رسائی کے لنکس

سی وی ایس کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ صحت کی بہتری کیلئے کام کرتی ہے اور ایسی کمپنی میں سگریٹوں کی فروخت نہیں ہونی چاہئیے۔

امریکی اخبارات نے یہ خبر شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کی ہے کہ ملک کی دوسری بڑی دوا ئیں بیچنے والی چین’ سی وی ایس‘ نے ملک بھر میں اپنے تمام سٹوروں پر سال ِرواں کے اکتوبر سے سگریٹ یا تمباکو مصنوعات کی فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے۔

سی وی ایس کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ صحت کی بہتری کیلئے کام کرتی ہے اور ایسی کمپنی میں سگریٹوں کی فروخت نہیں ہونی چاہئیے۔

اخبار دی وال سٹیٹ جرنل کا کہنا ہے کہ، ’سی وی ایس کا یہ اقدام، ایک سو ارب ڈالر کی سگریٹ انڈسٹری کیلئے ایک اور دھچکا ہے۔ کمپنی کو پہلے سے ہی سگریٹ اور تمباکو کی صنعت کو اپنی مصنوعات کی فروخت میں کمی، بڑھتے ہو ئے ٹیکس، تمباکو نوشی پر بڑھتی ہوئی پابندیوں اور تمباکو نوشی کےمضرِ صحت اثرات پر چلنے والی مہمات کا سامنا ہے‘۔

اخبار لکھتا ہے کہ سی وی ایس کمپنی کیلئے یہ ایک مہنگا فیصلہ ہے۔ اس کمپنی کے اندازے کے مطابق سگریٹ اور تمباکو کی دیگر مصنوعات کی فروخت بند کرنے سے سی وی ایس کو سالانہ دو ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑے گے۔

تاہم کمپنی کا خیال ہے کہ اس اقدام سے اُسے اسپتالوں، انشورنس فراہم کرنے والی کمپنیوں اور ڈاکٹروں کے ساتھ شراکت داری میں دیگر کمپنیوں پر سبقت حاصل ہو گی۔

اخبار لکھتا ہے کہ بدھ کے روز تمباکو کا کاروبار کرنے والی تین کمپنیوں کے حصص میں کمی ہوئی۔
تاہم سی وی ایس کے اس اقدام کو وائٹ ہاؤس کی جانب سے سراہا گیا ہے۔

صدر باراک اوبامہ کا کہنا ہے کہ سی وی ایس کا یہ اقدام ایک بہت عمدہ مثال ہے۔ صدر اوباما کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ان کی انتظامیہ کی جانب سے تمباکو سے منسلک کینسر اور دل کی بیماریوں سے ہونے والی اموات کو روکنے کی کاوشوں میں مددگار ثابت ہوگا، اور اس کے ساتھ ساتھ ہیلتھ کیئر اخراجات میں کمی کا باعث بھی بنے گا۔
XS
SM
MD
LG