رسائی کے لنکس

کیوبا مزائل بحران، نصف صدی گزر گئی

  • آندرے نسنیرا
  • واشنگٹن

صدر جان ایف کینیڈی دو نومبر 1962ء کو کیوبا مزائل بحران پر تقریر کرتے ہوئے

صدر جان ایف کینیڈی دو نومبر 1962ء کو کیوبا مزائل بحران پر تقریر کرتے ہوئے

وہ کیا واقعات تھے جو پچاس برس قبل اکتوبر کے مہینے میں دنیا کو تباہی کے اتنا قریب لے آئے تھے؟

اس مہینے کیوبا کے مزائل کے بحران کی 50 ویں برسی ہے ۔ امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان یہ وہ تنازعہ تھا جس کی وجہ سے دنیا نیوکلیئر جنگ کے دہانے پر پہنچ گئی تھی ۔ وہ کیا واقعات تھے جو پچاس برس قبل اکتوبر کے مہینے میں دنیا کو تباہی کے اتنا قریب لے آئے تھے؟

اِس بارے میں’ وائس آف امریکہ‘ کے نامہ نگار آندرے نسنیرا بتاتے ہیں کہ، تاریخ داں کہتے ہیں کہ کئی ایسے اہم واقعات ہوئے جِن کی بنا پر سوویت لیڈر نکیتا خروشچیف نے سنہ1962 میں کیوبا میں نیوکلیئر مزائل نصب کرنے کا فیصلہ کیا ۔

جنوری 1961 ءمیں جان ایف کینیڈی امریکہ کے صدر بنے ۔ خارجہ پالیسی کے شعبے میں، اُن کے سامنے ایک مشکل سوال یہ تھا کہ قوم پرست فیڈل کاسٹرو سے کیسے نمٹا جائے جنھوں نے 1959 میں General Fulgencio Batista کا تختہ الٹا تھا۔ جنرل Batista کیوبا کے صدر تھے اور انہیں امریکہ کی حمایت حاصل تھی ۔

اپریل 1961ء میں ،مسٹر کینیڈی نے Bay of Pigs کا حملہ شروع کیا ۔ یہ کیوبا کے جلا وطن لوگوں کی فورس کی طرف سے، جنھیں سی آئی اے نے تربیت دی تھی، کاسٹرو کا تختہ الٹنے کی کوشش تھی جو ناکام رہی ۔

سابق سوویت لیڈر کے بیٹے ، Sergei Khrushchev کہتے ہیں کہ ماسکو کو بہر حال فیڈل کاسترو کی مدد کرنی تھی۔ ان کے الفاظ ہیں، ’ایک سپرپاور کی حیثیت سے ، سوویت یونین کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے تمام اتحادیوں کا دفاع کرے، چاہے اس میں نیوکلیئر جنگ کا خطرہ ہی کیوں نہ ہو ۔ سوویت انٹیلی جنس نے ایسی اطلاعات حاصل کی تھیں کہ امریکی خزاں میں کسی وقت، شاید اکتوبر میں، کیوبا پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں ۔ لہٰذا ، اس زمانے میں، کیوبا سوویت یونین کے لیے اتنا ہی اہم ہو گیا جتنا مغربی برلن امریکہ کے لیے تھا‘۔

کیوبا کے مزائل کے بحران کے بارے میں ایک کتاب Cuban Missile Crisis کے مصنف Graham Allison کہتے ہیں کہ یہ وہ وقت تھا کہ سوویت یونین کو یورپ میں روایتی فوجوں کے معاملے میں امریکہ پر زبردست برتری حاصل تھی ۔ ان کے الفاظ ہیں:

’امریکہ کسی بھی طرح مغربی برلن کا دفاع کرنے کا پابند تھا ۔ خروشچیف کی کوشش یہ تھی کہ مغربی برلن کے مسئلے کو حل کر لیا جائے۔ حل کرنے سے ا ن کا مطلب یہ تھا کہ اسے سوویت یونین کے حلقۂ اثر میں ضم کر لیا جائے ۔ ادھر آئیزن ہاور اور کینیڈی دونوں نے یہ عزم کر رکھا تھا کہ ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا اور وہ اس کے لیے نیوکلیئر جنگ کا خطرہ مول لینے کو تیار تھے ۔ لہٰذا، برلن میں جو کچھ ہورہا تھا، در اصل اس کا کیوبا کے مزائل کے بحران سے گہرا تعلق تھا‘۔

Sergei Khrushchev کا نقطۂ نظر بھی بنیادی طور پر یہی ہے لیکن وہ اسے سوویت روس اور کیوبا کے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’اگر آپ اس کا دفاع نہیں کریں گے، چاہے اس کے لیے آپ کو نیوکلیئر جنگ کا خطرہ ہی کیوں نہ مول لینا پڑے تو پھر آپ اپنا اعتماد کھو بیٹھیں گے، اور آپ کے دوسرے اتحادی آپ پر بھروسہ نہیں کریں گے ۔ آپ جانتے ہیں کہ اگر سوویت یونین نے مغربی برلن کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی، تو امریکہ نیوکلیئر ہتھیار استعمال کرنے کو تیار تھا ۔ لہٰذا ، دونوں طرف بالکل ایک جیسی صورتِ حال تھی‘ ۔

جون سنہ 1961 میں، صدر کینیڈی اور سوویت لیڈر خروشچیف نے آسٹریا کے شہر وی آنا میں سربراہ ملاقات کی ۔ اس میٹنگ میں مغربی برلن کا مسئلہ سر ِ فہرست رہا لیکن کوئی پیش رفت نہ ہو سکی ۔ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ اس میٹنگ سے خروشچیف نے یہ تاثر لیا کہ امریکی صدر نا تجربے کار اور کمزور ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس تاثر سے سوویت لیڈر کو کیوبا میں مزائل نصب کرنے کا فیصلہ کرنے میں مدد ملی ہو۔

آخری بات یہ ہے کہ، بہت سے ماہرین جن میں Graham Allison شامل ہیں، کہتے ہیں کہ ماسکو ایک اور وجہ سے بھی کاسترو کی مدد کرنا چاہتا تھا۔ ان کے الفاظ ہیں،’ خروشچیف اور سوویت یونین کے نقطۂ نظر سے دیکھیں ، تو مغربی نصف کرے میں کیوبا ان کی بہت بڑی کامیابی تھی، اور انھوں نے عزم کیا تھا کہ وہ اس کامیابی کو زندہ رکھیں گے‘۔

ماہرین کہتے ہیں کہ ان کی یہ کوشش دنیا کو نیوکلیئر جنگ کے دہانے پر لے آئی ۔
XS
SM
MD
LG