رسائی کے لنکس

کرکٹ ورلڈ کپ 2011: گروپ 'بی' کی ٹیموں کا جائزہ

  • عمیر ریاض

کرکٹ ورلڈ کپ 2011: گروپ 'بی' کی ٹیموں کا جائزہ

کرکٹ ورلڈ کپ 2011: گروپ 'بی' کی ٹیموں کا جائزہ

رواں ماہ کی 19 تاریخ سے شروع ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ 2011 میں شریک 14 ٹیموں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس تبصرے کے پہلے حصے میں ہم گروپ "اے" کی ٹیموں کا تجزیہ پیش کرچکے ہیں۔ آئیے آج گروپ "بی" میں شامل ٹیموں پر ایک نظر دوڑاتے ہیں۔


بھارت
آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ کی بہترین اور ون ڈے رینکنگ میں دوسرے نمبر کی حامل بھارتی ٹیم اکثر حلقوں اور ماہرین کی جانب سے اس ورلڈ کپ کی "موسٹ فیورٹ" قرار دی جارہی ہے۔ ایونٹ کا شریک میزبان ہونے کے ناطے بھارت کو ہوم گراؤنڈ کا ایڈوانٹیج بھی حاصل ہے جو اس کی کامیابی کے امکانات کو مزید روشن کردیتاہے۔
بھارتی ٹیم کے تقریباً ارکان اس وقت بہترین پرفارمنس دے رہے ہیں اور کھلاڑیوں کا باہمی اشتراک اور تعاون دیکھتے ہوئے اسے ایک مثالی ٹیم قرار دیا جاسکتا ہے۔ گزشتہ سال کے اختتام پر نیوزی لینڈ کے خلاف کلین سوئپ نے جہاں ٹیم کے مورال کو بلند کیا ہے وہیں ورلڈ کپ سے عین قبل جنوبی افریقہ کے ایک نسبتاً "سخت دورہ " نے ٹیم مینجمنٹ کے سامنے ہر کھلاڑی کے مضبوط اور کمزور پہلووں کو مکمل طور پر آشکار کرکے بھرپور تیاری کا موقع فراہم کردیا ہے۔

انڈین ٹیم کی بیٹنگ سائیڈ سب سے مضبوط ہے جہاں وریندر سہواگ اور یووراج سنگھ کے ساتھ ساتھ لیجنڈ بلے باز سچن ٹنڈولکر موجود ہیں جو اپنے کیریئر کا پانچواں اور غالباً آخری ورلڈ کپ کھیلیں گے۔ ٹیم کی فاسٹ اور اسپن بالنگ بھی مضبوط ہے جن میں ظہیر خان اور ہربھجن سنگھ سرِ فہرست ہیں۔

کپتان مہندرا سنگھ دھونی کی ٹیم اس وقت توازن اور پوٹینشل کے اعتبار سے 1983ء کی تاریخ دہرانے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے جب کپیل دیو کی قیادت میں بھارت نے لارڈز کے میدان میں ویسٹ انڈیز کو شکست دے کر اپنا پہلا اور اب تک کاواحد ورلڈ کپ جیتا تھا۔

ٹیم کی اس جارحانہ اسپرٹ کی تصدیق اتوار کو بنگلور میں کھیلے گئے وارم اپ میچ کے نتیجے سے بھی ہوتی ہے جس میں بھارت نے دفاعی چیمپئن آسٹریلیا کو 38 رنز سے ہرادیا تھا۔
ورلڈ کپ کا پہلا میچ 19 فروری کو بھارت اور دوسرے شریک میزبان بنگلہ دیش کے درمیان ڈھاکہ میں کھیلا جائے گا۔

انگلینڈ
کرکٹ کی آبائی سرزمین انگلینڈ کی ٹیم اب تک کوئی بھی ورلڈ کپ نہیں جیت پائی۔ گوکہ انگلش ٹیم نے 1979ء ، 1987ء اور 1992ء کے فائنل تک رسائی ضرور حاصل کی لیکن 1992ء کے بعد سے اسے ورلڈ ایونٹ کا فائنل کھیلنے کا اعزا زبھی حاصل نہیں ہوسکا۔
تاہم انگلش ٹیم اس وقت بہترین فارم میں ہے اور حالیہ ایشز سیریز میں اس کی اچھی کارکردگی کے باعث اسے اس ٹورنامنٹ کی فیورٹ ٹیموں میں شمار کیا جارہا ہے۔
گزشتہ ٹی20 ورلڈ کپ اپنے نام کرکے انگلینڈ نے کرکٹ کی تاریخ کی اپنی پہلی اور واحد آئی سی سی ٹرافی جیتی تھی اور اینڈریو اسٹراس کی ٹیم اس بار عالمی کپ میں ٹی 20 کی یہ تاریخ دہرانے کی پوری کوشش کرے گی۔
بلے بازوں میں انگلینڈ کا انحصار کپتان اسٹراس، ایان بیل، ائن مارگن، کیون پیٹرسن اور جوناتھن ٹراٹ جبکہ بالرز میں جیمز اینڈرسن، ٹم بریسنن، اسٹوورٹ براڈ ، اجمل شہزاد اور گرائم سوان جیسے کھلاڑیوں پر ہوگا۔ ساتھ ہی ساتھ پال کولنگ ووڈ جیسے آل راؤنڈرز کی موجودگی سے ٹیم ایک متوازن اور مضبوط پوزیشن میں ہے۔
انگلینڈ اپنا پہلا میچ نیدر لینڈز کے خلاف 22 فروری کو بھارتی شہر ناگ پور میں کھیلے گا۔

