رسائی کے لنکس

قبرص:11 ویں مشتبہ روسی جاسوس کی تلاش

  • ناتھن مورلی

قبرص:11 ویں مشتبہ روسی جاسوس کی تلاش

قبرص:11 ویں مشتبہ روسی جاسوس کی تلاش

قبرس میں پولیس ان 11 افراد میں شامل ایک شخص کو تلاش کررہی ہے جن پر روس کے لیے جاسوسی کرنے کا شبہ ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 54 سالہ کرسٹوفر رابرٹ میٹ سوس، بدھ کے روز لارناکا شہر کے پولیس اسٹیشن میں حاضر نہیں ہوا۔ میٹ سوس، ملک سے اپنے اخراج کے مقدمے کی سماعت تک، جو 29 جولائی کو ہونی ہے، ضمانت پر تھا، اوراسے بدھ کو پولیس اسٹیشن میں حاضر ہونا تھا۔

امریکی حکام کی جانب سے روسی خفیہ ادارے ایس وی آر کے لیے امریکہ کی ایک لمبے عرصے تک جاسوسی کرنے کے الزام میں10 افراد کی گرفتاری کے اعلان کے بعد میٹ سوس کا نام 11 ویں مشتبہ شخص کے طور پر سامنے آیاتھا۔

اسے منگل کی صبح لارناکا ایئرپورٹ سے ایک یک طرفہ ٹکٹ پر ہنگری جانے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کیاگیا تھا۔

میٹ سوس کے غائب ہونے کا واقعہ قبرصی حکام کے لیے، جنہیں پہلے ہی اسےضمانت پر رہا کرنے کی وجہ سے تنقید کاسامنا تھا، شدید پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔

عہدے داروں کی جانب سے اس معاملے سے نمٹے کے انداز پرلوگوں میں بڑی بے چینی پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بنیادی طور پر حکام کی طرف سے کمزوری کا مظاہرہ ہے ، انہیں اس طرح کے معاملات میں سوچ بچار کرنی چاہیے اور محتاط رہنا چاہیے۔

ایک اور شخص کا کہنا تھا کہ اگر آپ کسی کو اس طرح چھوڑ دیں گے تو وہ یقینی طور پر غائب ہوجائے گا۔

وزیر قانون لوکس لوکا نے ضمانت پر رہائی کے عدالتی فیصلے کو غلط قرار دیا ہے۔ حتی کہ پولیس اہل کار بھی میٹ سوس کی رہائی پر حیران ہوئے۔

لوکا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اس بارے میں کچھ اشارے موجود ہیں کہ میٹ سوس کہاں ہوسکتا ہے، تاہم انہوں نے تفصیل فراہم کرنے سے انکار کردیا۔

جج کرسٹوفر فلیپو، کی جانب سے ضمانت پر رہائی کے اس فیصلےکی، جسے کچھ مبصر منفی فیصلہ قراردے رہے ہیں، بڑے پیمانے پر مذمت کی جارہی ہے۔

میٹ سوس ساحلی تفریحی شہر لارناکا میں سستے اپارٹمنٹس کی ایک بلڈنگ میں اکیلارہ رہا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے کہ آیا وہ جزیرے سے چلا گیا ہے یا وہ سرحد عبور کرکے الگ ہوجانے والے علاقے شمالی ترک علاقے میں فرار ہوگیا ہے۔

میٹ سوس کے شمال میں فرار ہونے کی صورت میں حکام کے لیے بڑے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

الگ ہوجانےوالی ریاست کے ساتھ امریکہ کے نہ تو باقاعدہ سفارتی تعلقات ہیں اور نہ ہی قیدیوں کی حوالگی کا کوئی معاہدہ ہے، تاہم تعلقات کار کے نتیجے میں وہاں سے ماضی میں بہت سے جرائم پیشہ مشتبہ افراد کو ملک سے نکالا جاچکا ہے۔

XS
SM
MD
LG