رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر میں اخبارات کی اشاعت پر پابندی برقرار


فائل فوٹو

فائل فوٹو

رواں ماہ علیحدگی پسند کشمیر ی کمانڈر برہان وانی کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ہلاکت کے بعد بھارتی کشمیر میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کرفیو کا نفاذ جاری ہے اور حالات تاحال معمول پر نہیں ہیں۔

جب کہ کشیدگی کے تناظر میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اخبارات کی اشاعت پر عارضی پابندی بھی برقرار ہے جب کہ موبائل فون سروس پہلے ہی معطل ہے۔

تناؤ اور کشیدگی کے باعث 24 جولائی تک تعلیمی ادارے بھی بند رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس ’اے پی‘ نے بھارتی کشمیر کے ترجمان اور وزیر تعلیم نعیم اختر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد انسانی جانوں کا تحفظ اور امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو موثر بنانا ہے۔

حکومت کے مطابق جھڑپوں میں 36 افراد ہلاک ہوئے جن میں 35 عام شہری جب کہ ایک پولیس اہلکار شامل ہے۔

تاہم انسانی حقوق کی مقامی تنظیموں کے مطابق جھڑپوں میں کم از کم 40 افراد مارے گئے۔

امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں تعینات سکیورٹی فورسز کے اہلکار گشت کر رہے ہیں۔

رواں ماہ علیحدگی پسند کشمیری کمانڈر برہان وانی کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ہلاکت کے بعد بھارتی کشمیر میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

کشمیر کا علاقہ پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازع ہے اور اس میں سے ایک حصہ بھارت کے جب کہ ایک حصہ پاکستان کے زیر انتظام ہے۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں حالیہ کشیدگی اور ہلاکتوں پر پاکستان نے نا صرف اسلام آباد میں تعینات بھارت کے ہائی کمشنر کو طلب کر کے اُنھیں حکومت پاکستان کی تشویش سے آگاہ کیا بلکہ اس معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل اراکین (چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکہ) کے سفیروں کے علاوہ یورپی یونین میں شامل سفیر کو بھی بریفنگ دی اور اُنھیں بھارتی کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لینے کا کہا تھا۔

وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت گزشتہ جمعہ کو وفاقی کابینہ کے ہونے والے خصوصی اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ بھارتی کشمیر میں ہونے والی ہلاکتوں پر 19 جولائی کو پاکستان میں ’’یوم سیاہ‘‘ منایا جائے گا۔

بھارت علیحدگی پسند کشمیری کمانڈر برہان الدین وانی کی ہلاکت کو ایک اہم کامیابی قرار دیتا ہے اور کشمیر کی صورت حال پاکستان کی تشویش کو بھارت نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے پڑوسی ممالک کے معاملات میں مداخلت سے باز رہے۔

XS
SM
MD
LG