رسائی کے لنکس

داغستان: قاتلانہ حملے میں امام ہلاک

  • واشنگٹن

فائل

فائل

منگل کی صبح سویرے دو نامعلوم حملہ آوروں نے دربند شہر میں کلیم اللہ ابراہیموف پر اُس وقت گولیاں چلائیں جب وہ نمازِ فجر ادا کرنے جارہا تھا۔ اِس حملے میں اُن کا والد اور بھائی بھی ہلاک ہوا: روسی پولیس ذرائع

ایسے میں جب داغستان کے تشدد کے شکار خطے میں اعتدال پسند اور سخت گیر مسلمانوں کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، روسی جمہوریہٴ داغستان میں ایک مذہبی شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

روسی پولیس کا کہنا ہے کہ منگل کی صبح سویرے دربند شہر میں دو نامعلوم حملہ آوروں نے کلیم اللہ ابراہیموف پر اُس وقت گولیاں چلائیں جب وہ نمازِ فجر ادا کرنے جارہا تھا۔ اِس حملے میں اُن کا والد اور بھائی بھی ہلاک ہوا۔

بتایا جاتا ہے کہ ابراہیموف سلفی خیالات رکھتے تھے، جو ایک سخت گیر تحریک اور انتہائی قدامت پسند مسلک سمجھا جاتا ہے۔

اُن کا قتل روس کے شورش زدہ شمالی قفقاز علاقے میں ملاؤں کی ہلاکتوں کے واقعات کے جاری سلسلےکی ایک کڑی ہے۔ رواں سال ایسے ہی حملوں میں اب تک کم از کم تین اشخاص ہلاک ہو چکے ہیں۔

روس اکثریتی مسلمان خطے میں جاری مذہبی بغاوت کو کچلنے کی کوشش کرتا رہا ہے، اور تقریبا ً ایک عشرے کے دوران علیحدگی پسند چیچنیا سے دو جنگیں لڑ چکا ہے۔

روس کا دعویٰ ہے کہ اس خطے کے حالات کنٹرول میں ہیں، تاہم ایک اسلامی ریاست کے قیام کے لیے لڑنے والے مسلمان باغی اِدھر اُدھر بم حملے، قتل اور حکومتی تنصیبات اور فوج پر حملے کیا کرتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG