رسائی کے لنکس

پنامہ میں روکے گئے جہاز میں ہتھیار تھے، کیوبا کی تصدیق


شمالی کوریا کا وہ جہاز جو کیوبا سے ہتھیاروں کے پرزے لے جارہا تھا

شمالی کوریا کا وہ جہاز جو کیوبا سے ہتھیاروں کے پرزے لے جارہا تھا

کیوبا کی وزارتِ خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بحری جہاز کیوبا سے فرسودہ ہتھیاروں کی کھیپ مرمت کی غرض سے شمالی کوریا لے جارہا تھا۔

کیوبا کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ پانامہ کی حکومت کی جانب سے روکے جانے والے شمالی کوریا کے بحری جہاز میں اس کے ہتھیار لدے ہوئے تھے۔

کیوبا کی وزارتِ خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بحری جہاز کیوبا سے فرسودہ ہتھیاروں کی کھیپ مرمت کی غرض سے شمالی کوریا لے جارہا تھا۔

بیان کے مطابق جہاز میں طیارہ شکن میزائلوں کی بیٹریاں، راکٹ اور دیگر فوجی آلات کے پرزے موجود تھے جنہیں مرمت کے بعد کیوبا کو واپس کیا جانا ہے۔

کیوبا سے شمالی کوریا جانے والے اس جہاز کو منشیات لے جانے کے شبہ میں پیر کو پانامہ کی حکومت نے 'پانامہ کینال' سے گزرتے ہوئے روکا تھا۔

بعد ازاں پانامہ کے صدر نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ جہاز کی تلاشی کے دوران میں "جدید میزائلوں کے پرزے" برآمد ہوئے تھے جنہیں شکر کی بوریوں کے پیچھے چھپایا گیا تھا۔

پانامہ کے حکام کے مطابق تلاشی کے دوران میں جہاز کے کپتان نے خود کشی کی کوشش کی تھی جب کہ جہاز کے 35 رکنی عملے نے حکام کے ساتھ تعاون سے انکار کردیا تھا۔

پانامہ کی حکومت نے کپتان سمیت عملے کے تمام افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ امکان ہے کہ جہاز میں چھپائے جانے والے ہتھیاروں کے پرزوں کی جانچ پڑتال میں کئی روز لگ سکتے ہیں۔

عالمی قوانین کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پانامہ کی حکومت جہاز کا معاملہ اقوامِ متحدہ کے حوالے کرسکتی ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جاسکے کہ آیا ہتھیاروں کی اس ترسیل کے نتیجے میں عالمی ادارے کی پابندیوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں۔

خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ نے شمالی کوریا پر بیلسٹک میزائل اور نیوکلیئر ٹیکنالوجی سے متعلق آلات اور پرزے خریدنے یا فروخت کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

رواں سال فروری میں شمالی کوریا کی جانب سے تیسرا ایٹمی تجربہ کرنے کے بعد اقوامِ متحدہ نے یہ پابندیاں مزید سخت کردی تھیں جب کہ پابندیوں کا نفاذ یقینی بنانے کے لیے رکن ممالک کو شمالی کوریا کے جہازوں کو روک کر ان کی تلاشی لینے کا اختیار بھی دے دیا تھا۔

امریکہ نے پانامہ حکومت کی جانب سے شمالی کوریا کے جہاز کو تلاشی کی غرض سے روکنے کے اقدام کی "بھرپور حمایت" کا اعلان کیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ اگر پانامہ کی حکومت نے اس معاملے پر کسی مدد کی درخواست کی تو واشنگٹن اس کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے بالکل تیار ہے۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا کے دنیا کے بہت کم ممالک کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات قائم ہیں۔ کیوبا کا شمار شمالی کوریا کے چند قریبی اتحادی ممالک میں ہوتا ہےاور دونوں ملکوں کی کمیونسٹ حکومتیں مختلف عالمی اور دو طرفہ معاملات پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتی آئی ہیں۔
XS
SM
MD
LG