رسائی کے لنکس

’داعش‘ کے خطرے سے آگاہ ہیں: قاضی خلیل اللہ


وزارت خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ

وزارت خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ

قاضی خلیل اللہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج اور سکیورٹی ایجنسیوں کی طرف سے یہ واضح طور پر کہا جا چکا ہے کہ ’داعش‘ کا سایہ تک ملک میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔

پاکستانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ شدت پسند گروہ ’داعش‘ کے خطرے سے مکمل طور پر آگاہ ہیں، لیکن ملک میں اس کا کوئی وجود نہیں ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے جمعرات کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان نے گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور آپریشن شروع کر رکھا ہے اور ملک کی سیکورٹی فورسز ’داعش‘ کے ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان بارہا یہ واضح کر چکا ہے کہ ’داعش‘ یا کسی اور دہشت گرد گروہ کو اپنی سرزمین پر کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔

قاضی خلیل اللہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج اور سکیورٹی ایجنسیوں کی طرف سے یہ واضح طور پر کہا جا چکا ہے کہ ’داعش‘ کا سایہ تک ملک میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پیرس میں دہشت گردوں کے حملوں کے بعد ’داعش‘ کے خلاف کارروائیوں میں بین الاقوامی سطح پر تیزی آئی اور پاکستان بھی دہشت گردی کے خلاف عالمی برادری سے تعاون کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ پیرس میں ہوئے مہلک حملوں کے بعد پاکستان کی طرف سے ان کی شدید مذمت کی گئی اور فرانس کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی گئی۔

اُدھر بین الاقوامی سطح پر جائزہ رپورٹیں تیار کرنے والے ادارے ’پیو ریسرچ سینٹر‘ نے اپنے ایک تازہ جائزے میں کہا ہے کہ پاکستان کے لگ بھگ 62 فیصد لوگوں کا شدت پسند گروہ ’داعش‘ سے متعلق کوئی واضح موقف نہیں ہے۔

’پیو ریسرچ سینٹر‘ کے جائزے کے مطابق جن لوگوں سے ’داعش‘ سے متعلق سوال پوچھا گیا اُن میں سے 28 فیصد کی اس گروہ کے بارے میں رائے منفی تھی جب کہ نو فیصد کی داعش کے بارے میں رائے مثبت تھی۔

اگرچہ پاکستانی حکام بار ہا یہ کہتے رہے ہیں کہ داعش کا ملک میں کوئی وجود نہیں مگر یہاں کے بعض شدت پسند کمانڈر داعش سے وفاداری کا اعلان کر چکے ہیں۔

ملک کے کئی حصوں بشمول کراچی اور کئی دیگر شہروں میں دیواروں پر ’داعش‘ کے حق میں تحریریں لکھنے کے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں۔

جن پر پاکستانی حکام کا موقف رہا ہے کہ بعض شدت پسند خود کو منظر پر رکھنے کے لیے ’داعش‘ کا نام استعمال کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ افغانستان خاص طور پر صوبہ ننگر ہار میں بھی داعش کا اثرورسوخ تیزی سے پھیلا ہے کیونکہ طالبان کی ایک بڑی تعداد اس شدت پسند تنظیم سے ہمدردی رکھتی ہے اور بہت سے سابق طالبان کمانڈر داعش سے وابستہ گروپوں میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG