ٹیموں کے پیسرز کی اوسط تقریباً برابر نظر آ رہی ہے ۔ بھارتی فاسٹ بالرز کا اوسط 24 اعشاریہ 9 ہے جبکہ سری لنکا کے بالرز کی ایوریج 23 اعشاریہ 7 ہے۔ البتہ سری لنکن بالرز کا اکانومی ریٹ4 اعشاریہ 83 ہے جو بھارت کے بالرز سے بہتر ہے جن کا اکانومی ریٹ 5اعشاریہ 23ہے۔

سری لنکن اسپنرزبھی بھارتی اسپنرز پر پلہ بھاری ہے ۔ سری لنکا کے اسپنرز نے ایک اوور میں 3اعشاریہ 79 کی اوسط سے رنز دیئے جبکہ بھارتی اسپنرز نے 4 اعشاریہ 86 کی اوسط سے رنز دیئے ۔ سری لنکن اسپنرز نے 20 اعشاریہ 4 رنز کی اوسط سے وکٹ حاصل کی جبکہ بھارت کو وکٹ گرانے کے لئے 37اعشاریہ 9 رنز کی اوسط سے رنز دینے پڑے ۔

پاور پلے میں بھی سری لنکا کےبالرز نے بھارت کے مقابلے میں کم رنز دیئے۔ سری لنکا نے پاور پلے کے ایک اوور میں 4اعشاریہ 5 کی اوسط سے نز دیئے اور 26 اعشاریہ 7 کی اوسط سے وکٹ حاصل کی جبکہ بھارت کے ایک اوور میں 5 اعشاریہ 4 کی اوسط سے رنز حاصل کیے اور ان کی وکٹ لینے کی اوسط 33 اعشاریہ 1 ہے ۔

اس کارکردگی کے پیش نظر یہ کہاجاسکتا ہے کہ سری لنکن باؤلنگ لائن بھارت کے مقابلے میں بہت بہتر ہے اور دواپریل کے مقابلے میں بھارت کی باؤلنگ لائن کو بہت زیادہ محنت سے کام لینا ہوگا۔

دوسری جانب اگر چہ سری لنکن باؤلنگ حکمت عملی اب تک بہت موثراور کامیاب رہی ہے تاہم انہیں یہ پہلو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا کہ اگر کسی موقع پر بھارتی بلے باز وں کا پلڑا بھاری ہوجائے تو وہ اپنے پلان بی کے ذریعے اس پر قابو پاسکیں۔

XS
SM
MD
LG