رسائی کے لنکس

امریکہ: مفرور ہائی جیکر کی 30 سال بعد کیوبا سے واپسی


وہ بدھ کو ایک چارٹر پرواز کے ذریعے ہوانا سے جنوبی امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر میامی پہنچا، جہاں اترتے ہی اُسے گرفتار کیا گیا

تقریباً 30 برس قبل ایک امریکی شدت پسند ایک طیارہ اغوا کرکے کیوبا لے گیا تھا۔ وہ اب اپنے مادرِ وطن لوٹ آیا ہے، اس امید کے ساتھ کہ اُن کے خلاف امریکہ میں دائر الزامات کا معاملہ طے ہو جائے گا۔

ولیم پوٹس ’بلیک پینتھر‘ نامی ایک سیاہ فام قوم پرست گروہ کا ایک رُکن تھا، جب اُس نے 1984ء میں بندوق کی نوک پر ایک طیارے کو ہائی جیک کرکے ہوانا میں اتارا، جس میں 56 مسافر سوار تھے۔

یہ وہ وقت تھا جب جہازوں کی سکیورٹی کے معاملے میں ضوابط ڈھیلے ڈھالے تھے، جب امریکی ہائی جیکر اکثر و بیشتر کمیونسٹ کیوبا کو اپنی منزل مقصود خیال کرتے تھے۔

پوٹس اب 56 برس کا ہے۔

اُس وقت اُن کا خیال تھا کہ امریکہ کے جنوبی ساحل سے کچھ ہی فاصلے پر واقع اس جزیرہ نما ملک میں پہنچتے ہی اُن کی آؤ بھگت ہوگی۔ لیکن، ایسا نہیں ہوا۔

اِس کے برعکس، وہ جب کیوبا پہنچا تو فوری طور پر اُن کے خلاف فضائی قزاقی کے الزام پر مقدمہ چلا اور سزا سنائی گئی، اور وہ 13برس تک کیوبا میں قید رہا۔

رہا ہونے پر، اُس نے کیوبا کی ایک خاتون سے شادی کی، اور اُن کی دو بیٹیاں ہیں۔

بعدازاں، جوڑے میں علحیدگی ہوگئی اور اُن کی بیٹیاں اب امریکہ میں رہتی ہیں۔

پوٹس مجبور ہوا کہ امریکی حکام سے گفت و شنید کرے۔ بدھ کو ایک چارٹر پرواز کے ذریعے وہ جنوبی امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر میامی پہنچا، جہاں اترتے ہی اُسے گرفتار کرلیا گیا۔

ہوانا سے روانگی سے قبل، پوٹس نے کہا کہ وہ امریکہ میں اپنے اہل خانہ سے ملنے کا منتظر ہے۔

تاہم، اُنھوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اپنے مادر وطن لوٹنے اور روا رکھے جانے والے سلوک سے متعلق امریکی حکام سے کسی قسم کی کوئی سودے بازی نہیں ہوئی۔

اُنھوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ کیوبا میں قید کاٹنے کے بعد اُنھیں امریکہ میں مزید سزا نہیں ہوگی۔

پوٹس نے کہا کہ امریکی جرائم کے الزامات کا معاملہ طے ہونے کے بعد وہ کیوبا واپس جانا چاہیں گے۔
XS
SM
MD
LG