جنوبی افریقہ
جنوبی افریقہ بھی آج تک صر ف ایک ہی آئی سی سی ایونٹ اپنے نام کرپایا ہے اور وہ تھی 1998 کی چیمپئنز ٹرافی۔ اس وقت ٹیم کے پاس ڈیل اسٹین اور مارن مارکل جیسے بالرز موجود ہیں جنہیں بلاشبہ دنیا کے بہترین بالرز میں شمار کیا جاسکتا ہے۔
ساتھ ہی ساتھ ہاشم آملہ اور اے بی ڈی ویلئرز کی ٹیم میں "اِن فارم" موجودگی اور جیکوس کیلس اور کپتان گریم اسمتھ جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کے ہمراہ پروٹیز ورلڈ کپ کیلئے ایک متوازن اور بھرپور ٹیم لے کر میدان میں اتر رہے ہیں۔ تاہم اسپنرز کی عدم موجودگی ٹیم کیلئے کسی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
جنوبی افریقہ ورلڈ کپ میں اپنا پہلا لیگ میچ 24 فروری کو ویسٹ انڈیز کے خلاف نئی دہلی میں کھیلے گا۔

بنگلہ دیش
بنگلہ دیش نے اپنا پہلا کرکٹ ورلڈ کپ1999ء میں انگلینڈ میں کھیلا تھا اور اسی ٹورنامنٹ میں اس نوزائیدہ ٹیم نے پاکستان کو 62 رنز سے شکست دے کر سب کو حیران کردیا تھا۔
2007ء میں کھیلے گئے گزشتہ ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش نے بھارت کو اپ سیٹ شکست سے دوچار کیا تھا اور شکیب الحسن کی قیادت میں بنگلہ دیشی ٹیم اس بار بھی ماضی کی ایسی ہی کامیابیوں کی داستان دہرانے کیلئے پرعزم اور تیار ہے۔
شریک میزبان ہونے کے ناطے بنگلہ دیش کو ہوم گراؤنڈ کا ایڈوانٹیج حاصل ہے جبکہ حال ہی میں کھیلی گئی ہوم سیریز میں نیوزی لینڈ کو 0-4 سے مات دینے کے بعد ٹیم کا مورال بلند ہے اور ٹیم بھرپور فارم میں ہے۔
بنگلہ دیش ایونٹ کے افتتاحی میچ میں ڈھاکہ کے ہوم گراؤنڈ پر 19 فروری کو بھارت کا مقابلہ کرے گا۔

ویسٹ انڈیز
ابتدائی دو کرکٹ ورلڈ کپس کی فاتح اور کرکٹ کی دنیا میں ناقابلِ تسخیر سمجھی جانے والی ویسٹ انڈین ٹیم گزشتہ کئی برسوں سے اپنی کھوئی ہوئی عظمتِ رفتہ کے حصول کی کوششوں میں مصروف ہے۔
امید کی جارہی ہے کہ ویسٹ انڈین ٹیم اس ورلڈ کپ کو بھی ایک موقع سمجھتے ہوئے اپنی پوری جان لڑادے گی تاہم کرس گیل کی کپتانی اور چندر پال اور سروان جیسے کھلاڑیوں کی موجودگی کے باوجود اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ یہ ٹیم لیگ میچز سے آگے بڑھ کر کوارٹر فائنلز تک بھی پہنچ پائے۔ تاہم ویسٹ انڈینز کی جانب سے کسی اپ سیٹ کے امکانات کو نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔
ویسٹ انڈیز کا پہلا میچ 24 فروری کو جنوبی افریقہ کے خلاف نئی دہلی میں ہوگا۔

آئر لینڈ
2009ء میں ہونے والے کوالیفائنگ راؤنڈ کے فائنل میں کینیڈا کو نو وکٹوں سے شکست دے کر آئر لینڈ نے ورلڈ کپ 2011 کی ٹاپ ایسوسی ایٹ ٹیم ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔
اس ورلڈ کپ کے لیگ میچز میں آئر لینڈ 2007 کے ورلڈ کپ کی تاریخ دہرانے کی بھرپور کوشش کرے گی جب اس نے بنگلہ دیش اور پاکستان کو شکست دی تھی۔
2007ء کا ورلڈ کپ کھیلنے والے کئی آئرش کھلاڑی اس بار بھی اسکواڈ کا حصہ ہیں جن میں 2009ء کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں 515 رنز اسکور کرنے والے ولیم پورٹرفیلڈ، ٹرینٹ جانسن، بوائیڈ رینکن اور نیل اوبرائن شامل ہیں۔
آئرلینڈ اپنا پہلا میچ 25 فروری کو ڈھاکہ میں شریک میزبان بنگلہ دیش کے خلاف کھیلے گا۔

نیدر لینڈز
نیدر لینڈ کی ٹیم 2009 میں جنوبی افریقہ میں ہونے والے کوالیفائنگ راؤنڈ کے ذریعے اس سال کے ورلڈ کپ میں شرکت کی حقدار قرار پائی تھی۔ تاہم یہ ٹیم کرکٹ کی دنیا میں نئی نہیں اور اس سے قبل 1996ء ، 2003ء اور 2007ء کے ورلڈ کپس میں شریک ہوچکی ہے۔
پیٹر بورن کی قیادت میں نیدرلینڈ کی ٹیم اس ورلڈ کپ میں 2009 کے ٹی 20 ورلڈ کپ کی تاریخ دہرانے کی پوری کوشش کرے گی جب اس نے میزبان انگلینڈ کو چار وکٹوں سے شکست دے کر کرکٹ کے حلقوں کو چونکا دیا تھا۔
نیدر لینڈ عالمی ایونٹ کا اپنا پہلا لیگ میچ22 فروری کو ناگ پور میں انگلینڈ کے خلاف کھیلے گا۔

XS
SM
MD
LG