رسائی کے لنکس

سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں تیز اور موسلادھار بارشوں کی توقع ہے۔ کراچی کے ساحل پر دفعہ 144نافذ کرتے ہوئے اس میں نہانے پر پابندی لگا دی گئی۔ محکمہٴ موسمیات نے ماہی گیروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بدھ سے جمعہ تک کھلے سمندر میں نہ جائیں

بحیرہٴعرب میں انتہائی کم دباوٴ والی ہواوٴں نے سمندری طوفان کی صورت اختیار کرلی ہے۔ پاکستانی ماہرینِ موسمیات نے اسے ’نیلوفر‘ کا نام دیا ہے۔ محکمہٴ موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ طوفان کراچی کے ساحل سے تقریباً1200 کلومیٹر دور ہے جو جمعرات کو رات گئے یا جمعہ کی صبح کراچی سے ہوتا ہوا اگلے دن بھارتی ریاست گجرات کے ساحلی علاقوں سے ٹکرائے گا۔

چیف میٹرولوجسٹ، توصیف عالم نے پیر کو ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں بتایا ہے کہ ’جس وقت یہ طوفان بھارتی ساحلوں سے ٹکرائے گا، اس وقت اس کی شدت کم ہوگی۔ جبکہ، کراچی سے گزرتے ہوئے بھی یہ کسی نقصان کا باعث نہیں بنے گا۔ تاہم، اس کے نتیجے میں سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں تیز اور موسلادھار بارشوں کی توقع ہے۔

طوفان کے پیش نظر کراچی کے ساحل پر دفعہ 144نافذ کرتے ہوئے اس میں نہانے پر پابندی لگادی گئی ہے۔ جبکہ، موصولہ اطلاعات کے مطابق، حکام نے پیر کی شام سے ہی ساحل پر پکنک منانے کے لئے جانے والوں کو روکنا شروع کردیا ہے۔

محکمہٴموسمیات نے ماہی گیروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بدھ سے جمعہ تک کھلے سمندر میں نہ جائیں، جبکہ جتنی بھی کشتیاں ماہی گیری کی غرض سے گہرے سمندر میں موجود ہیں، انہیں فوری طور پر واپسی کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

سمندری طوفان ابھی پاکستان کی حدود سے باہر ہے اور 8 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اومان کے مقام، صلالہ کے پہاڑی علاقے کی طرف بڑھ رہا ہے۔چیف میٹرولوجسٹ کا کہنا ہے کہ کراچی، حیدر آباد، ٹھٹھہ، بدین، سجاول، میرپورخاص، کے ٹی بندر، ننگرپارکر، نوابشاہ اور جامشورو میں موسلادھار بارش کا امکان ہے، جبکہ ان علاقوں میں100 کلومیٹر کی رفتار سے تیز ہوائیں بھی چل سکتی ہیں۔

کمشنر کراچی شعیب صدیقی نے وی او اے کو بتایا کہ طوفان نیلوفر سے ہونے والے کسی بھی نقصان سے بچنے کے لئے ساحل کو اگلے دو دنوں تک بند رکھنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

سمندری طوفان کا نام ’نیلوفر‘ ہی کیوں ؟
اگلے دو روز میں کراچی اور بعدازاں بھارت کے ساحلی علاقوں تک پہنچنے والے طوفان کا نام ’نیلوفر‘ رکھا گیا ہے، جبکہ اس سے پہلے آنے والے طوفانوں کے نام ’نرگس‘ اور ’کترینا‘ بھی خاصے دلچسپ تھے۔ بیشتر لوگوں نے اپنی معلومات میں اضافے کی غرض سے یہ سوال کیا کہ آخر طوفانوں کے نام موٴنث ہی کیوں رکھے جاتے ہیں؟

عوامی دلچسپی سے پُر اِس سوال کے جواب میں چیف میٹرولوجسٹ محکمہ موسمیات سندھ، توصیف عالم کا کہنا ہے کہ ’دراصل، ایسے نام صرف آسانی کی غرض سے رکھے جاتے ہیں۔ پاکستان جس جغرافیائی خطے میں شمار ہوتا ہے وہیں دیگر سات ممالک بھی واقع ہیں یعنی بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، مالدیپ، تھائی لینڈ، میانمار اور عمان۔ یہ ممالک باری باری بحیرہٴ عرب میں آنے والے طوفانوں کے نام تجویز کرتے ہیں۔‘

توصیف عالم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’نیلوفر‘ پاکستان کا تجویز کردہ نام ہے۔ یہ نام پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں۔ جیسے بھارت میں اس سے پہلے جو سمندری طوفان آیا تھا اس کا نام ’ہد ہد‘ تھا، جب کہ اس کے بعد اگر کوئی طوفان آیا تو اس کا نام ’پریا‘ ہوگا، جو سری لنکا کا تجویز کردہ ہے۔ پاکستان نے آنے والے طوفانوں کے کچھ دلچسپ نام بھی تجویز کئے ہیں جیسے ’بلبل‘، ’تتلی‘ اور ’وردہ‘۔

اس کے علاوہ کچھ اور بھی سمندری طوفانوں کے نام ’مونث‘ رکھے گئے تھے جن میں سے کچھ ماضی میں استعمال ہوئے، جبکہ کچھ مستقبل میں استعمال ہوں گے: مثلاً ’نشا‘، ’ہیلن‘(بنگلہ دیش)، ’لیلیٰ‘، ’نیلم‘ (پاکستان)، ’مالا‘، ’رشمی‘ (سری لنکا) اور ’ماہا‘ اومان۔

XS
SM
MD
LG