رسائی کے لنکس

اتوار کو دنیا بھر میں منایا جانے والا فادرز ڈے ایک امریکی والد برائن من کے لیے بڑی خوشی کا موقع ثابت ہوا ہے جنھوں نے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر اپنے نوزائیدہ بچے کی جان بچا لی ہے۔

دنیا کے بہت سے ملکوں میں ہرسال جون کی تیسری اتوار کو' فادرزڈے' یعنی والد کے اعزاز میں جشن منایا جاتا ہے، اس روز بچوں کی طرف سے اس بے لوث رشتے کی عظمت کو سلام پیش کیا جاتا ہے۔

اتوار کو دنیا بھر میں منایا جانے والا فادرز ڈے ایک امریکی والد برائن من کے لیے بڑی خوشی کا موقع ثابت ہوا ہے جنھوں نے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر اپنے نوزائیدہ بچے کی جان بچا لی ہے۔

تیس سالہ برائن نے ایک باپ کی قربانی کی انوکھی مثال قائم کی ہے، انھوں نے جگر کے عارضے میں مبتلا اپنے نو ماہ کے بیٹے کو جگر کے ٹکڑے کا عطیہ دے کر اسے ایک نئی زندگی کی نوید دی ہے۔

کیلب نوزائیدہ بچوں کی جگر کی ایک مہلک بیماری 'بلری آرٹریزیا 'کے ساتھ پیدا ہوا ،اس بیماری میں بائل ڈکٹ (چھوٹی آنت کو جگر اور پتے سے ملانے والی نالیوں) میں سوزش پیدا ہو جاتی ہے اور یہ نالیاں بند ہو جاتی ہیں اور جگر کے افعال متاثر ہوتے ہیں۔

برائن اور ان کی اٹھائیس سالہ اہلیہ بریٹنی نے فاکس نیوز کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ کیلب جب پیدا ہوا تو اسے یرقان تھا جو تین ماہ گزرنے کے بعد بھی ٹھیک نہیں ہوا۔ نیویارک کے ایک اسپتال ماونٹی فیورے میڈیکل سینٹر میں اس کا معائنہ کرایا گیا جہاں کیلب میں آخری مرحلے کی جگر کی بیماری کی تشخیص ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ یہ خبر یقینی طور پر ان کے لیے ایک جھٹکا تھی، کیوں کہ وہ اب تک یرقان کے بارے میں سوچ رہے تھے، لیکن کیلب اتنا شدید بیمار ہو سکتا ہے اس بات کا انھیں بالکل اندازا نہیں تھا۔

ڈاکٹروں نے فوری طور پر کیلب کا کاسائی طریقہ کار کے تحت آپریشن کیا جس میں اس کی بند نالیوں کو آنتوں سے تبدیل کر دیا گیا تاکہ وہ نئی بائل ڈکٹ کے طور پر کام کر سکیں، لیکن اس آپریشن کے ایک ماہ بعد کیلب شدید طبیعت خرابی کے باعث ایک بار پھر سے اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے والدین کو بتایا کہ آپریشن ناکام ہو گیا ہے اور اب کیلب کو جگر کی پیوند کاری کی اشد ضرورت ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ کیلب کو جگر کے عطیہ کی فوری ضرورت ہے انھیں یہ خدشہ تھا کہ کیلب نئے اعضاء کے عطیہ کے انتظار تک زندہ نہیں رہ سکے گا ۔

برائن کے مطابق انھوں نے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں میں عطیہ دہندہ ڈھونڈنے کی کوشش کی اگرچہ کیلب کی والدہ برٹنی اور کیلب کے خون کا گروپ ایک ہی تھا لیکن بچے کی پیدائش کے فورا بعد ان کی صحت ایک بڑے آپریشن کے قابل نہیں تھی دوسری طرف برائن سے کیلب کا خون مطابقت نہیں رکھتا تھا۔

دو ہفتے کے کٹھن انتظار کے بعد ڈاکٹروں نے فیصلہ کیا کہ کیوں نا برائن سے جگر کا عطیہ لیا جائے ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ایک سال سے کم عمر کے بچے غیر ملاپ کے خون کے ساتھ بھی عطیہ دہندگان سے انسانی اعضاء کی پیوند کاری وصول کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق ایک سال سے پہلے بچے کا جسم اینٹی باڈیز نہیں بناتا ہے لہذا کیلب کے لیے نئےجگر کو مسترد کرنے والی اینٹی باڈیز کا خطرہ نہیں تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ ڈاکٹر پیوند کاری انجام دے سکتے ہیں۔

برائن نے بتایا کہ "اس روز میں آپریشن ٹیبل پر اس امید کے ساتھ لیٹا تھا کہ کیلب ایک نئی زندگی کی طرف لوٹ رہا ہے کیونکہ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ کیلب کے لیے میرا جگر ایک بہترین میچ تھا۔"

دونوں باپ اور بیٹے مارچ 30 ایک ساتھ آپریش کے عمل سے گزرے جس میں برائن نے اپنے جگر کا ایک ٹکڑا اپنے لخت جگر کو عطیہ کیا اس کامیاب آپریشن کے بعد برائن تیزی سے صحت یاب ہو گیا لیکن کیلب کے اس کے بعد بھی دو اور آپریشن کئے گئے جس میں ڈاکٹروں نے اس کی بائل ڈکٹ کی مرمت کی اور آخر کار کیلب صحت یابی کی طرف واپس لوٹ آیا۔

بریٹنی نے ذرائع کو بتایا کہ 13 اپریل کو کیلب گھر لوٹ آیا ہے وہ مستقبل میں اینٹی باڈیز کی طرف سےجگر کو مسترد کرنے سے روکنے کے لیے ایک خاص دوا لے رہا ہے۔

فادرز ڈے کیوں منایا جاتا ہے :

تاریخی نقطہ نظر سے اگر دیکھا جائے تو اس دن کو پہلی بار بیسویں صدی کے اوائل میں امریکہ میں منایا گیا تھا جب واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی خاتون سونورا اسمارٹ ڈوڈ نے 19 جون 1910 میں اسپوکن میں پہلی بار یہ دن منایا تھا۔

تاہم تاریخی حوالوں سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس دن کو سب سے پہلے ایک امریکی خاتون گریس گولڈن کلیٹن نے منایا تھا۔ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شاید ایک دوسری خاتون ایناجار رس سے متاثر تھیں جنھوں نے اپنی ماں کے دنیا سے گزر جانے کے بعد انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے مادرز ڈے منانے کا آغاز کیا تھا۔

مغربی ورجینیا میں مدرز ڈے کی مقبولیت اور اینا جار رس کی کامیابی کے بعد محترمہ کلیٹن نےاپنے شہر فئیر ماونٹ کے ایک چرچ میں پہلی بار 5جولائی 1908 میں والد کا دن منایا تھا۔

کہا جاتا ہےکہ گریس 1907 کے ایک حادثے پر رنجیدہ تھیں جس میں بارودی سرنگ پھٹنے سے 360 افراد ہلاک ہو گئے تھے اس حادثے میں وہ اپنا والد کھو چکی تھیں لہذا انھوں نے فیصلہ کیا کہ یتیم ہو جانے والے بچوں کو اپنے والد کو یاد کرنے کے لیے ایک خاص دن کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG