رسائی کے لنکس

داعش کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں: سیکرٹری خارجہ


سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری

سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری

اعزاز چودھری کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف مصمم ارادہ رکھتا ہے اور وہ بشمول داعش کسی بھی قسم کی دہشت گردی و انتہا پسندی کو یہاں جگہ نہیں بنانے دے گا۔

پاکستان نے ایک بار پھر اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ اس کے ہاں شدت پسند گروپ داعش کا کوئی وجود نہیں ہے اور نہ ہی وہ یہاں پر کسی کو اس قسم کے گروہ سے رابطہ رکھنے کی اجازت دے گا۔

یہ بات سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری نے اتوار کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں کہی۔ انھوں نے جمعہ کو فرانس میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان حملوں اور ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے کیونکہ دہشت گرد کسی کے دوست نہیں بلکہ یہ انسانیت کے دشمن ہیں۔ ان کے بقول دہشت گردی کے خلاف پوری دنیا کو متحد ہونا ہو گا۔

فرانس میں ہونے والے حملوں میں 129 افراد ہلاک اور تین سو سے زائد زخمی ہو گئے تھے اور ان کی ذمہ داری عراق و شام کے ایک وسیع حصے پر قبضہ کر کے وہاں نام نہاد خلافت کا اعلان کرنے والے شدت پسند گروہ داعش نے قبول کی تھی۔

داعش کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے اور یہ گروپ اپنا دائرہ اثر مشرق وسطیٰ کے باہر دیگر ممالک تک پھیلانے کا اعلان بھی کر چکا ہے۔

پاکستان نے اپنے ہاں گزشتہ سال سے دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں جن میں اسے قابل ذکر حد تک کامیابی بھی حاصل ہو چکی ہے۔ لیکن عہدیداروں کی یقینی دہانیوں کے باوجود حالیہ مہینوں میں ملک کے مختلف حصوں میں داعش سے ہمدردی رکھنے یا اس کی حمایت سے متعلق دیواروں پر نعرے اور تحریری مواد بھی سامنے آ چکا ہے۔

اعزاز چودھری کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف مصمم ارادہ رکھتا ہے اور وہ بشمول داعش کسی بھی قسم کی دہشت گردی و انتہا پسندی کو یہاں جگہ نہیں بنانے دے گا۔

"ہم بالکل یہاں داعش کی جگہ نہیں چاہتے۔ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک دہشت گرد گروپ ہے اور پاکستان اس وقت دہشت گردی کے خلاف مکمل مصمم ارادہ کیے ہوئے ہے۔ داعش ایک ذہنی کیفیت ہے جس سے لڑنا ہو گا اور پاکستان میں آپ نے دیکھا کہ کس طرح ہمارے ملک کی قیادت، کس طریقے سے ہمارے عوام متحدہ ہو گئے ہیں اس بات پر کہ کسی قسم کی دہشت گردی اور کسی قسم کی انتہا پسندی کو پاکستان میں نہیں آنے دیں گے بشمول داعش کے۔"

مبصرین بھی یہ کہتے آئے ہیں کہ داعش بلاشبہ ایک خطرہ ہے جس پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے لیکن ان کے بقول پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کے تناظر میں اس دہشت گرد گروپ کے لیے یہاں اپنی جگہہ بنانا بہت مشکل ہے۔

حالیہ مہینوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے علیحدہ ہونے والے بعض عسکریت پسندوں نے داعش سے وفاداری کا اعلان بھی کیا تھا لیکن حکام اور مبصرین اسے محض توجہ حاصل کرنے کا ایک حربہ قرار دیتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG