رسائی کے لنکس

میکگرک نے اس حوالے سے کچھ کہنے سے گریز کیا کہ اس انتہاپسند گروپ کو کب شکست ہو گی یا عراقی شہر موصل یا شامی شہر رقہ کا قبضہ کب اس سے واپس لیا جائے گا۔

ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ عراق و شام میں سرگرم انتہا پسند تنظیم داعش کئی محاذوں پر جنگ ہار رہی ہے اور ان کے بقول اب توجہ کا محور اس سے واگزار کروائے گئے شہروں میں صورت حال کو مستحکم کرنے پر ہے۔

یہ بات داعش مخالف اتحاد کے لیے امریکی نمائندے بریٹ میکگرک نے ہفتے کو بغداد میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہی۔

میکگرک نے اس حوالے سے کچھ کہنے سے گریز کیا کہ اس انہا پسند گروپ کو کب شکست ہو گی یا عراقی شہر موصل یا شامی شہر رقہ کا قبضہ کب اس سے واپس لیا جائے گا۔

میگگرک نے بغداد میں عراقی عہدیداروں اور وزیر اعظم حیدر العبادی سے ملاقات کی جنہوں نے دسمبر میں کہا تھا کہ 2016 اس گروپ کے خلاف "حتمی فتح" کا سال ہو گا۔

میکگرک نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ "داعش کو تمام سمتوں سے دباؤ کا سامنا ہے اور یہ جاری رہے گا اور اس میں تیزی بھی آئے گی، داعش (جنگ) ہار رہی ہے اور جیسے جیسے انہیں شکست ہو رہی ہے صورت حال کو مستحکم کرنے پر ہماری توجہ بڑھ رہی ہے"۔

دونوں ملکوں میں داعش مخالف اتحاد کی طرف سے جاری فضائی اور زمینی کارروائیوں کی وجہ سے داعش دباؤ میں ہے تاہم اب بھی شام اور عراق میں وسیع علاقہ ان کے قبضے میں ہے۔

داعش نے 2014 میں عراق و شام کے ایک وسیع علاقے پر قبضے کر کے نام نہاد خلاف قائم کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم امریکی اتحاد کی طرف سے جاری فضائی کارروائیوں میں اب تک اس کے متعدد ٹھکانوں کو تباہ اور ایک بڑی تعداد میں اس کے جنجگوؤں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG