رسائی کے لنکس

سمندری طوفان: پانچ لاکھ متاثر، کم ازکم 19 افراد ہلاک


ڈھاکہ، شدید بارشیں

ڈھاکہ، شدید بارشیں

اخباری اطلاعات میں مہیش خالی کے جزیرے میں مقامی کونسل کے سربراہ نے بتایا ہے کہ مکینوں کو بروقت سمندری طوفان کا انتباہ دیا گیا تھا۔ لیکن، طوفان پیش گوئی سے پہلے ہی آن دمکا، جس کے نتیجے میں جان بچانا مشکل ہوگیا، چونکہ محفوظ مقامات تک پہنچنے میں خاصی دیر ہوچکی تھی

ہفتے کے روز بنگلہ دیش کے جنوب مشرقی ساحل سے ٹکرانے والے سمندری طوفان 'رونو' کے نتیجے میں 500000 سے زائد افراد اپنے گھر بار چھوڑ کو محفوظ ٹھکانے کی تلاش میں سرگرداں رہے۔ اونچی لہروں اور سیلاب کی صورت حال کے باعث کم از کم 19افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ساحل سے ٹکرانے کے بعد، طوفان کی شدت میں کمی آگئی ہے۔ تاہم، بنگلہ دیش کے حکام نے بتایا ہے کہ بیسیوں دیہات اب بھی سیلابی پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔

علاقے کی روداد سنانے والوں نے بتایا ہے کہ ہلاک شدگان میں سے متعدد دھان کی فصل بونے والے کاشتکار تھے، جو اچانک طوفان کی زد میں آئے، جب وہ کھیتوں پر کاشت میں مصروف تھے۔

چٹگانگ ضلعے کے کچھ حصوں میں مٹے کے تودے گرنے کے مہلک واقعات پیش آئے، جن کے نتیجے میں وہ مکانات جو مٹی اور ٹین سے بنے ہوئے تھے مسمار ہوگئے۔ ہلاک شدگان کی تعداد میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

علاقے میں موجود 'وائس آف امریکہ' کے نمائندوں نے بتایا ہے کہ سینکڑوں گھر تباہ ہوئے یا پھر اُنھیں سخت نقصان پہنچا، جب کہ تیز رفتار آندھی اور طوفان کے نتیجے میں ہزاروں درخت اکھڑ گئے۔ ایک وسیع رقبے پر بجلی کی رسد میں خلل پڑ چکا ہے۔

حکام نے بتاہا ہے کہ علاقے کے جنوب اور جنوب مشرق کے نشیبی علاقوں کے مکین 500،000 شہری متاثر ہوئے ہیں، جو ہزاروں عارضی پناہ گاہوں کی جانب منتقل ہوچکے ہیں۔ ہفتے کی شام گئے، جب طوفان کی شدت میں کچھ کمی آئے، کچھ لوگ اپنے گھروں کی طرف واپس جانے لگے۔

محمد علی حسین ڈھاکہ میں مقیم سرکاری اہل کار ہیں۔ بقول اُن کے، مہیش خالی کے مقام پر 100،000 کے قریب افراد اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے، جو کاکسز بازار کے سیاحتی مرکز کے قریب واقع ہے۔ یہ مقام بنگلہ دیش کے انتہائی جنوب مشرق میں واقع ہے، جو میانمار کی سرحد کے ساتھ کا علاقہ ہے۔

اخباری اطلاعات میں مہیش خالی کے جزیرے میں مقامی کونسل کے سربراہ نے بتایا ہے کہ مکینوں کو بروقت سمندری طوفان کا انتباہ دیا گیا تھا۔ لیکن، طوفان پیش گوئی سے پہلے ہی آن دمکا، جس کے نتیجے میں جان بچانا مشکل ہوگیا، چونکہ محفوظ مقامات تک پہنچنے میں خاصی دیر ہوچکی تھی۔

فضائی اداروں نے چٹاگانگ سے اڑنے والی اور اُس جانب جانے والی پروازیں منسوخ کردی تھی۔ اس جنوب مشرقی شہر کی آبادی 25 لاکھ ہے۔ حکام نے ہفتے کو سمندری اور ندی پر نقل و حمل بند کرنے کے احکامات جاری کیے تھے، جس کی بنا پر جنوبی بنگلہ دیش میں ہزاروں کشتیاں چلنا رُک گئی تھیں، جن کے ذریعے لاکھوں لوگ سفر کرتے ہیں، جو اُن کے سفر کا بنیادی ذریعہ ہے۔

اس سے قبل موصولہ خبروں کے مطابق، بنگلہ دیش کا ساحل ہفتے کے روز سمندری طوفان 'رونو' کی اونچی اور تیز لہروں کی زد میں رہا، جس کی رفتار 80 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔حکام نے بتایا ہے کہ لاکھوں لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر کنارے سے دور واقع 2000 سے زائد پناہ گاہوں کی جانب جا چکے ہیں۔

اہل کاروں نے پانچ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع دی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ 'رونو' سمندری طوفان کے نتیجے میں شدید برساتیں ہوئیں جن کے باعث علاقے میں مٹی اور ٹین سے بنے گھروں کو سخت نقصان پہنچا۔

ایک پولیس انسپیکٹر، شاہ عالم نے فرانسیسی خبر رساں ادارے، اے ایف پی کو بتایا ہے کہ بارشوں کی وجہ سے چٹگانگ کے علاقے سیتا کُندو میں مٹی کے تودے گرے۔ اُنھوں نے کہا کہ ایک ماں اور اس کا کم سن بچہ اُس وقت ہلاک ہوئے جب اُن کا گھر ٹوٹ کر گرا اور وہ مٹی کے تودے تلے دب گئے۔

XS
SM
MD
LG