رسائی کے لنکس

اپنے زیر تسلط علاقوں میں داعش کے رمضان میں سخت قوانین


فائل فوٹو

فائل فوٹو

نئے قوانین جاری کیے ہیں جن میں دن میں کام کے اوقات صرف دو گھنٹوں تک محدود کر دیے گئے ہیں جب کہ دن کے باقی گھنٹوں میں لوگوں کو عبادت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

شدت پسند گروپ داعش نے مسلمانوں کے مقدس مہینے میں عراق اور شام میں اپنے زیر تسلط علاقوں میں سخت قوانین نافذ کر دیے ہیں۔

اس خطے میں رمضان کا آغاز پیر کو ہوا تھا۔

شدت پسندوں نے روزہ مرہ کام کے اوقات کو تو کم کر دیا ہے لیکن ساتھ ہی انھوں نے خاص طور پر خواتین کے لیے سخت پردے والا لباس زیب تن کرنے کا حکم دیتے ہوئے ساتھ ہی ساتھ لوگوں کو سیٹیلائیٹ ٹی وی رسیور استعمال کرنے سے منع کیا ہے۔

داعش نے حال ہی میں عراق اور شام میں لوگوں کو اپنے ٹی وی رسیور تباہ کرنے کی ترغیب دی تھی کیونکہ ان کے بقول یہ چینلز" خلافت کے خلاف نفسیاتی جنگ کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔"

داعش کے پیروکاروں کے لیے آن لائن جاری کی گئی وڈیو میں ایک رہنما کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا کہ "ٹی وی چینلز مسلمانوں کے گھروں میں برائیاں لا کر ہمارے دشمنوں کا مقصد پورا کر رہے ہیں۔"

شام میں داعش کے نام نہاد دارالخلافے رقہ میں شدت پسندوں نے گھر گھر جا کر لوگوں کے سیٹیلائیٹ رسیور اور دیگر ایسے آلات قبضے میں لینے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔

یہ بات شام میں داعش کے مظالم کی خبر دینے والے ایک غیر سرکاری گروپ نے بتائی جس کے مطابق "رقہ خاموشی سے قتل کیا جا رہا ہے۔"

اس گروپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ داعش نے نئے قوانین جاری کیے ہیں جن میں دن میں کام کے اوقات صرف دو گھنٹوں تک محدود کر دیے گئے ہیں جب کہ دن کے باقی گھنٹوں میں لوگوں کو عبادت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

عراق میں مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق داعش کے عسکریت پسند لوگوں کو موصل میں مختلف چوکیوں پر روک رہے ہیں اور انھیں اپنا ٹی وی رسیور حوالے کرنے پر ہی چھوڑا جا رہا ہے۔

موصل میں ایک سابق سرکاری مقامی عہدیدار عصمت رجب کا کہنا ہے کہ "گزشتہ جمعہ پیش اماموں نے لوگوں کے لیے رمضان اور عید کے لیے ہدایات جاری کیں۔"

ان کے بقول داعش کی مذہبی پولیس نے شہر میں تمام ریستورانوں اور بیکریوں کو دن کے اوقات میں بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG