رسائی کے لنکس

'شربت گلہ کے ساتھ روا رکھے جانا والا سلوک قابل افسوس'


شربت گلہ

شربت گلہ

پاکستان میں مبصرین کا کہنا ہے کہ کسی ایک واقعے کو جواز بنا کر لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی دہائیوں تک مہمان نوازی کرنے والے ملک پر تنقید کرنا مناسب رویہ نہیں ہے۔

برسوں پہلے اپنی سبزگوں آنکھوں سے پوری دنیا کو اپنا گرویدہ کر کے "افغان مونا لیزا" کا خطاب پانے والی شربت گلہ تقریباً تین دہائیوں کے بعد پاکستان سے اپنے آبائی وطن افغانستان واپس پہنچ چکی ہیں جہاں صدر اشرف غنی نے ان کا خیرمقدم کیا اور ان کی آبادکاری کے لیے ہرممکن تعاون کا یقین دلایا۔

لیکن جن حالات میں شربت گلہ کی پاکستان سے افغانستان واپسی ہوئی اس نے افغانوں پر کچھ اچھا تاثر نہیں چھوڑا اور اس خاتون پر پاکستان کی جعلی شناختی دستاویزات حاصل کرنے کے الزام میں دی گئی سزا کی بنا پر مختلف افغان حلقوں کی طرف سے پاکستان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

شربت گلہ افغان صدر اشرف غنی کے ہمراہ

شربت گلہ افغان صدر اشرف غنی کے ہمراہ

تاہم پاکستان میں حکام اور غیر جانبدار مبصرین اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ شربت گلہ کے ساتھ ملکی قانون کے مطابق عدالت نے کارروائی کی جب کہ حکومت ان کے معاملے پر نرم رویہ اپنائے ہوئے تھی۔

افغانستان میں انسانی حقوق کی ایک غیر سرکاری تنظیم "افغانستان انڈیپینڈنٹ ہیومن رائٹس کمیشن" کے سربراہ لعل گل لعل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اس سارے معاملے پر پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جن حالات میں شربت گلہ کی وطن واپسی ہوئی اس پر افغانستان کے لوگ بہت ناراض ہیں۔

"وہ ایک خاتون ہے اور ہمارا جو کلچر ہے اور پاکستان کا جو کلچر ہے وہ ایک ہی ہے اس میں جو خواتین کی بے عزتی اچھی بات نہیں ساری قوم اس پر ناراض ہے۔۔وہ مشہور خاتون ہیں اور ان کی بڑی حیثیت کے حوالے سے جو اس کی بے عزتی ہو گئی تھی اس کے خلاف جو مقدمہ بنایا گیا بہت افسوس کی بات ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ "جو آخری لمحات میں باقی افغان مہاجرین کے ساتھ ہو رہا ہے اس میں جو پاکستان نے ہم افغانوں کی مہمان نوازی کی تھی اس پر خاک ڈالنے کے برابر ہے۔"

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایک بے سہارا پناہ گزین خاتون ہونے کے ناطے شربت گلہ کو جس تکلیف سے گزرنا پڑا وہ قابل افسوس ہے تاہم ان کے بقول قانون کے مطابق ہونے والی کارروائی پر پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنانا کسی طور بھی مناسب نہیں۔

شربت گلہ کو گزشتہ ہفتے پشاور کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا

شربت گلہ کو گزشتہ ہفتے پشاور کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا

جمعہ کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر نے کہا کہ شربت گلہ کو گرفتار نہیں کیا جانا چاہیے تھا اور صرف اس کا شناختی کارڈ بلاک ہونا چاہیے لیکن جب مقدمہ بن گیا تو پھر قانون کے مطابق وہی کارروائی ہوئی جو کہ ہر ملک اپنے قانون کے مطابق کیا کرتا ہے۔

"شناختی کارڈ کا بلاک ہونا اور اس حوالے سے جو کارروائی ہونی ہے اس کو منطقی انجام تک پہنچانا ہماری ایک قانونی شق ہے اور اس پر ہم عمل کریں گے خواہ نیشنل جیوگرافک ہی نہیں نیوز ویک اور ٹائمز ہی کیوں نہ ان پر اداریے لکھیں۔۔جو تنقید کر رہے ہیں چاہے وہ امریکی ہیں یا یورپی وہ بتائیں کہ اگر ان کے ملک میں کوئی جعلی شناختی دستاویزات حاصل کرتا ہے تو کیا اسے چھوڑا جائے گا۔"

ایک پناہ گزین خاندان وطن واپسی کے لیے تیار ہے

ایک پناہ گزین خاندان وطن واپسی کے لیے تیار ہے

1980ء کی دہائی میں اپنے خاندان کے ساتھ افغانستان میں جنگ کے باعث پاکستان منتقل ہونے والی شربت گلہ کے بارے میں گزشتہ سال یہ خبر سامنے آئی تھی کہ انھوں نے پاکستان کا شناختی کارڈ حاصل کیا ہے جس پر کارروائی کرتے ہوئے حکام نے ان کا شناختی کارڈ منسوخ کر دیا تھا۔

وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش تھی کہ وہ شربت گلہ کے پاکستان میں قیام میں توسیع کرتے جب کہ خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت بھی انھیں پاکستان میں طبی سہولت فراہم کرنے کا کہہ چکی تھی۔ لیکن شربت گلہ نے اپنے وطن واپس جانے کو ترجیح دی۔

پاکستان میں مبصرین کا کہنا ہے کہ کسی ایک واقعے کو جواز بنا کر لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی دہائیوں تک مہمان نوازی کرنے والے ملک پر تنقید کرنا مناسب رویہ نہیں ہے۔

پاکستان میں 15 لاکھ افغان پناہ گزین باقاعدہ اندراج کے ساتھ بطور پناہ گزین رہ رہے ہیں جن کے قیام میں آئندہ سال مارچ تک توسیع کی جا چکی ہے جب کہ لگ بھگ اتنی ہی تعداد میں افغان شہری بغیر قانونی دستاویزات کے ملک کے مختلف حصوں میں مقیم ہیں۔

XS
SM
MD
LG