رسائی کے لنکس

پاکستانی کرنسی: پرانے ڈیزائن والا 500 کانوٹ بے مصرف


پاکستانی کرنسی: پرانے ڈیزائن والا 500 کانوٹ بے مصرف

پاکستانی کرنسی: پرانے ڈیزائن والا 500 کانوٹ بے مصرف

حکومت نے حالیہ برسوں میں پانچ روپے کا کالے اور سفید رنگ کا کرنسی نوٹ ، نیلے رنگ والے نئے ڈیزائن کے نوٹ سے بھی تبدیل کیا تھا

پاکستانی کرنسی کا ایک اور نوٹ متروکہ ہوگیا ہے۔ 30ستمبر کی رات بارہ بجنے کی دیر تھی کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے کئی مہینے پہلے کئے گئے اعلان کے مطابق500 روپے کا پرانے ڈیزائن والا نوٹ لین دین کے لئے بے مصرف ہوگیا ۔اب یہ نوٹ تاریخ کا حصہ بن گیا ہے اور صر ف میوزیم یا کچھ خاص مقامات پر ہی رکھا دکھائی دے سکے گا۔

اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ کرنسی مینجمنٹ پروگرام کے تحت پرانے ڈیزائن کے کرنسی نوٹوں کوبتدریج ختم کیاجارہاہے۔ پہلے مرحلے میں 500 روپے کا پرانے ڈیزائن والا کرنسی نوٹ یکم اکتوبر سے لین دین کے لئے قابلِ استعمال نہیں ہوگا۔

بینک نے پرانے ڈیزائن والے 500 روپے کے نوٹ کو تبدیل کرانے کے لئے آخری تاریخ جمعہ30 ستمبرمقرر کی تھی۔اس مقصد کے لئے اسٹیٹ بینک کے دروازے رات بارہ بجے تک ہر خاص و عام کے لئے کھلے رہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ایک روپے اور2 روپے مالیت کے نوٹ بھی متروک کئے جاچکے ہیں جبکہ پانچ روپے اواردس روپے کے نوٹوں کے ڈیزائن بھی ماضی میں تبدیل کئے جاچکے ہیں۔حکومت نے حالیہ برسوں میں پانچ روپے کا کالے اور سفید رنگ کا کرنسی نوٹ ، نیلے رنگ والے نئے ڈیزائن کے نوٹ سے بھی تبدیل کیا تھا۔

حکومت پانچ روپے کے کاغذی نوٹ کی جگہ دھات کے بنے پانچ روپے مالیت کے سکے بھی جاری کرچکی ہے ۔یہ سکے ابھی بھی رائج ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے یہ خبر بھی آئی تھی کہ پانچ روپے کا سکہ دوبارہ بند ہوجائے گاتاہم بعد میں اس خبر کی تردید کردی گئی۔ اس کے ساتھ ہی دس روپے کا سکہ جاری کرنے کی بھی خبریں مارکیٹ میں گردش کرنے لگی تھیں تاہم ابھی تک دس روپے مالیت کا سکہ جاری نہیں ہوا۔

حالیہ سالوں میں ہی 20 روپے اور پانچ ہزار روپے کے نئے ڈیزائن والے کرنسی نوٹ بھی جاری کئے گئے ہیں جو سکہ رائج الوقت ہیں۔ مذکورہ دونوں نوٹوں کا رنگ تقریباً تقریباً ایک جیسا ہے تاہم متروک کئے گئے پرانے نوٹوں کے مقابلے میں نئے نوٹوں کا سائز چھوٹا اور ڈیزائن یکسر تبدیل ہے۔

حالیہ برسوں سے زرا پیچھے تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں نوٹ تو نوٹ سکے بھی تبدیل اور متروک ہوتے رہے ہیں۔ ایک ڈیٹرھ عشرے پہلے پانچ ، دس اورپچیس و پچاس پیسے مالیت کے سکے بھی زیر استعمال رہے ہیں لیکن اب ان سکوں کو کسی قدیم ٹکسال یا میوزیم میں ہی دیکھا جاسکتا ہے۔

گزشتہ دور میں پچیس و پچاس پیسے کے سکے بھی ہوا کرتے تھے اور انہیں منفرد ناموں سے منسوب کیا جاتا تھا مثلاً چونی ، اٹھنی ، آنا ،دو آنا اور بارہ آنا "اسی دور میں ایک اور دو روپے کے کرنسی نوٹ ترک کرتے ہوئے اسی مالیت کے سکے بھی جاری ہوئے ۔ یہ سکے اب بھی زیراستعمال ہیں ۔

XS
SM
MD
LG