رسائی کے لنکس

طوفان کے باعث چنئی کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ تقریباً 12 گھنٹوں کی بندش کے بعد منگل کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے جب کہ ریل سروس بھی عارضی طور پر بحال ہو گئی ہے۔

بھارت کے جنوبی شہر چنئی میں آنے والے سمندری طوفان "وردہ" سے کم ازکم دس افراد ہلاک ہو گئے جب کہ ملک کے ٹیکنالوجی کے اس مرکز میں نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا۔

حکام کے مطابق پیر کو آنے والے طوفان کی وجہ سے 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں نے کئی گھروں کی چھتیں اڑا دیں، درخت جڑوں سے اکھڑ گئے اور بجلی کی فراہمی بری طرح متاثر ہوئی۔

آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کے ترجمان ابھیشیک شندیال نے منگل کو فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" سے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دیہی علاقوں میں طوفان سے ہونے والے تباہی کی اطلاعات کے بعد صحیح صورتحال بتائی جا سکے گی۔

ان کے بقول "بدترین مرحلہ گزر گیا ہے اور طوفان کی شدت میں کمی آگئی ہے۔"

طوفان کے باعث 18 ہزار کے لگ بھگ افراد کو محفوظ مقامات پر بھی منتقل ہونا پڑا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اس ریاست میں گزشتہ دو دہائیوں میں آنے والا یہ بدتین طوفان تھا۔

گزشتہ سال چنئی میں آنے والے سیلاب نے بھی بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی اور کم ازکم 250 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔

بھارت اور انگلینڈ کے درمیان پانچواں اور آخری کرکٹ ٹیسٹ میچ بھی جمعہ کو چنئی میں طے ہے لیکن طوفان کے بعد ابھی تک اس کا مقام تبدیل کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔

طوفان کے باعث چنئی کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ تقریباً 12 گھنٹوں کی بندش کے بعد منگل کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے جب کہ ریل سروس بھی عارضی طور پر بحال ہو گئی ہے۔

بھارت کی مشرقی ساحلی پٹی اور پڑوسی ملک بنگلہ دیش اپریل سے دسمبر تک طوفانوں کی زد میں رہتے ہیں۔

1999ء میں بھارتی ریاست اوڑیسہ میں آنے والے طوفان کے باعث آٹھ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

XS
SM
MD
LG