رسائی کے لنکس

بھارت: گجرات میں پرتشدد مظاہروں میں تین ہلاک، کرفیو نافذ


وزیر اعظم مودی کا تعلق بھی گجرات سے ہے

وزیر اعظم مودی کا تعلق بھی گجرات سے ہے

وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹیلی وژن پر نشر کیے جانے والے ایک بیان میں کہا کہ ’’میں گجرات کے لوگوں سے امن و امان قائم رکھنے کی اپیل کرتا ہوں۔ تشدد سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔‘‘

بھارت کی ریاست گجرات میں بدھ کو ایک بااثر برادری کے سرکاری ملازمتوں اور کالج کی سطح پر مخصوص سیٹوں کے کوٹے کے خاتمے کے خلاف مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ وزیراعظم نریندر مودی نے مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔

گجرات کے شہر احمد آباد میں ہونے والے مظاہروں میں تشدد کے بعد شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور فوج کا ایک دستہ بھی تعینات کر دیا گیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹیلی وژن پر نشر کیے جانے والے ایک بیان میں کہا کہ ’’میں گجرات کے لوگوں سے امن و امان قائم رکھنے کی اپیل کرتا ہوں۔ تشدد سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔‘‘

یہ مظاہرے وزیراعظم نریندر مودی کے لیے ایک چیلنج ہیں جنہوں نے گزشتہ سال وزیراعظم منتخب ہونے سے قبل ایک دہائی سے زائد عرصہ تک وہاں حکومت کی۔

منگل کو احمدآباد شہر میں پٹی دار یا پٹیل برادری کے کم از کم پانچ لاکھ افراد نے ان پالیسیوں کو تبدیل کرنے کے لیے مظاہرہ کیا جو ان کے بقول بھارت کی نچلی ذاتوں کی غیر منصفانہ حمایت کرتی ہیں۔

اس مہم کے 21 سالہ رہنما ہردیک پٹیل کی گرفتاری کے بعد تشدد پھوٹ پڑا جس کے بعد پولیس نے آنسو گیس استعمال کی اور مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا۔

پولیس افسر پی سی ٹھاکر نے ’روئیٹرز‘ کو بتایا کہ ’’مظاہرین نے پولیس اور نچلی ذاتوں کے افراد کے ساتھ جھڑپیں کیں۔ انہوں نے نو پولیس اسٹیشنوں اور تین درجن سے زائد بسوں کو آگ لگا دی۔ ہمیں تشدد کو قابو کرنے کے لیے کرفیو نافذ کرنا پڑا۔ آج دفاتر، تجارتی مراکز اور تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔‘‘

پٹیل بھارت کی متمول تاجر برادری ہے اور بھارت کی اقتصادی ترقی میں اس نے اہم کردار ادا کیا۔ یہ برادری ہیروں کے کاروبار، تیل کی پروسیسنگ اور ٹیکسٹائل کی صنعت پر حاوی ہے۔

مگر اس برادری کا کہنا ہے کہ ذاتوں کے لیے مخصوص کوٹے ان کے لیے ترقی کے مواقع سے محرومی کا سبب بن رہے ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ حکومت مسلمانوں، نچلی ذات کے ہندوؤں اور دیگر پسماندہ طبقات کے لیے مخصوص کوٹوں کو ختم کرے۔

ذات کی بنیاد پر کوٹہ بھارت میں ہمیشہ ایک حساس مسئلہ رہا ہے۔ اس مسئلے کو اکثر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ایک حالیہ تقریر میں وزیراعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ بھارت کو ذات کی بنیاد پر تقسیم کو ختم کرکے میرٹ پر مبنی معاشرے کے قیام کے لیے کام کرنا چاہیئے۔ مودی خود ایک نچلی ذات سے تعلق رکھتے ہیں جو ’’دیگر پسماندہ طبقات‘‘ میں شامل ہے۔ ان کے والد چائے بیچتے تھے اور انہوں نے اپنی محنت سے کامیابی حاصل کی۔

ذات پات پر مبنی سیاست بہار میں متوقع انتخابات میں اہم کردار کرے گے، جس کے وزیراعلیٰ نتیش کمار پٹیل برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے گجرات کے مظاہرین سے اظہار ہمدردی کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG