رسائی کے لنکس

پولیس کی فائرنگ میں 43 سالہ سیاہ فام کیتھ لیمانٹ اسکاٹ کی ہلاکت کے بعد مظاہرے شروع ہو گئے تھے، جس کے بعد شارلٹ میں کرفیو کا نفاذ کیا گیا تھا۔

امریکہ کی ریاست شمالی کیرولائنا کے شہر شارلٹ میں گزشتہ تین روز سے نافذ رات کے کرفیو کو پیر کو اٹھا لیا گیا ہے۔

گزشتہ منگل کو پولیس کی فائرنگ میں 43 سالہ سیاہ فام کیتھ لیمانٹ اسکاٹ کی ہلاکت کے بعد مظاہرے شروع ہو گئے تھے، جس کے بعد شارلٹ میں کرفیو کا نفاذ کیا گیا تھا۔

گزشتہ جمعہ کو رات بارہ بجے سے صبح چھ بجے تک نافذ ہونے والے کرفیو کی وجہ سے ان مظاہروں کی شدت میں کمی اور صورت حال پرامن ہونا شروع ہو گئی۔

اختتام ہفتہ صورت حال نسبتاً زیادہ بہتر ہونے کے بعد پولیس نے کہا کہ وہ کرفیو کو جاری رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ہیں۔

اتوار کو بھی کئی افراد نے مظاہرہ کیا اور وہ 'سیاہ فام زندگیاں بھی اہمیت رکھتی ہیں" کے نعرے لگا رہے تھے۔

اس واقعہ میں تاحال اس بات کا واضح جواب نہیں مل سکا کہ آیا کہ اسکاٹ مسلح تھا یا نہیں۔ پولیس کا موقف ہے کہ وہ مسلح تھا تاہم اسکاٹ کے خاندان کا کہنا ہے کہ جب پولیس اہلکار اس کے قریب آئے تو اس وقت وہ اپنی گاڑی میں بیٹھا کتاب پڑھ رہا تھا۔

شارلٹ کی پولیس نے ہفتے کو اس واقعہ سے متعلق دو وڈیوز جاری کیں۔ اسکاٹ کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں شریک افراد بھی ان وڈیوز کو جاری کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں تاکہ اس واقعہ سے متعلق اصل حقیقت سامنے آئے۔

ایک وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسکاٹ اپنی گاڑی سے نکل کر اپنی دائیں طرف مڑ کر پارکنگ میں کھڑا ہو جاتا ہے اس کے کچھ ہی لمحوں کے بعد اسے گولی لگتی ہے اور وہ زمین پر گر جاتا ہے جبکہ دوسری وڈیو میں اسے زمین پڑے دیکھا جا سکتا ہے۔

ان وڈیو کے جاری ہونے کے بعد بھی اس واقعہ سے متعلق صحیح صورت حال واضح نہیں ہو سکی ہے۔ پولیس اب بھی اپنے اس موقف پر قائم ہے کہ اسکاٹ کو جب گولی ماری گئی تو وہ مسلح تھا جب کہ اسکاٹ کے خاندان کا موقف اس کے برعکس ہے۔

XS
SM
MD
LG